فقہ و فتاوی

مسائل اعتکاف، اعتکاف کے مسائل کی دوسری قسط ہدیہ ناظرین ہے ! مجیب الرحمٰن

★اعتکاف کی سب سے افضل جگہ★

سب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام یعنی مکہ مکرمہ میں کیا جائے اس کے بعد مسجد نبوی کا مقام ہے۔ پھر مسجد بیت المقدس اور اس کے بعد اس جامع مسجد کا درجہ ہے جسمیں جماعت کا انتظام ہو، اگر جامع مسجد میں جماعت کا انتظام نہ ہو تو محلے کی مسجد بہتر ہے اس کے بعد وہ مسجد ہے جسمیں زیادہ جماعت ہوتی ہو، / علم الفقہ حصہ سوم ص ٤٦(

★ رسول اللہ ص کا اعتکاف★

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ یہ تھی کہ رمضان کے اخیر عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے۔ جہاں رمضان کا اخیر عشرہ آتا تو آپ کیلئے مسجد مقدس میں ایک جگہ مخصوص کردی جاتی اور وہ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے کوئی پردہ یا چٹائی ڈآل دیا جاتا یا کوئی چھوٹا سا خیمہ نصب کیا جاتا اور بیسویں تاریخ کی فجر کی نماز پڑھ کر آپ وہاں چلے جاتے اور عید کا چاند دیکھ کر وہاں سے باہر تشریف لاتے تھے اس درمیان وہیں کھانا پینا فرماتے اور وہیں سوتے آپ کی ازواج مطہرات میں سے جس کو آپ کی زیارت مقصود ہوتی وہیں چلی جاتیں اور تھوڑی دیر بیٹھ کر چلی آتیں بغیر کسی شدید ضرورت کے آپ وہاں سے باہر تشریف نہ لاتے، ایک مرتبہ آپ کو سر صاف کرانا مقصود تھا اور اما عائشہ صدیقہ رض ایام سے تھیں تو آپ نے سر مبارک کھڑکی سے باہر کردیا اور اماں عائشہ صدیقہ رض نے مل کر صاف کردیا، ( علم الفقہ حصہ سوم ص ٤٥)

★ اجرت دیکر اعتکاف کرانا کیسا ہے★

سوال کچھ دیکر اعتکاف کرانا کیسا ہے؟

جواب۔۔ اجرت دیکر اعتکاف کرانا جائز نہیں کیونکہ عبادات کیلئے اجرت دینا لینا دونوں نا جائز ہیں،، ہاں اگر بغیر اجرت ٹہراے اعتکاف کرایا اور اعتکاف کراکے اجرت دینا وہاں معروف بھی نہ ہو تو کچھ پیش کرنا جائز ہے، ( فتاویٰ دارالعلوم ج٦ ص ٥١٢)

★ کیا اعتکاف ہر محلے میں سنت علی الکفایہ ہے★

سوال،، رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں اعتکاف سنت علی الکفایہ کا یہ مطلب ہے کہ صرف ایک مسجد میں اعتکاف کرنے سے پورے شہر والوں کی طرف سے سنت ادا ہو جائے گی یا ایک محلہ والوں کی طرف سے ادا ہوگی یا یہ کہ ہر مسجد میں اعتکاف ضروری ہے؟

جواب۔۔ اس کے متعلق کوئی صریح جزیہ نہیں ملا البتہ شامی میں اعتکاف کی سنت کو اقامت تراویح کی نظیر بتایا ہے اور تراویح کے باب میں تین قول نقل فرماکر اس کو ترجیح دی ہے کہ ہر محلے مسجد میں اقامت تراویح سے سنت کفایہ ادا ہو جائے گی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعتکاف کا بھی یہی حکم ہے، ۔۔ ( احسن الفتاوی ج ٤٤ ص ٤٩٩)

★ عشرہ سے کم اعتکاف کرنے والے کا حکم★

سوال۔۔ اگر کوئی شخص ضعف جسمانی کی وجہ سے پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف نہ کرسکے اور تین یا پانچ دن کے بعد یعنی اکیس اور تیس کا اعتکاف کرے تو سنت کا کچھ اجر ملیگا یا غیر رمضان کے اعتکاف کی طرح محض نفل سمجھا جائے گا؟

جواب۔۔ اعتکاف مسنون عشرہ اخیرہ کی قید کے ساتھ سنت ہے اور جب یہ قید نہیں ہوئی تو سنت نہ ہوگا اور نہ جزو سنت ہوگا صرف نفل ہوگا، ( امداد الفتاوی جدید ترتیب ج ٢ ص١٤٥)

★ اکیسویں شب میں اعتکاف میں بیٹھے تو کیا حکم ہے★

سوال۔۔ جو شخص اکیسویں شب کو سحری کھاکر صبح صادق سے تھوڑی دیر پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہو اس کا اعتکاف صحیح ہوگا یا نہیں؟

جواب۔۔ سنت یہ ہے کہ بیسیوں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مسجد میں داخل ہو جاے لیکن اگر اس کے بعد کسی وقت میں بھی نیت کرکے مسجد میں داخل ہو جاے تب بھی صحیح ہے، لیکن عشرہ کامل کی فضیلت اس صورت میں حاصل نہ ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ کامل ( رمضان کے اخیر کے دس دن) کا اعتکاف کیا ہے جو کہ بیسویں تاریخ کی شام ہی سے پورا ہو سکتا ہے، (( فتاویٰ دارالعلوم ج٦ ص ١٧٧)

★ بیسویں شب کے بعد اعتکاف میں بیٹھے تو کیا حکم ہے؟

سوال۔۔ اگر معتکف۔ اعتکاف میں بیسویں تاریخ کو رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد داخل ہو تو کیا عشرہ اخیرہ کی سنت ادا ہوگی؟
جواب۔۔
اس صورت میں عشرہ اخیرہ کا اعتکاف پورا نہ ہوگا اور سنت پوری ادا نہ ہوئی، ( فتاویٰ دارالعلوم ج٦ ص ٥٠٦)

★ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں تو کیا اعتکاف مسنون ہوگا★

سوال۔۔ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنے کا خیال ہے لیکن روزہ رکھنے کی سکت نہیں تو بغیر روزہ رکھے اعتکاف صحیح ہے یا نہیں؟

جواب۔۔۔ مسنون اعتکاف کیلئے روزہ شرط ہے لہذا روزہ کے بغیر اعتکاف نفلی ہے مسنون اعتکاف نہیں، ( فتاویٰ رحیمیہ ج٣ ص ١١٠)

★ نابالغ بچے کا اعتکاف کرنا کیسا ہے★

سوال۔۔ نابالغ بچہ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب۔۔۔ نابالغ لڑکا اگر سمجھدار ہو، نماز کو سمجھتا ہو اور صحیح طریقے سے پڑھتا ہو تو اعتکاف ہو سکتا ہے نفل اعتکاف ہوگا مسنون نہ ہوگا، اگر نا سمجھ ہے تو نہیں بیٹھ سکتا،۔ ( فتاویٰ رحیمیہ ج٥ ص ٢٠٢)

نوٹ۔۔۔۔ باقی کل کے پیغام میں ملاحظہ کریں،

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close