فقہ و فتاوی

کورونا کے ماحول میں شریعت کی رہ نمائی : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

کورونا کی دوسری لہر زیادہ خطرناک رہی _ اس میں مرض نے شدّت اختیار کی ، بہت سے لوگ اس کی لپیٹ میں آئے ، خاصی تعداد میں لوگوں کا انتقال ہوا ، بہت بڑی تعداد ملازمتوں یا روزگار سے محروم ہوئی ، اس بنا پر انہیں معاشی طور پر بہت پریشانی رہی ، دیگر مسائل ، جو کورونا کی پہلی لہر میں پیش آئے تھے ، وہ دوسری لہر میں بھی اپنی شدّت کے ساتھ باقی رہے _ اس پس منظر میں جماعت اسلامی ہند ، تامل ناڈو کے رابطۃ العلماء (منطقہ اردو) نے ایک ہفتہ کے لیے لیکچر سیریز کا پروگرام بنایا ، تاکہ وابستگانِ جماعت کی ذہن سازی ہو ، ان کا اضطراب دور ہو اور انہیں شرعی رہ نمائی حاصل ہو _ افتتاحی پروگرام میں انھوں نے مجھے دعوت دی _ میں نے ان کے سامنے جو گفتگو کی اس کے نکات درج ذیل ہیں :

(1) انسانوں اور خاص طور پر اپنے قریبی عزیزوں کی کورونا میں موت دیکھ کر دہشت طاری ہوتی ہے ، لیکن اگر یہ عقیدہ اپنے دلوں میں راسخ اور تازہ رکھا جائے کہ ہر شخص کی موت کا وقت متعیّن ہے تو یہ دہشت ختم یا کم ہوسکتی ہے _ قرآن مجید میں بار بار کہا گیا ہے : "ہر ایک کو موت کا مزہ چکھنا ہے _ (آل عمران : 185 ، العنكبوت : 57 ، الانبیاء : 35) ” جب کسی کی موت کا وقت آجائے گا تو ایک لمحہ پہلے موت آئے گی نہ ایک لمحہ بعد _”( الأعراف :34 ، یونس : 49 ، النحل :61، المؤمنون : 43 ، المنافقون :11 ، نوح :4) تو جب موت کا وقت متعیّن ہے تو گھبرانا کیسا؟

(2) لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پھر علاج معالجہ میں دل چسپی نہ لی جائے اور یہ سوچ لیا جائے کہ چاہے علاج کرایا جائے یا نہ کرایا جائے ، مرنا تو اپنے وقت پر ہے _ بعض لوگ اسے تقدیر اور مشیّتِ الٰہی سے جوڑتے ہیں اور ‘توکّل’ کا نام دیتے ہیں ، حالاں کہ یہ صحیح نہیں ہے _ یہ سوچ عہدِ نبوی میں بھی بعض لوگوں کی تھی _ ایک موقع پر انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا : ” اگر ایسی بات ہے تو پھر علاج کی کیا ضرورت ہے؟” آپ ص نے جواب دیا : ” اے اللہ کے بندو ! علاج کراؤ _ اللہ نے جتنی بیماریاں نازل کی ہیں ، ہر ایک کا علاج بھی نازل کیا ہے ، سوائے بڑھاپےاور موت کے _”
( ابوداؤد :3855 ، ترمذی : 2038) ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا : ” میں اونٹ کو باندھ کر اللہ پر توکل کروں یا کھلا چھوڑ کر؟” آپ ص نے جواب دیا : ” اسے باندھو ، پھر اللہ پر توکّل کرو _ ” (ترمذی :2517)

(3) تعدیہ (Infection) کو اسلام تسلیم کرتا ہے _ ایک حدیث میں ہے : لا عَدوَی (انفیکشن نہیں ہوتا) ، لیکن اس کا مطلب انفیکشن کا انکار نہیں ہے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ انفیکشن بذاتِ خود مؤثر نہیں ہے _ کسی کو ہوگا یا نہیں ، یہ اللہ کی تقدیر پر منحصر ہے _ اس لیے اسی حدیث میں آگے ہے کہ جب آپ ص نے فرمایا : ” انفیکشن نہیں ہوتا _” تو ایک شخص نے عرض کیا :” ہم تو دیکھتے ہیں کہ انفیکشن ہوتا ہے _ کسی جگہ صحت مند اونٹ ہوتے ہیں ، وہاں ایک خارش زدہ اونٹ پہنچ جاتا ہے تو سب کو اس مرض میں مبتلا کردیتا ہے _” اس پر آپ ص نے فرمایا : ” اُس پہلے اونٹ کو کس نے مرض میں مبتلا کیا تھا؟” ( بخاری : 5717 ، مسلم : 2220)

