فقہ و فتاوی

صدقہء فطر : فضائل – مسائل- مقدار کے حوالے سے ضروری بات : مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی

مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی بنگلور9611021347

ماہِ رمضان کے اخیر میں روزہ کھل جانے کی خوشی اوررمضان میں ہوجانے والی غلطیوں اورکوتاہیوں کے کفارہ کے لئے جو صدقہ دیاجاتاہے وہ صدقہء فطر کہلاتاہے۔رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صدقہء فطر روزہ دار کی بے کار بات اورفحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لئے اورمساکین کو کھانا کھلانے کے لئے مقررکیا ہے۔(ابوداؤد،ابن ماجہ)
اس حدیث سے صدقہء فطر مقرر ہونے کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ صدقہ روزہ داروں کے لئے گناہوں سے پاکیزگی اوران کے روزوں کی تکمیل کاذریعہ ہے،نیز اس سے غریبوں کے لئے عید کے دن کھانے پینے کا بھی بندوبست ہوجاتاہے،جس کے ذریعہ وہ بھی عید کی خوشی میں تمام لوگوں کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں۔
یہ صدقہ واجب ہے۔اس کے وجوب کے کئی دلائل میں سے ایک دلیل وہ حدیث جسے حضرت امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے واسطے سے نقل کی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد،غلام مرد،عورت اورہرچھوٹے بڑے مسلمان پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو بطور صدقۃ الفطر واجب کیا ہے۔اوراسے لوگوں کے نماز کی طرف جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا ہے۔
یہ صدقہ خود اپنی ذات اوراپنے نابالغ بچوں کی طرف اس شخص کے اوپر واجب ہوتاہے جو عید الفطر کے دن بنیادی ضروریات کے علاوہ اتنے مال کا مالک ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے نصاب پر سال کا گذرنا شرط نہیں ہے۔اسی طرح ضرورت سے زائد کوئی سامان یا مکان ہے جس کی مالیت نصاب یا نصاب سے زائد ہے،تو اس کو سامنے رکھ کر بھی صدقہء فطر واجب ہوجاتاہے۔مثلاً ایک شخص کے پاس دوگھر ہیں ایک میں رہتا ہے ایک خالی ہے۔خالی مکان کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے۔تو اس پر بھی صدقہ ہے۔اگر چہ زکوٰۃ نہیں ہے۔

شوہر کے اوپر بیوی کی طرف سے صدقہ نکالنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر نکال دے تو ادا ہوجائے گا۔اس زمانے میں عام طور پر سب ساتھ رہتے ہیں اس لئے اگر بیوی اوربالغ اولاد جو ساتھ رہتی ہے اس کی طرف سے بھی صدقہ نکالنے کا اہتمام کیاجائے تو یہ بہت بہتر ہوگا۔مستحب ہے کہ یہ صدقہ عیدگاہ جانے سے پہلے پہلے اداکردیا جائے۔علماء نے پورے رمضان اس صدقہ کو نکالنے کی اجازت دی ہے۔اس میں غریبوں کا اس معنی فائدہ ہے کہ وہ عید کا نظام بآسانی کرسکیں گے۔اگر کسی نے عید الفطر کے دن بھی یہ صدقہ ادا نہ کیا تو اس سے صدقہ ساقط نہیں ہوتاہے بلکہ بعدمیں بھی اس کو نکالنا ضروری ہے۔

صدقہء فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں۔جن کو زکوٰۃ دینا درست ہے ان کو صدقہء فطر بھی دینا درست ہے۔غیرمسلموں کو زکوٰۃ دیناجائز نہیں ہے توان کو صدقہء فطر بھی دینا جائز نہیں ہوگا۔بعض اہل فتویٰ نے غیرمسلموں کو صدقہء فطر دینے کی اجازت دی ہے لیکن ان کا فتویٰ احتیاط کے خلاف ہے۔بہتر ہے کہ غیرمسلموں کی اعانت نفلی صدقات کے ذریعہ کردی جائے بالخصوص رمضان اورعید کے موقعہ پر ایسا کرنا چاہیے اس سے مسلمانوں پر عائد ہونے والا ایک الزام (کہ مسلمان صرف مسلمانوں کی ہی مدد کرتے ہیں)ختم ہوجائے گا ہندوستان جیسے ممالک میں بحیثیت انسان اورپڑوس کاخیال کرتے ہوئے غیرمسلموں کی اعانت کئی طرح سے ملک و ملت کے لئے فائدہ مند ہے۔جبکہ تکثیری معاشرہ کے لئے اس طرح کی امداد واعانتیں کبھی ضروری بھی ہوجاتی ہیں۔

ایک آدمی کا صدقہء فطر کئی فقیروں کو اورکئی کا صدقہء فطر ایک فقیر کو دیا جاسکتاہے۔صدقہء فطرکی مقدار کے سلسلے میں عام طورپر ایک کوتاہی اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ ہمارے ملی اداروں اورمسجدوں کی طرف سے صدقہء فطر کی مقدار نصف صاع گیہوں کے حساب سے طے کرکے اعلان کردیاجاتاہے حالاں کہ اس مقدار سے غریبوں کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔اس لئے ضروری ہے کہ صدقہء فطر میں دی جانے والی تمام قسم کی اشیاء،کھجور،کشمش اورگیہوں اورجو.ان سب کی قیمت لگا کرصدقہء فطر نکالنے کی ترغیب دی جائے کہ سرمایہ دار کشمش اورکھجور کے حساب سے نکالیں،ان سے کم مال رکھنے والے جو کے حساب سے نکالیں اوران سے کم گیہوں کے حساب سے نکالیں۔

بعض مفتیان عظام نے یہ رائے بھی دی ہے کہ گیہوں کی مقدار چوں کہ بعض احادیث میں ایک صاع وارد ہوئی ہے جب کہ حضرت اما م ابوحنیفہ ؒ کے علاوہ تمام ہی ائمہ ایک صاع گیہوں کے قائل ہیں،نیز غریبوں کا فائدہ بھی اسی میں زیادہ ہے تو موجودہ حالات میں اگر اس کو اس طرح تقسیم کرلیاجائے کہ سرمایہ دار حضرات کھجور اورکشمش سے صدقہء فطر اداکریں اوردرمیانی قسم کے لوگ ایک صاع(ساڑھے تین کیلو)گیہوں کی قیمت سے اداکریں اوراس سے بھی کمزورلوگ نصف صاع گیہوں یعنی پونے دوکیلو کی قیمت سے اداکریں تو زیادہ بہتر ہے۔

یہ رائے اس اعتبار سے بہت اچھی ہے کہ اس سے تمام روایات پر عمل ہونے کے ساتھ شریعت کے منشاء پر عمل اورفقراء کی ضرورت کا بھی لحاظ ہے۔
بہرحال! سرمایہ دار حضرات ساڑھے تین کیلو کشمش،کھجور یاجو کے حساب سے صدقہء فطر نکالیں اوران سے کم مال والے ایک صاع گیہوں کے حساب سے یعنی ساڑھے تین کیلو گیہوں یا اس کی قیمت اوربالکل کمزور لوگ نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت سے صدقہ فطر فطر نکالیں۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close