مضامین

قربانی سے پریشانی کیوں ؟ ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ

پچھلے سال ایک وطنی بھائی نے عیدالاضحٰی کے موقع پرمسلمانوں کوجانورکی جگہ ساگ سبزی کی قربانی کامشورہ دیاتھا اور امسال ایک دینی بھائی نےپوری فیملی کی طرف سے ایک ہی قربانی سے کام چلانے کی بات کہی ہے،اور اس بات کی دہائی بھی دی ہے کہ یہ مسلمان قرض لےلیں گے مگر قربانی ترک نہیں کریں گے۔
ایک صاحب نےعجیب وغریب منطق پیش کی ہے اور قربانی کے جانور کے بدلے پیسے کا صدقہ کرنے کا حیلہ بھی بتلایا ہے، وہ اس طرح کے قربانی کے ایام کو گزرجانے دیجئیے،پھر قربانی کے بدلے غریبوں کو وہ رقم صدقہ کردیجئے، اس طرح سے شرعی گنجائش بھی نکل جائے گی اور کام بھی بن جائے گا۔
اپنے دینی بھائیوں کی طرف سےبھی ان مشوروں اور حیلوں کو پڑھ سنکر ایسامحسوس ہورہا ہے کہ قربانی سے غیروں کےساتھ اپنوں کو بھی پریشانی ہے۔
سال بھر میں قربانی کےلیے تین دن مخصوص ہیں اور یہ ذی الحج کی دسویں،گیارہویں اور بارہویں تاریخ سلسلہ وار ہے، دسویں ذی الحج کوحدیث شریف میں بطورخاص”یوم النحر”یعنی قربانی کاخاص دن کہاگیاہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:کہ آج کے دن سب سے زیادہ ثواب کا کام خون بہانا ہے،(ترمذی شریف )
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وجہ جاننے کی کوشش کی کہ آخرجانور کے خون بہانے میں رکھا کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ؛قربانی کے جانور کے ایک ایک بال پر ایک نیکی رکھی گئی ہے،( احمد،ترمذی، وابن ماجہ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاعمل بھی مداومت کے ساتھ قربانی کرنے کا ہے،ترمذی شریف کی حدیث میں لکھا ہوا ہے کہ ہجرت کے بعد دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں رہے ہیں اور ہرسال قربانی بھی کرتے رہے ہیں،
اسی لیے ہربالغ صاحب نصاب مسلمان پر قربانی واجب ہے،بچہ اگر بہت مالدار ہے، پھر بھی اس پر قربانی ضروری نہیں ہے، اس کی وجہ سب کو معلوم ہے کہ شریعت اسلامیہ میں عبادات کا مکلف بالغ شخص ہے بچہ اور نابالغ نہیں ہے۔شریعت نے اسی لیے قربانی کا مطالبہ بچوں سے نہیں کیا ہے۔
قربانی ایک مالی عبادت ہے، مالی عبادتوں میں اتنی گنجائش ضرورملتی ہےکہ دوسرے شخص کی طرف سے ادا کی جاسکتی ہے یعنی بیوی کی طرف سے اگر شوہر قربانی کردے توادا سمجھی جائے گی اور وہ اس سے بری الذمہ ہوجا ئے گی،
بغیر ادا کیے یہ مالی عبادت ذمہ سے ساقط ہونے والی نہیں ہے، فیملی کے ہر فرد کو اپنے اپنے حصہ کی عبادت کرنی ہوگی تبھی اس سے وہ سبکدوش ہوسکیں گے ،یا اس کی طرف سے کوئی دوسرا بھی کردےتو یہ عبادت ادا سمجھی جائے گی ورنہ ترگ واجب کا گنہ گارہوگا،اوروہ اس سے نکل نہیں پائے گا،
جو صاحب غفلت کی وجہ کر قربانی کے ایام میں قربانی نہیں کرپائے ہوں،اور قربانی کے تینوں ایام گزرگئے ہوں توشریعت اسلامیہ میں اس شخص کے لیے مسئلہ قضا کرنے کا ہے،جس طرح نماز وقت پر پڑھی جاتی ہے تو ادا کہلاتی ہے، اور وقت نکل جانے پر قضا کرنی پڑتی ہے،اسمیں بھی اس شخص کو نماز پڑھنی پڑتی ہے، اسی طرح قربانی جب نہ کرسکے تو بطور قضا قربانی کے جانور کا صدقہ کرنا پہلے نمبر پر ہے،چونکہ اس کی حیثیت مالی عبادت کی ہے لہٰذا بندہ کو اختیار ہے کہ وہ جانور کی قیمت کو بھی صدقہ کرسکتا ہے ،فتح القدیر (۴۳۶/۸)
سوچنےوالی بات یہ ہے کہ جانور کی قربانی سے بھاگنے والوں کے لیے قربانی کے ایام گزرجانے کے بعد بھی خیر نہیں ہے،کسی نہ کسی شکل میں قربانی کا جانور اس کا پیچھااب بھی کررہا ہے، اس سے راہ مفر نہیں ہے، یہ ایک ضروری عمل ہے، مذکورہ مسئلہ میں غفلت کی بات لکھی ہوئی ہے اور اگر کوئی دانستہ اس سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور عبادات میں حیلے اپناتا ہے، ایسا شخص سنت وشریعت کا تمسخر کرتا ہے، اور اپنی تخلیقی مقصد سےسرموانحراف کرکے خدا سےجنگ مول لے رہا ہے، "اعاذنا اللہ من ذلك”