(4) جب انفیکشن تسلیم شدہ ہے تو اس سے بچنا ضروری ہے _ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جذام میں مبتلا شخص سے اس طرح دور رہو جیسے شیر سے بھاگتے ہو _” ( بخاری : 5707 ، مسلم : 2220) ایک وفد میں شامل ہوکر ایک جذامی شخص حضور سے بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : ” تم واپس جاؤ _ تم سے ہاتھ ملانا ضروری نہیں _ سمجھ لو کہ تم سے بیعت ہوگئی _” ( مسلم: 2231) آپ ص نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا : ” کسی مریض (اونٹ) کو صحت مند (اونٹ) کے پاس نہ لے جایا جائے _ (بخاری : 5771 ، مسلم: 2220)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انفیکشن ایک سائنسی حقیقت ہے ، اسے تسلیم کیا جانا چاہیے اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہییں _

(5) جب کوئی متعدی مرض بہت بڑے پیمانے پر پھیلتا ہے تو اسے ‘وبا’ کہتے ہیں _ اس میں مزید سخت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے _ اس لیے کہ اس معاملے میں بے احتیاطی سے بہت بڑی آبادی کے متاثر اور جاں بحق ہونے کا اندیشہ رہتا ہے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ہدایت فرمائی ہے _ عہد نبوی میں طاعون ایک وبائی مرض تھا _ اس کے سلسلے میں آپ نے ارشاد فرمایا : ” جب تمھیں کسی علاقے میں طاعون کی خبر ملے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر وہ کسی علاقے میں پھیلا ہوا ہو اور تم وہاں ہو تو وہاں سے نکل کر دوسری جگہ نہ جاؤ _” (بخاری : 5728)

وبا کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا عقیدۂ تقدیر کے خلاف نہیں ہے _ یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے معلوم ہوتی ہے _ ان کے عہدِ خلافت میں شام میں طاعون کی وبا پھیل گئی _ وہ مسلم فوج سے ملنے وہاں جا رہے تھے ، راستے میں اس کی خبر ملی تو انھوں نے اہلِ رائے سے مشورہ کرکے واپسی کا فیصلہ کیا _ اس پر ایک صاحب نے کہا : ” کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟” حضرت عمر نے بڑا پیارا جواب دیا _ فرمایا : ” ہاں ، ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں _” ( بخاری : 5729)

اس بنا پر اگر وبا کے دوران میں ماسک لگایا جارہا ہے ، سینیٹائزر استعمال کیا جا رہا ہے اور سماجی فاصلہ اختیار کیا جارہا ہے تو یہ تعلیماتِ نبوی کے عین مطابق ہے _

(6) دین کے جتنے احکام ہیں سب عام حالات سے متعلق ہیں _ اگر عذر ہوگا تو رخصت ہوگی اور جتنا عذر ہوگی اتنی رخصت ہوگی _ نماز کے لیے وضو ضروری ہے ، لیکن پانی نہ ملے ، یا بیماری کی وجہ سے وضو ممکن نہ ہو تو تیمم کا حکم ہے _ نماز میں قیام ضروری ہے ، لیکن عذر ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے ، بیٹھ کر پڑھنا ممکن نہ ہو تو لیٹ کر پڑھی جاسکتی ہے _

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” نمازوں کی ، خصوصاً درمیانی نماز کی حفاظت کرو اور اللہ کے آگے با ادب کھڑے رہا کرو _ اگر تمھیں خوف ہو تو خواہ پیدل ہو یا سوار ، جس طرح ممکن ہو ، نماز پڑھو _ پھر جب تمہیں امن میسر آجائے تو اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو جو اُس نے تمہیں سکھا دیا ہے ، جس سے تم پہلے نا واقف تھے _ ( البقرۃ :238_239)

