فقہ و فتاوی

*ماسک لگاکر نماز پڑھنا* ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال :
لاک ڈاؤن میں مسجدیں بند رہنے کے بعد اب دوبارہ انہیں کھول دیا گیا ہے ، لیکن ساتھ ہی کہا جارہا ہے کہ لوگ ماسک لگاکر مسجد آئیں _
براہ کرم واضح فرمائیں :کیا ماسک لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب :
حدیث میں منھ ڈھک کر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے _ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں :
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ فِي الصَّلَاةِ
(ابن ماجہ : 966 ، ابو داؤد :643)
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنا چہرہ ڈھک کر نماز پڑھے _”

اسی وجہ سے فقہاء نے چہرہ ڈھک کر نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی کہا ہے _

یہ حکم عام حالات کے لیے ہے _ اگر کسی کو کوئی عذر ہو تو اس کے لیے گنجائش ہوگی _ مثلاً اگر کسی شخص کے چہرے پر چوٹ لگ جائے ، یا پھوڑا پھنسی نکل آئے تو وہ پٹی باندھ کر نماز پڑھ سکتا ہے _

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کے لیے ہدایت کی گئی ہے کہ جن مقامات پر کچھ افراد جمع ہوں وہاں انہیں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بچنا چاہیے اور منھ پر ماسک لگائے رہنا چاہیے _ یہ ہدایت مسجدوں کے سلسلے میں بھی ہے _ چنانچہ کہا جارہا ہے کہ جو لوگ نماز باجماعت کے لیے مسجد آئیں وہ اپنی جانماز ساتھ لائیں اور مسجد میں ماسک لگائے رہیں _ اس ہدایت پر عمل کرنا احتیاط کا تقاضا ہے _

عذر کی بناکر ماسک لگاکر نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے _

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close