بنگلور

قائد الاحرار مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ کی وفات ملت اسلامیہ کیلئے عظیم خسارہ اور ایک عہد کا خاتمہ ہے

قائد الاحرار کے انتقال پر مرکز تحفظ اسلام ہند کی دعائیہ نشست ، حضرت قائد الاحرار ہمارے لئے ایک مشفق باپ کی طرح تھے : محمد فرقان

بنگلور، 15؍ ستمبر (ہندوستان اردو ٹائمز) عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت، مسلمانانِ ہند کی قدآور اور عظیم رہنما، مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اعلیٰ، مجلس احرار اسلام ہند کے قومی صدر، پنجاب کے شاہی امام، تحریک تحفظ ختم نبوت کے سپہ سالار، ہزاروں تحریکوں، تنظیموں اور اداروں کے سرپرست، لاکھوں مریدین کے کامل شیخ طریقت، صاحب السیف، مجاہد ختم نبوت، شیر اسلام، قائد الاحرار حضرت اقدس مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مورخہ 02؍ صفر المکرم 1443ھ مطابق 10؍ ستمبر 2021ء شبِ جمعہ اس دارفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئے۔ انکے انتقال کی خبر پھیلتے ہی عالم اسلام بالخصوص مسلمانانِ ہند پر غم و افسوس کا بادل چھا گیا۔ ہنگامی طور پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے اراکین نے تدفین کی دوسری رات ایک آن لائن زوم پر دعائیہ نشست منعقد کی۔ جس میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا محمد ریاض الدین مظاہری، بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان، آرگنائزر حافظ محمد حیات خان، اراکین حافظ محمد عمران، حافظ نور اللہ، عمیر الدین، عمران خان، انعامدار خضر علی وغیرہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر حضرت قائد الاحرار کے ایصال ثواب کیلئے مرکز کے اراکین نے ایک قرآن مجید کی تلاوت کی۔ مرکز کے سرپرست مولانا محمد ریاض الدین مظاہری نے حضرت کی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعا کروائی بعد ازاں جانشین قائد الاحرار حضرت مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی صاحب کے نام ایک تعزیتی مکتوب میں مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ حضرت کے وصال کی خبر یقیناً ناقابل تحمل ہے، جو بندہ کیلئے بالخصوص اور پوری ملت اسلامیہ کیلئے بالعموم سوہان روح ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت کے چلے جانے سے عموماً پوری ملت اسلامیہ بالخصوص بندۂ ناچیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ جب سے ہوش سنبھالا ہے حضرت سے گہرا تعلق رہا اور ہر مسئلے میں حضرت کی رہنمائی حاصل رہی۔ وہ ہمارے قائد و سرپرست ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے پیر و مرشد بھی تھے۔ بلکہ حضرت بندۂ ناچیز کو ایک مشفق والد کی طرح چاہتے تھے اور ہمیشہ شفقت پیدری سے نوازتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ ناچیز کو کبھی نام سے یاد نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیشہ بیٹا کہ کر ہی یاد فرمایا کرتے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ قلم تو جملہ پسماندگان و متعلقین سے تعزیت کیلئے اٹھایا تھا لیکن آج بندہ غموں سے اتنا نڈھال ہیکہ خود کو تعزیت کا محتاج سمجھتا ہے۔ لیکن نوشۂ تقدیر کو کیا کرسکتے ہیں۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے فرمایا کہ حضرت علیہ الرحمہ کی ذات گرامی اور کارنامے کسی سے مخفی نہیں۔