ظاہر ہے ، خوف کی حالت میں سواری پر بیٹھ کر باجماعت نماز پڑھی جائے گی تو نمازیوں کے درمیان فاصلہ بھی رہے گا اور صف بھی سیدھی نہیں رہے گی ، لیکن نماز کی تاکید کے ساتھ ان چیزوں کو گوارا کیا گیا _ پھر خوف چاہے ظاہری دشمن کا ہو یا کورونا وائرس جیسے نادیدہ دشمن کا ، دونوں کا حکم یکساں ہے _ چنانچہ عام حالات میں چہرہ ڈھک کر اور نمازیوں کے درمیان فاصلہ رکھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ، لیکن وبا کے دوران میں اس کی اجازت ہوگی _ عام حالات میں پنج وقتہ نمازیں اور نماز جمعہ مسجد میں ادا کرنے کا حکم ہے ، لیکن وبا کے دوران میں گھر میں پڑھنے کی اجازت ہے _ عام حالات میں عیدین کی نمازیں عید گاہ یا مسجد میں پڑھی جائیں گی ، لیکن وبا کے دوران میں گھر پر پڑھی جاسکتی ہیں _ عام حالات میں مسجد میں ایک نماز کی دو جماعتیں کرنے کی ممانعت ہے ، لیکن وبا کے دوران میں اس کی گنجائش ہے _ اس طرح کے دیگر احکام میں بھی رخصت پر عمل کیا جاسکتا ہے _

(7) عام حالات میں انسانوں کی خدمت کرنے ، ان کے کام آنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کی ذات سے دوسرے انسانوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے _”
(صحیح الجامع :3289) ایک حدیث قدسی میں ہے کہ جس نے کسی بھوکے کو کھانا کھلایا ، یا کسی پیاسے کو پانی پلایا ، یا کسی مریض کی تیمارداری اور مدد کی ، اس نے گویا اللہ کو کھلایا ، اللہ کو پلایا اور اللہ کی تیمارداری کی _ ( مسلم : 2569) وبا کے ماحول میں ، جب لوگ سخت پریشان ہوں اور بھکمری سے دوچار ہوں ، رفاہی خدمات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے _

(8) رفاہی خدمات کے مستحق جس طرح مسلمان ہیں اسی طرح دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی ہیں _ مذہب کا اختلاف ان کی مدد اور تعاون میں رکاوٹ نہیں بنتا ، بلکہ انسانیت کی بنیاد پر سب کا تعاون کیا جائے گا _ قرآن مجید میں ہے : ” اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔” (الممتحنۃ :8) لیکن ان کا تعاون کرتے ہوئے ہر حال میں شرعی حدود کو ملحوظ رکھا جائے گا اور کوئی ایسا کام نہیں کیا جائے گا جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی _ مثال کے طور پر کسی غیر مسلم کا انتقال ہوجائے اور اس کی آخری رسوم انجام دینے والا کوئی نہ ہو ، یا اس کے رشتے دار اس سے بھاگیں تو مسلمان یہ کام کرسکتے ہیں ، اس کی ارتھی کو شمشان گھاٹ تک بھی لے جاسکتے ہیں ، لیکن لے جاتے ہوئے نہ شرکیہ جملے ادا کریں نہ چتا کو آگ لگائیں _

(9) مسلمانوں کا ایک دوسرے پر حق ہے کہ ان میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اس کی نعش کو غسل دیں ، کفن پہنائیں ، نمازِ جنازہ پڑھیں ، پھر قبرستان میں لے جاکر دفن کریں _ لیکن یہ حکم بھی عام حالات کے لیے ہے _ اگر ان میں سے کسی کام کی انجام دہی میں کوئی عذر یا زحمت ہو تو وہ حکم ساقط ہوجائے گا _ کورونا میں وفات ہونے کی صورت میں اگر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے غسل اور تکفین ممکن ہو تو بہتر ہے ، ورنہ اسی حالت میں نماز جنازہ پڑھنے کے بعد دفن کیا جاسکتا ہے _

(10) وبائی مرض سے حفاظت کے لیے ویکسین ایجاد کی گئی ہے _ یہ علاج نہیں ، تحفظی تدبیر ہے _ اصل چیز قوتِ مدافعت کی تقویت ہے _ ویکسین لگوائے بغیر بھی کسی شخص کے جسم میں قوتِ مدافعت قوی ہو تو وہ مرض سے بچ سکتا ہے ، اس بنا پر ویکسین لگوانا ضروری نہیں _ لیکن اگر کوئی ویکسین لگوانا چاہے تو اس کی اجازت ہے _ اگر ویکسین میں کوئی حرام جز شامل ہے تو بھی ویکسین لگوانے کی گنجائش ہے ، اس لیے کہ اوّلاً حرام چیز کی قلبِ ماہیت کے بعد اس کی حرمت ختم ہوجاتی ہے _ ثانیاً اضطراری صورت میں بقدر ضرورت حرام چیز کا استعمال جائز ہوجاتا ہے _

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close