فقہ و فتاوی

وراثت ، حضانت اور کفالت کے مسائل ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال:
ایک خاتون ، اس کے شوہر اور لڑکے کا انتقال کار حادثے میں ہوگیا۔ اس کی صرف ایک لڑکی بچی ہے، جو نازک حالت میں اسپتال میں داخل ہے۔ یہ خاتون شادی سے پہلے نوکری کرتی تھی، جو شادی کے بعد دو ماہ تک جاری رہی۔ نوکری کے وقت کی کچھ رقم بینک میں جمع ہے۔ اس بینک اکاونٹ میں مرحومہ نے اپنے والد کو nominee کیا تھا۔ شادی کے وقت والد نے اپنی بیٹی کو کچھ سونا بشکل زیور دیا تھا۔ شوہر نے بھی مہر بشکل زیور ادا کیا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس کی کمائی ہوئی رقم میں شوہر کی رقم ملاکر اس کے نام پر مکان لے لیا جائے، لیکن یہ نہ ہو سکا۔اس وقت اس رقم میں شوہر کی رقم شامل نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس خاتون کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ اس کے ورثہ میں اس کی لڑکی ہے، جو نازک حالت میں اسپتال میں ہے اور اس (مرحومہ) کے والد اور والدہ ہیں۔
مرحومہ کی ساس اور سسر بھی بقید حیات ہیں۔ اس خاتون کی وراثت میں ان لوگوں کا کچھ حق بنتا ہے یا نہیں؟
وہ لڑکی جو زخمی حالت میں ہے، اس کی عمر صرف ساڑھے تین سال ہے۔وہ کس کی زیر پرورش رہے گی؟ ددھیال یا ننہیال کے؟
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں تشفی بخش جواب سے نوازیے، بہت نوازش ہوگی۔

جواب:
کسی شخص کا انتقال ہو (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) تو اس کی مملوکہ تمام چیزیں اس کے ورثہ میں تقسیم ہوں گی ۔ سوال میں جس مرحومہ خاتون کا تذکرہ ہے انھوں نے دورانِ ملازمت جو کچھ کمایا، ان کی شادی کے وقت والد نے جو زیور انہیں بہ طور تحفہ دیا، شوہر نے مہر کی شکل میں انہیں جو زیور دیا، وہ سب ان کی ملکیت سمجھی جائیں گے۔ بینک اکاؤنٹ میں بہ طور nominee اگرچہ ان کے والد صاحب کا نام ہے، لیکن صرف وہی اکاؤنٹ میں موجود رقم کے مالک نہیں سمجھے جائیں گے، بلکہ تمام ورثہ کا اس میں حصہ ہوگا۔
ورثہ میں مرحوم کی ایک بیٹی، ماں اور باپ ہیں۔ بیٹی کا حصہ نصف (50%) اور ماں کا حصہ چھٹا (16.7%) ہوگا۔ باقی(33.3%) باپ کو ملے گا۔ خاتون کی وراثت میں اس کی ساس اور سسر کا کچھ حصہ نہ ہوگا۔

آئندہ زندگی میں نابالغ لڑکی سے دو امور متعلق ہیں: ایک حضانت یعنی بچی کو اپنے ساتھ رکھ کر پرورش کرنے کا حق اور دوسرا کفالت یعنی بچی کے اوپرخرچ کرنےکی ذمہ داری۔ فقہاء نے حضانت کا حق رکھنے والوں کی جو ترتیب بنائی ہے اس میں ماں کے بعد نانی کا نمبر آتا ہے، اس کے بعد دادی کا،البتہ کفالت کی ذمہ داری باپ یا اس کے خاندان والوں کی ہے۔بہرحال مقاصد شریعت کا تقاضا ہےکہ حقوق کی کش مکش اور ذاتی پسند ناپسندسے اوپر اٹھ کر اس کا لحاظ کیا جائےکہ بچے یا بچی کی پرورش کہاں اور کس کے پاس رہ کر اچھے طریقے سے ہوسکتی ہے ؟ اس لیے زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ لڑکی کے ددھیال اور ننہیال والے باہم مشاورت کرکے ، لڑکی کے حق میں جو بہتر ہو اس پر اتفاق کرلیں۔

[ ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی ، جولائی 2020 ]

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close