فقہ و فتاوی

کیا عورت کی آواز کا پردہ ہے؟ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال :
جماعت اسلامی کے بڑے اجتماعات میں ، جو علاقے ، حلقے یا مرکز کی سطح پر منعقد ہوتے ہیں ، مردوں کے ساتھ خواتین بھی شریک ہوتی ہیں ۔ کیا ایسے مشترک اجتماعات میں کوئی عورت درسِ قرآن یا درسِ حدیث دے سکتی ہے ، تقریر کرسکتی ہے ، یا مذاکرے میں حصہ لے سکتی ہے؟ کہا جاتا ہے کہ نماز باجماعت میں اگر امام سے کوئی غلطی ہوجائے اور اس کو متنبہ کرنا ہو تو مردوں کو سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے ، مگر عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف دستک دیں ، زبان سے کچھ نہ بولیں ۔ جب نماز جیسی عبادت میں عورتوں کا آواز نکالنا ممنوع ہے تو مردوں کے درمیان ان کا تقریر کرنا اور درس دینا کیوں کر جائز ہوسکتا ہے؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عورت کا آواز کا بھی پردہ ہونا چاہیے ، کیوں کہ اس میں بھی بہ ہر حال کشش ہوتی ہے ۔
براہ کرم اس سلسلے میں وضاحت فرما دیں _

جواب :
یہ سوال کہ ایسے اجتماعات میں جہاں مرد بھی ہوں ، کیا عورت قرآن ، حدیث کا درس دے سکتی ہے یا تقریر کرسکتی ہے؟ دراصل ایک دوسرے سوال پر مبنی ہے کہ کیا عورت کی آواز کا پردہ ہے یا نہیں؟ اگر عورت کی آواز کا پردہ ہے کہ اجنبی مردوں کے لیے اس کا سننا جائز نہ ہو تو ظاہر ہے کہ مشترک اجتماعات میں کسی بھی طریقے سے اس کا اظہارِ خیال کرنا جائز نہیں ہوگا ۔

اس مسئلے میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ بعض فقہا عورت کی آواز کے پردے کے قائل ہیں ۔ علامہ حصکفیؒ حنفی فرماتے ہیں:
اِنَّ صَوْتَ المَرْأۃِ عَوْرَۃٌ عَلَی الرَّاجِحِ۔ (حصکفی، الدر المختار مع رد المحتار، طبع بیروت ، ۹؍۵۳۱)
’’راجح قول کے مطابق عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے ۔‘‘
اسی طرح مالکی فقہاء علامہ قرطبیؒ اور قاضی ابن العربیؒ نے لکھا ہے:
اِنَّ الْمَرْأَۃَ کُلَّھَا عَوْرَۃٌ بَدَنَھَا وَ صَوْتَھَا۔
(ابو عبد اللّٰہ القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، طبع مصر، ۱۴؍۲۲۷، القاضی ابن العربی، احکام القرآن، طبع بیروت، ۳؍۱۵۷۹)
’’عورت سراپا قابلِ ستر ہے ۔ اس کا بدن بھی اور اس کی آواز بھی ۔‘‘
اس بنا پر ان فقہاء نے نماز میں امام کی کسی غلطی پر اسے متنبہ کرنے کی صورت میں عورت کے لیے منہ سے آواز نکالنے کو منع کیا ہے ۔ لیکن بعض فقہا کا خیال ہے کہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے ۔ الموسوعۃ الفقھیۃ میں فقہ شافعی کی مشہور کتاب مغنی المحتاج کے حوالے سے درج ہے:
اَمَّا صَوْتُ الْمَرْأۃِ فَلَیْسَ بِعَوْرَۃٍ عِنْدَ الشَّافِعِیَّۃِ وَ یَجُوْزُ الْاِسْتِمَاعِ اِلَیْہِ عِنْدَ أَمْنِ الْفِتْنَۃِ۔ (الموسوعۃ ، طبع کویت ، ۳۱؍ ۴۷)
’’شوافع کے نزدیک عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے۔ فتنہ کا اندیشہ ہو تو اسے سنا جاسکتا ہے۔‘‘

