فقہ و فتاوی

مکان ، دوکان اور پلاٹ پر زکوٰۃ کا مسئلہ : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

میرے بہت سے احباب پریشان ہیں کہ وہ اپنے مکانوں کی زکوٰۃ کیسے نکالیں؟ مکانوں کو کرایہ پر اٹھا رکھا ہے ، یا دوکانوں سے کرایہ آتا ہے ، اس کی زکوٰۃ کیسے ادا کریں؟ انھوں نے کئی پلاٹس خرید رکھے ہیں ، وہ فروخت نہیں ہو رہے ہیں ، ان پر زکوٰۃ کیسے نکالیں؟ الحمد للہ یہ ان کی دین داری ہے کہ وہ زکوٰۃ نکالنے کے لیے بہت فکر مند ہیں _ اللہ تعالیٰ ضرور اس پر انہیں اچھا بدلہ عطا فرمائے گا _

* مکان پر زکوٰۃ؟

مکان ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے _ اس پر زکوٰۃ نہیں _ چاہے کسی کے پاس ایک مکان ہو یا دو یا تین یا اس سے زیادہ _ یہ سب مکان اس کے استعمال میں ہوں ، یا ایک استعمال میں ہو ، باقی خالی پڑے ہوں ، یا کرایے پر اٹھے ہوئے ہوں ، ان پر زکوٰۃ نہیں _

مکانوں کا کرایہ چاہے جتنا آتا ہو ، اگر وہ سال بھر سے پہلے خرچ ہوجائے تو اس پر زکوٰۃ نہیں _ اگر کرایہ کی رقم محفوظ رہے اور وہ دوسری رقموں کے ساتھ شامل ہوکر نصابِ زکوٰۃ کو پہنچ جائے تو ایک سال کے بعد اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی _

* دوکان پر زکوٰۃ؟

دوکان پر بھی زکوٰۃ نہیں، چاہے ایک دوکان ہو یا دو یا تین یا اس سے زائد _ ہاں ، دوکان میں جو مالِ تجارت اسٹاک کی شکل میں ہو ، اس پر سال گزرنے پر زکوٰۃ عائد ہوگی _

اسی طرح کارخانے اور اس کی مشینوں پر زکوٰۃ نہیں _ کارخانے میں جو مصنوعات (Products) تیار ہوں ان پر سال گزرنے پر زکوٰۃ عائد ہوگی _

ڈاکٹر کی کلینک میں جو اوزار اور مشینیں ہوں ان پر بھی زکوٰۃ نہیں _

* پلاٹ پر زکوٰۃ؟

پلاٹ اگر مکان بنانے کی نیت سے خریدا جائے تو اس پر زکوٰۃ نہیں ، چاہے چھوٹا پلاٹ ہو یا بڑا ، ایک پلاٹ ہو یا ایک سے زائد _

پلاٹ خرید تے وقت اگر کوئی متعین نیت نہ ہو ، مثلاً خریدنے والا سوچ لے کہ ضرورت پڑنے پر مکان بنالیں گے ، یا بیٹے یا بیٹی کی شادی کے موقع پر بیچ کر کام چلالیں گے ، یا انہیں تحفے میں دے دیں گے ، یا مناسب رقم مل جائے گی تو بیچ لیں گے ، وغیرہ تو اس پر زکوٰۃ نہیں _

اگر پلاٹ خریدتے وقت متعین طور سے منافع کمانے کی ہی نیت ہو ، یعنی چار پانچ سال کے بعد جب ریٹ بڑھ جائے گا تب بیچ دیں گے تو اس کی حیثیت مالِ تجارت کی ہوگی اور اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی _

اگر کئی برس سے کوئی پلاٹ فروخت نہ ہو پارہا ہو اور نقد رقم بھی اس کی زکوٰۃ نکالنے کے لیے نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اس کا حساب رکھے اور جب وہ پلاٹ فروخت ہوجائے یا رقم فراہم ہوجائے تب گزشتہ مدت کی زکوٰۃ نکال دے _

جو لوگ پلاٹس کا بزنس کرتے ہیں انہیں ان کی زکوٰۃ نکالنی چاہیے _ اب ان کو اختیار ہے کہ اگر ان کے پاس رقم ہو تو سال بہ سال زکوٰۃ نکال دیا کریں اور اگر رقم نہ ہو تو کچھ مدّت کے بعد جب پلاٹس فروخت ہوں تب گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ نکال دیں _

پلاٹس کا بزنس کروڑوں میں ہوتا ہے _ اس بنا پر زکوٰۃ بھی لاکھوں میں نکلے گی _ اس کی وجہ سے دل تنگ نہیں کرنا چاہیے _ زکوٰۃ صرف ڈھائی فی صد فرض کی گئی ہے _ مال زیادہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا فی صد نہیں بڑھ جاتا _ زکوٰۃ تو کم از کم مقدار ہے جسے ہر مسلمان کو نکالنا چاہیے _ اس سے زیادہ جتنا وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا اس کا بھرپور بدلہ پائے گا _

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close