حضرت ایک باصلاحیت اور بے باک و نڈر عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شریف النفس، خوش اخلاق، متواضع، حلیم و بردبار اور متقی و پرہیزگار شخص بھی تھے۔ انکا شمار ان بزرگ ترین ہستیوں میں ہوتا ہے جنکے دینی، علمی و سماجی خدمات سے تاریخ کے بے شمار باب روشن ہیں۔ انکی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ انکی پوری زندگی دین و اسلام بالخصوص تاج ختم نبوت کی حفاظت کی خدمت سے عبارت تھی۔ انکی ذات عالیہ پوری ملت اسلامیہ بالخصوص مسلمانانِ ہند کیلئے قدرت کا عظیم عطیہ تھی۔ جو ہر محاذ پر ملت اسلامیہ ہندیہ کی رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ استقلال، استقامت، عزم بالجزم، اعتدال و توازن اور ملت کے مسائل کیلئے شب و روز متفکر اور رسرگرداں رہنا حضرت قائد الاحرار علیہ الرحمہ کی خاص صفت تھی۔ انکی بے باکی اور حق گوئی ہر خاص و عام میں مشہور تھی۔ وہ ایثار و قربانی اور صبر و استقامت کے پیکر مجسم تھے۔ جنہیں نہ تو کسی بڑے سے بڑے نفع کا لالچ اور نہ ہی کسی بڑے سے بڑے نقصان کا خوف اپنے موقف برحق سے ہٹا سکتا تھا۔ انکی ایک آواز پر جہاں ملت اسلامیہ کا ایک بڑا طبقہ لبیک کہتا تھا وہیں دشمن پر انکا رعب اس طرح تھا کہ دشمن ڈر بھاگتا ہے۔ وہ قادیانیوں اور فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے شیشہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہتے۔ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنے خاندان کی روشن روایات اور مشن کو بہت خوبصورتی کے ساتھ آگے بڑھایا اور ہر محاذ پر مسلمانانِ ہند کی مثالی قیادت فرمائی۔ مجلس احرار اسلام ہند کا از سر نو احیا، قادیانیوں اور دیگر شرپسندوں کی جانب سے کئی ایک حملوں کے باوجود تحریک تحفظ ختم نبوت سے مضبوط وابستگی، باطل طاقتوں اور حکومت وقت کے آگے احقاق حق و ابطال باطل کے فریضے کی انجام دہی، پنجاب میں مساجد کی بازیابی اور آبادکاری اور دینی تعلیم کا فروغ جیسے کئی ایک لائق رشک انکے حیات کے پہلو ہیں۔ بالخصوص مجلس احرار اسلام ہند کے پلیٹ فارم سے حضرت نے تحفظ ختم نبوت کی جو تحریک چلائی وہ ناقابل فراموش ہے۔ وہ یقیناً علماء لدھیانہ کے سچے وارث اور امین اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے سپہ سالار اور مجاہد تھے۔ محمد فرقان نے کہا کہ آج جہاں ہم سب اپنے سرپرست و قائد سے محروم ہوگئے وہیں مرکز تحفظ اسلام ہند بھی اپنے سرپرست اعلیٰ سے محروم ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ جب مرکز تحفظ اسلام ہند کی بنیاد رکھی تو حضرت نے بڑے قیمتی مشوروں سے نوازا اور اسکی سرپرست بھی قبول فرمائی اور تاحیات اسکی سرپرستی فرماتے رہے، بلکہ مختلف پروگرامات اور کانفرنسوں کی حضرت نے باقاعدہ سرپرستی و صدارت فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عجیب منشاء ہیکہ حضرت کے زندگی کا آخری خطاب بھی مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد تحفظ القدس کانفرنس کے افتتاحی نشست کی صدارتی خطاب کے طور پر ہوا۔ جس کے بعد انکے علم کے مطابق حضرت نے کسی کانفرنس یا اجلاس سے خطاب نہیں کیا ہے۔ حضرت علیہ الرحمہ کے انتقال سے مرکز تحفظ اسلام ہند کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ مرکز کے بانی محمد فرقان نے فرمایا کہ انتقال سے قبل جب حضرت بغرض علاج چنئی منتقل ہوئے تو وہ حضرت سے مسلسل رابطے میں رہے۔ انتقال سے بس چار پانچ دن قبل ہی حضرت سے انکی بات ہوئی تھی لیکن کسے معلوم تھا کہ وہ انکی آخری بات ہورہی ہے اور چند لمحے بعد وہ سب کو داغ مفارقت دیکر اس جہاں فانی سے کوچ کر جائیں گے۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ آج ہم سب بلکہ پوری ملت اسلامیہ غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ لیکن موت برحق ہے، ہر ایک کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ حضرت کی جدائی سے ہم سب صدمے میں برابر کے شریک ہیں۔ یہ بڑی آزمائش کی گھڑی ہے لیکن ہمیں صبر کا دامن تھام کر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونا ہوگا۔

حضرت کا اس طرح سے اچانک پردہ فرما جانے سے یقیناً ملت اسلامیہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، بلکہ تحریک تحفظ ختم نبوت کے میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ انکا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس رنج و ملال کے موقع پر ہر ایک تعزیت کا مستحق ہے۔ لہٰذا وہ خصوصاً حضرت کے جانشین مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کے، حضرت کے چھوٹے فرزند مجاہد طارق لدھیانوی، حضرت کی صاحبزادی، حضرت کی اہلیہ ماجدہ، حضرت کے دونوں بھائی عبید الرحمن لدھیانوی اور عتیق الرحمن لدھیانوی سمیت جملہ پسماندگان کے، اور حضرت کے تمام محبین، متعلقین، مریدین و تلامذہ اور تمام احراریوں کے اور عموماً پوری ملت اسلامیہ کے غم و افسوس میں برابر شریک ہیں اور اپنی جانب سے اور تمام اراکین مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے تعزیت مسنون پیش کرتے ہیں۔ اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا کی مغفرت فرماتے ہوئے انکی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور انکے نہ رہنے سے جو کمی ہوئی ہے اسکی تلافی فرمائے، اسکا نعم البدل عطاء فرمائے۔ نیز مرحوم کو جوار رحمت اور اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہم سب کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close