دہلی

قطب مینار کی مغل مسجد ایک محفوظ یادگار ہے:مرکز

نئی دہلی ، 26 جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) مرکزی حکومت نے پیر کو دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ جنوبی دہلی کے مہرولی علاقے میں واقع مغل مسجد ایک محفوظ یادگار ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ اس نے وہاں نماز ادا کرنے پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر اپنا موقف بیان کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔ مرکز نے جسٹس منوج کمار اوہری پر زور دیا کہ وہ اس درخواست پر ہدایات لینے کے لیے مزید وقت دیں جو قطب کمپلیکس کے اندر واقع لیکن قطب احاطہ کے باہر واقع مسجد سے متعلق ہے۔

مرکز کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ کرتیمان سنگھ نے کہا کہ مسجد سے متعلق ایک معاملہ ساکیت کی نچلی عدالت میں بھی چل رہا ہے۔ اس سلسلے میں دلائل دیتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کے وکیل وجیہہ شفیق نے کہا کہ ساکیت عدالت میں زیر التوا معاملہ ایک اور مسجد سے متعلق ہے۔ایڈوکیٹ ایم سفیان صدیقی، دہلی وقف بورڈ کی منیجنگ کمیٹی کی طرف سے پیش ہوئے۔عدالت سے اس معاملے کی جلد از جلد سماعت کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مئی2022 سے مسجد میں نماز نہیں ہو رہی ہے۔

عدالت نے معاملے کی مزید سماعت اگلی تاریخ 12 ستمبر مقرر کی ہیاور مدعا علیہان کو درخواست پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مزید وقت دیا۔14 جولائی کو عدالت نے مرکز اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو عرضی پر اپنا موقف پیش کرنے کا وقت دیا تھا۔درخواست گزار نے پھر عدالت کو بتایا کہ مسجد ایک نوٹیفائیڈ وقف پراپرٹی تھی جس میں ایک امام اور مؤذن مقرر کیا گیا تھا، نہ کہ متنازعہ قوۃ الاسلام مسجد۔ساکیت کی عدالت میں زیر التوا ایک درخواست میں قطب مینار کمپلیکس میں ہندو اور جین دیوتاؤں کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ 27 مندروں کو جزوی طور پر محمد غوری کی فوج کے ایک جنرل قطب الدین ایبک نیقوت الاسلام مسجد بنوائی تھی۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button