قرآن مجید کی روشنی میں مؤخر الذکر فقہا کی رائے درست معلوم ہوتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے حکم دیا تھا :
اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَ قُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا (الاحزاب: ۳۲)
’’اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑجائے ، بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔‘‘

اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ عورتیں اجنبی مردوں سے بات ہی نہ کریں ، بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ وقتِ ضرورت بات کرتے وقت وہ اپنی آواز میں لوچ اور نرمی پیدا نہ کریں اور ان کی باتیں صاف ، بے آمیز اور بھلائی پر مبنی ہوں ۔ علامہ قرطبیؓ فرماتے ہیں:
” قولِ معروف سے مراد وہ درست بات ہے جو نہ شریعت کی نگاہ میں قابل گرقت ہو اور نہ جسے لوگ برا سمجھتے ہوں _” (القول المعروف ھو الصواب الذی لا تنکرہ الشریعۃ ولا النفوس۔ (تفسیر القرطبی، ۱۴/۱۷۸)
امام رازیؒ نے لکھا ہے: ” اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت اجنبی مردوں سے بد زبانی کرے ، بلکہ اس آیت میں وقتِ ضرورت اچھی بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے_” (ان ذلک لیس امراً بالایذاء والمنکر ، بل القول المعروف و عند الحاجۃ ھو المأمور بہ لا غیر۔ (تفسیر کبیر ، طبع قاہرہ ۔ ۲۵/۱۸۲)

عہد نبویؐ میں عورتیں آں حضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتی تھیں ۔ وہاں مرد بھی رہتے تھے _ ان کی موجودگی میں وہ آپؐ سے مختلف سوالات کرتی تھیں ۔ ان کی گفتگو کبھی مختصر ہوتی تھی اور کبھی طویل ۔ آں حضرت ﷺ نے کبھی اس چیز کا اظہار نہیں فرمایا کہ مردوں کی موجودگی میں عورتوں کو خاموش رہنا چاہیے اور اپنے منہ سے کوئی آواز نہیں نکالنی چاہیے ۔ ایک موقعے پر حضرت اسماء بنت زید بن سکنؓ نامی صحابیہ اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوئیں اور دوسری خواتین کی ترجمانی کرتے ہوئے اسلامی معاشرے میں اپنی خدمات اور ان پر اجر کے حوالے سے مفصل گفتگو کی ۔ آپؐ نے حاضرینِ مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ” کیا تم لوگوں نے کسی عورت کو اپنے دین کے متعلق اس عورت سے زیادہ بہتر انداز میں سوال کرتے سنا ہے؟” صحابہ نے جواب دیا :” اللہ کی قسم! ہم نے نہیں سنا۔” (ابن عبد البر ، الاستیعاب فی اسماء الأصحاب ، تذکرہ اسماء بنت زید بن سکن ، ۴/۲۳۷، بر حاشیہ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، مطبعۃ السعاوۃ مصر)

ایک موقعے پر مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند سے یہی سوال کیا گیا کہ عورت کے لیے آواز کا پردہ ہے یا نہیں؟ اس کا انھوں نے یہ جواب دیا:
” عورت کے لیے اجنبی مردوں سے بلا وجہ بات چیت کرنا ناپسندیدہ ہے ۔ لیکن بہت سی علمی ، دینی ، معاشی ضروریات کے تحت اسے بات چیت کرنی پڑتی ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ کسی نامحرم سے بات چیت کے وقت عورت کی آواز میں لوچ نہ ہو ۔ اس کی آواز ایسی نہ ہو کہ غیر مرد کے دل میں کوئی برا خیال آئے ، بلکہ اس کے لب و لہجے میں کسی قدر درشتی ہو اور بات نیکی ، تقویٰ اور دین و دنیا کی بھلائی کی ہو ۔” (اسلام کا عائلی نظام، طبع دہلی ، ص: ۱۸۱)

[ زندگی کے عام فقہی مسائل (جلد دوم) ، محمد رضی الاسلام ندوی ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی ]

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close