بہارپٹنہ

"فیملی پلاننگ،اولاد کی کثرت اور ہندوستانی مسلمان "کے موضوع پر شعبہ تخصص فی الافتاء جامعہ رحمانی مونگیر میں محاضراتی نشستوں کا انعقاد

مونگیر: (رپورٹ از : اسلم جمال قاسمی) آج بتاریخ؛ 19 /جنوری 2023ء بروز جمعرات، تخصص فی الافتاء جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے زیر اہتمام محاضرہ بہ عنوان” فیملی پلاننگ، اولاد کی کثرت اور ہندوستانی مسلمان” کے موضوع پر عظیم اور شاہکار پروگرام منعقد ہوا۔
یہ پروگرام دونشستوں پر مشتمل تھا ۔ پہلی نشست دن کے١٠:٤٥ بجے صبح تا 1/بجے دن اور دوسری نشست بعد نماز مغرب تا عشاء تخصص فی الافتاء کی درسگاہ میں منعقد ہوئی ۔

اس پروگرام کی صدارت و نظامت کے فرائض صدرِ شعبہ حضرت مولانامفتی جنید احمد قاسمی صاحب زید مجدہ نے انجام دیئے، انہوں نے اپنے خطبہ صدارت میں شعبہ افتاء کے مقاصد، اہداف، اور تمام تر علمی و تحقیقی سرگرمیوں سے حاضرین و صادرین کو واقف کرایا ۔ اور مہمان خصوصی / محاضر کا تعارف بیش بہا اور قیمتی کلمات کے ساتھ پیش کیا ۔
خطبہ صدارت کے بعد محاضرہ پیش کرنے کے لیےدار العلوم دیوبند کے سابق معین مدرس، دار العلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پٹنہ کے سابق صدر المدرسين اور مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے کے ناظم تعلیمات حضرت مولانا مفتی محمد خالد حسین صاحب قاسمی نیموی تشریف لائے اور انہوں نے بڑے ہی محقق و مدلل انداز میں پہلی نشست میں "فیملی پلاننگ کی شرعی حیثیت ” جبکہ دوسری نشست میں "اولاد کی کثرت اور ہندوستانی مسلمان” کے موضوع پر انتہائی مفصل اور مواد سے بھرپور محاضرہ پیش فرمایا۔

پہلی نشست کا محاضرہ تقریباً سوا دو گھنٹوں پر مشتمل تھا ۔ آپ نے پہلی نشست کے محاضرے میں نو آیات، متعدد احادیث اور مختلف آثار و اقوال فقہاء رحمہم اللہ سے یہ ثابت کیا کہ بلاکسی شدید مجبوری کے نس بندی کرانا یا حمل ضائع کرانا جائز نہیں ہے ۔ بچوں کو دین کی بنیادی تعلیم دینے یا دلوانے کی حد تک ماں باپ پر ضروری اخراجات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر یا ماسٹر بنانا ماں باپ کے ذمہ نہ فرض ہے اور نہ واجب۔ اضافی تعلیم دلوانا ماں باپ پر( اگر وہ اس کی حیثیت نہیں رکھتے) تو لازم نہیں ہے ۔ اس کی وجہ سے مانع حمل دواؤں کے استعمال کی اجازت نہیں ہے ۔ اور اگر کسی طرح کی جسمانی طور پر عورت اور گود میں پل رہے بچے کی جسمانی مجبوری نہیں ہے تب بھی ان دواؤں کے یا کسی تدبیر کے اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ مہمان مکرم نے بتایا کہ صرف قلت معاش کے اندیشوں کی وجہ سے حمل کو ضائع کرنا یا نس بندی کرانا درست نہیں ہے ۔ عورت کی صحت کو ٹھیک رکھنے کے لیے کچھ ماہ کے لیے عارضی طور پر مانع حمل ادویات کے استعمال کی اجازت دی جا سکتی ہے؛ لیکن بغیر کسی مجبوری کے بہت لمبے عرصے تک دواؤں کا استعمال کرنا یا عزل کرنا درست رویہ نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ مہمان مکرم نے شرعی اور دینی نقطہ نظر سے فیملی پلاننگ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ۔ آپ کا یہ محاضرہ ٢٣ صفحات پر اور مغرب بعد تا عشاء کا محاضرہ ٧ صفحات پر مشتمل تھا ۔ اصول کے مطابق شعبہ تخصص فی الافتاء کو انھوں نے دو دنوں پہلے ہی دونوں محاضرے سپرد کر دئیے تھے ۔ تاکہ طلبہ عزیز پہلے سے ہی مواد کا مطالعہ کر لیں ۔

