فقہ و فتاوی

کورونا ویکسین کا شرعی حکم : مفتی خلیل الرحمن قاسمی

مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی 9611021347

اسلام ایک مکمل ضابطہئ حیات ہے۔یہ جامع دستور زندگی اورکامل نظام حیات ہے۔دعوی کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں اورمراحل کے متعلق اس میں راہنما ہدایات موجود ہیں۔عقائد،عبادات،معاملات،معاشرت،اوراخلاق حتیٰ کہ علاج و معالجہ کے متعلق سے بھی اس میں ہدایات موجود ہیں۔حکومت سے لے کر خانگی اورشخصی امور تک میں یہ ساتھ نہیں چھوڑتا۔

انسانی زندگی میں صحت اوربیماری ہمیشہ ساتھ رہنے والے مسائل ہیں- کوئی بھی انسان ہمیشہ صحتمند نہیں رہتا،بلکہ کئی دفعہ اس کو بیماریوں سے سابقہ پڑتاہے۔اس صورت میں ہمیشہ وہ اطباء اورڈاکٹروں کا رخ کرتاہے۔اوراپنا علاج تلاش کرتاہے۔

بیماری آنے کی صور ت میں اسلام تین طرح کی ہدایات دیتاہے۔اولاً جب بیماری آئے تو فوراًاللہ کی طرف متوجہ ہوجائے اورالحاح و زاری اورتضرع کے ساتھ دعا مانگی جاۓ،کیوں کہ جس طرح سے بیماری اسی کے حکم سے آتی ہے تو شفا بھی اسی کے حکم سے حاصل ہوگی۔اس کے حکم کے بغیر کوئی بیمار کبھی شفایاب نہیں ہوسکتا۔

ثانیا:صدقہ نکالے۔کیوں کہ صدقہ بلاؤں اورمصیبتوں کو ٹالتاہے،بیماریوں کو دفع کرتاہے۔

اورثالثا:علاج کی طرف متوجہ ہو،کیوں کہ رب ذوالجلال نے ہر بیماری کے ساتھ اس کی دوابھی اتاری ہے۔ایسا کوئی مرض نہیں جس کی دوانہ ہو لکل داء دواء،یہ الگ بات ہے کہ بعض مرتبہ وہ دوا انسان کی دسترس سے باہر ہوتی ہے؛مگر یہ کہنا کہ بیماری تو موجود ہے مگر اس کی دوانہیں غلط ہے۔

اس سلسلے میں اسلام کی راہنمائی اورہدایت یہ ہے کہ علاج کسی ایسے ڈاکٹر اورحکیم ہی سے کرایاجائے جواپنے فن میں ماہر ہو ۔اس کے پاس تشخیص و تجویز دونوں کا ہنر ہو۔پھر جب وہ کوئی دوا یا پرہیز تجویز کرے تو اس کی مکمل اتباع کی جائے۔پابندی کے ساتھ دوا کھائی جائے اوراہتمام کے ساتھ پرہیز کیاجائے۔

امام ابوداؤد سجستانی ؒ نے اپنی سنن میں ایک روایت نقل کی ہے:
حضرت سعد ابن وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھنے کے لئے تشریف لائے اوراپنا مبارک ہاتھ میرے سینے پر رکھا،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھنڈک میرے سینے میں پھیل گئی، پھر فرمایا:اسے دل کا دورہ پڑاہے،اس کو حارث بن کلدہ کے پاس لے جاؤ کیوں کہ وہ ماہر حکیم ہے،اوراس حکیم کو چاہیے کہ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں گھٹلیوں کے ساتھ کوٹ کراسے کھلائے۔(ابوداؤد 3875)
حدیث میں وضاحت ہے کہ علاج و معالجہ ماہرحکیم اورماہرڈاکٹر سے کراناچاہیے۔ویسے بھی مثال مشہور ہے۔
”نیم حکیم خطرہءجان۔نیم ملا خطرہءایمان“۔

اس وقت کوروناکی مہاماری عروج پر ہے،تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہواہے کہ پوری دنیا بیماری کی وجہ سے جامد و ساکت ہوئی ہے۔عالمگیر لاک ڈاؤن انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے،جوکورونا کے باعث وجود میں آیا۔نیز بہت دنوں تک تواس کی دواہی دریافت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے پوری انسانیت خوف و ہراس کا بری طرح شکارہی۔

اب جب کہ اس کی روک تھام کےلیےکوروناویکسین کی شکل میں ایک علاج سامنے آچکا ہے تو مسلمانوں کو ایک نئی پریشانی نے آگھیراکہ ”یہ دوا “ویکسین لگانا کہیں شرعا غلط تو نہیں۔کئ جگہ یہ افواہ بھی پھیلائی گئی کہ یہ حرام اجزاء سے مرکب ہے۔اس کی ترکیب وتصنیع میں سور یا انسانی اجزاء کو شامل کیا گیا ہے؛مگراس صورت حال میں مسلمانوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،اس لیے کہ ویکسین کے حواے سے یہ بات صاف ہے کہ اس کا استعمال درست ہے، جائز ہے ،کیوں کہ یاتو یہ ویکسین نباتات سے بنائی گئی ہے جیسا کہ برطانیہ میں بنائی جانے والی ویکسین کے متعلق یہ ظاہر ہوچکاہے۔یا پھر اس میں اگر کچھ حرام اجزاء کو شامل بھی کیا گیا ہے تو بھی اس کااستعمال درست ہے اس لئے کہ اس میں وہ اجزاء مکمل طورپر تبدیل ہوچکے ہیں اوریہ تبدیلی اس کی سامنے آنے والی شکل سے ظاہر ہے۔

اس لیے اگر اس کی وجہ سے انسان کی زندگی یا اس کی کسی صلاحیت پر کوئی منفی اثر یا رد عمل نہیں پڑتاہے تو اس کے استعمال کی اجازت دی جائے گی اورطبی اعتبار سے اس کے کیا مضر اثرات ظاہرسکتے ہیں؟ اور اس کامنفی اثر کیا ہوسکتا ہے ؟اس کا فیصلہ تو طبی ماہرین ہی کرسکتے ہیں۔

بعض لوگوں کے متعلق جو خبریں گردش کررہی ہیں کہ ویکسین سے نقصان ہوگیاتو اس طرح کے نقصانات اوررد عمل دیگردواؤں سے بھی ہوتے رہتے ہیں۔اس لیے ویکسین ہی کو مورد الزام ٹھہرانا عقلمندی نہیں ہے۔9611021347

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close