آج ہمیں قربانی کے مزید دودنوں کی حکمت سے بھی آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کہ آخر عید قرباں تو دسویں ذی الحج کا نام ہے، مزید دودن کا کیا کام ہے؟
یہ ہر صاحب ایمان کو جاننا چاہیے کہ قربانی کے مزید دودن اسی لیے دیے گئے ہیں کہ جو صاحب نصاب ایمان والا بندہ پہلے دن اپنی قربانی کسی وجہ سے نہ کرسکا تو دوسرے دن کرلے،اگر دوسرے دن بھی کوئی عذر پیش آگیا تو تیسرے دن اس بڑی ذمہ داری کو ادا کرے، اور قربانی کے عمل کے ذریعہ ایک ایک بال پر اجر کا حقدار بن جائے،افسوس کہ کم علمی کی بناپر ہم نےآج ان دنوں کو باری میں بدل دیا ہے،عیدگاہ میں ہی یہ پلاننگ کی جاتی ہے کہ آج آپ اپناوالاجانور قربان کردیجئے، سب مل بانٹ کرتازہ گوشت کھالیں گے، آئندہ کل میری باری ہے،بقول شاعر
آج وہ کل ہماری باری ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سامنے اس مبارک عمل کا بے پناہ اجر تھا،اور خالص مقصد اجر وثواب اور رضائے الہی تھا،اور آج ہمارے سامنے گوشت ہی گوشت ہے،اسی لیے یہ چوک ہم سے ہورہی ہے کہ ایک فیملی کے لیے تو ایک ہی جانور کافی ہے، یہ انفرادی قربانی کیا ضروری ہے؟اسقدر گوشت پوری فیملی کے لیے کافی وشافی ہے،گویا جس طرح فیملی پلاننگ کی تحریک اس وقت زوروں پر ہے اسی سے ملتی جلتی یہ قربانی پلاننگ کی شروعات کردی گئی ہے، ان دونوں ہی کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے، یہ سوچ سنت وشریعت سے ہٹی ہوئی ہے اور اسلام سے مسلمانوں کوبےگانہ کرنے والی ہے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اجرکی خاطر اور رضائے الہی کوحاصل کرنے کے لیے قربانیاں کی ہے، ایک غریب جس پر قربانی واجب نہیں ہے، وہ اس اجر سے محروم ہوتا ہے، آقائے نامدار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر جانور غریبوں کے نام پر بھی قربان کیا ہے۔دراصل اس کےاجر وثواب کو غریبوں کے نام کیاہے۔
آج ہمیں قربانی کرتے وقت مقروض ہونے کا خیال آرہا ہے،اور یہ طنز بھی کیا جاتا ہے کہ مسلمان قرض لیکر قربانی کرتا ہے، استاد گرامی قدر فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی نے کتاب الفتاوی میں مسئلہ تحریر فرمایا ہے کہ "بنیادی ضروری اشیاء، رہائشی مکان،استعمالی سواری اور استعمالی کپڑوں کے علاوہ جو کچھ اس کی املاک ہوں وہ اتنی ہوں کہ اگر بیچ دی جائیں تو قرض ادا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھےباون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر اس کے پاس بچ رہے ہوں تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہے، جیسے دوسرے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرض لینا درست ہے ایسے ہی اس مقصد کے لیے قرض لینا درست ہے۔
موجودہ وقت جو ہم سے بے شمار قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے، ایسے وقت میں اس واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کا بھی اہتمام ضروری ہے،
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں تو ایک قربانی آپ کی طرف سے کرتا ہوں،یہ ابوداؤد شریف کی حدیث ہے،آج حضرت علی کی اس سنت کو بھی زندہ کرنے کا موقع ہے،آقائے نامدار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر،اماں جان حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وجملہ امہات المومنین کی طرف سے،اپنے مرحومین کےنام پر قربانی دیکر بے پناہ اجر اور قربانی کے مزاج کو زندہ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
ابھی چند سالوں سے جب سے شوشل میڈیا کا شباب آگیا ہے اور ملک میں ایک خاص فکر کی حامل حکومت وجود میں آئی ہے،تسلسل کے ساتھ اس بات کی کوشش ہورہی ہے کہ مسلمانوں کو قربانی سے دور کردیاجائے، افسوس کی بات تو یہ ہےکہ اس صف میں ہمارے دینی بھائی بھی آگئے ہیں،اس چال کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۴/ذی الحج ۱۴۴۳ھ

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button