دوسری نشست کے محاضرے کا موضوع تھا: "اولاد کی کثرت اور ہندوستانی مسلمان "۔ مہمان محترم نے اس نشست میں حکومت میں بیٹھی طاقت کے فریب کا پردہ چاک کیا ۔ مسلمانوں کو کثرت آبادی کا طعنہ دینا فریب اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں؛ کیوں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ہندوؤں کے مقابلے میں تشویشناک حد تک گھٹا ہے ۔اس سلسلے میں مسلمانوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے ۔ اسی طرح مسلمانوں میں تعدد ازدواج کا تناسب پہلے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے بلکہ اور مذہب کے ماننے والوں سے بھی کم ہے ۔ اس پر مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے اور اپنی آبادی بڑھانے کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔
بہر حال حضرت مہمان مکرم نے مختلف گوشوں پر جداگانہ انداز میں روشنی ڈالی ۔شریعت کی روشنی میں فیملی پلاننگ کے احکام اور اس کے حدود بتاتے ہوئے حکومتی پروپیگنڈے، روک تھام، قانون سازی اور چیلنجز کو واضح انداز میں بیان کیا، اس سے بچاؤ کی تدابیر اور اس کا بہترین حل پیش کیا ۔
یہ پروگرام، مشترکہ دونوں نشستوں کے تقریباً 5/گھنٹوں پر مشتمل رہا، جس میں اساتذۂ جامعہ ھذا اور طلبہ تخصص فی الافتاء کے ساتھ ساتھ دیگر علیاء درجات کے طلبہ بھی شریک رہے ۔
نشست دوم کا آخری آدھا گھنٹہ دونوں موضوع سے متعلق سوالات و جوابات کے لیے متعین کیا گیا تھا ، جس میں طلبہ نے اپنے سوالات پیش کئے ۔ محاضر صاحب نے بڑے ہی واضح اور سہل انداز میں، پر اطمنان طریقے سے جوابات عنایت فرمائے۔
خلاصہ یہ کہ مذکورہ محاضرہ طلبہ و اساتذہ کے لیے بہت ہی کامیاب اور بیش بہا ثابت ہوا ۔
آخر میں انتظامیہ، طلبہ تخصص فی الافتاء اور بالخصوص اس شعبہ کے صدر جناب مولانا مفتی جنید احمد قاسمی دامت فیوضہم نے مہمان گرامی اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کلمات تبریک کے ساتھ پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا ۔
پروگرام میں طلبہ عزیز کے علاوہ جامعہ رحمانی کے مؤقر استاذ جناب مولانا مفتی شمشیر حيدر قاسمی صاحب ، مولانا مشاہد حسین ندوی صاحب، مولانا محمد نور الدين ندوی صاحب ،مولانا محمد قیام الدین قاسمی سیتا مڑھی صاحب، صحافی جناب فضل رحمں رحمانی صاحب بطور خاص شریک رہے ۔
پروگرام کو جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت سے وابستہ جناب شاہد رحمانی صاحب اور دار الحکمۃ کے طالب علم مشکور شمسی نے ریکارڈ کیا ۔ اور ایڈیٹ کرکے فکر و نظر چینل پر اپلوڈ کیا ۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button