فقہ و فتاوی

اعتکاف کے فضائل ومسائل : ازمبارک حسین قاسمی پریاگپوری مدھوبنی

اعتکاف کے معنی ٹھہرنے کے ہے ،چونکہ معتکف مسجد میں یا ایک مخصوص مکان میں ٹھہرتا ہے ؛ اس لئے اس کو اعتکاف کہاجاتا ہے ،اعتکاف کی بڑی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے ،اور اس پر اللہ کی طرف بڑا اجر ملتا ہے ،چنانچہ ایک حدیث میں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑبنادیں گے ،ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیاہ چوڑی ہے ،(المعجم الاوسط للطبرانی ج ۵ ص ۲۷۹)
ذرا غور کریں جب ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہوگی ؟ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔
اس کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ معتکف اہل دنیا سے کنارہ کش ہونے کی بناپر بہت سے گناہوں سے محفوظ ہوجاتا ہے نیز اعتکاف کی بناپر جو اعمال خیر مثلا بیماروں کی عیادت، جنازہ میں شرکت،غرباء کی امداد اورعلماء کی مجلس میں حاضری وغیرہ )وہ نہیں کر پاتے ہیںان کا بھی ثواب ان کو بنا کیے ہی دیتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ ص ۱۲۸)
اعتکاف کی بناپر آدمی کو اللہ سے لو لگانے ،اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور کثرت سے راتوں میں عبادت کرنے کے مواقع ملتےہیں جس کی بناپر لیلۃ القدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں بھی عبادت کی سعادت سے ہم کنار ہوجاتا ہے ۔اسی بنا پر حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے اور صحابہ کرام کو حکم دیتے تھے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کو تلاش کیا کرو ۔(صحیح البخاری ج۱ ص ۲۷۰)
چند ضروری مسائل
رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کا حکم :رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ شہروں کے محلے کی کسی ایک مسجد میں اور گاؤں دیہات کی پوری بستی کی کسی ایک مسجد میں ایک آمی بھی اعتکاف کرے گا تو سنت سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی ،اور اگر کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب گنہ گارہوں گے ۔
اعتکاف کا وقت :رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کا وقت بیسویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے ،لہذا معتکف کو چاہیے کہ بیسویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد یا جس جگہ اعتکاف کرنی ہو وہاں پہونچ جائے ،اگر اس میں تاخیر ہوئی یا غروب شمس کے بعدنیت کیا تو سنت اعتکاف ادا نہیں ہوگا۔
نیت اعتکاف :اعتکاف کی نیت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ نیت کرے کہ میں اللہ کی رضا کے لئے رمضان کے آخری عشرہ کا مسنون اعتکاف کرتا ہوں یا کرتی ہوں ۔
اعتکاف کے درست ہونے کے لئے چند چیزیں ضروری ہیں :
(۱)مسلمان ہونا
(۲)عاقل ہونا
(۳)اعتکاف کی نیت کرنا
(۴)مرد اور عورت کا جنابت سے پاک ہونا یعنی غسل واجب ہونے کی حالت سے پاک ہونا (یہ شرط اعتکاف کے جائز ہونے کے لئے ہے ،لہذا اگر کوئی شخص حالت جنابت میں اعتکاف شروع کردے تو اعتکاف تو صحیح ہو جاتا ہے لیکن یہ شخص گنہ گار ہوگا ۔
(۵)عورت کا حیض و نفاس سے پاک ہونا
(۶)روزے سے ہونا ۔لہذا اگر کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے یا روزہ نہ رکھے تو مسنون اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا ۔
اعتکاف کی حالت میں مسجد سے باہر جانا :
معتکف کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسجد کو لازم پکڑے اور بلاکسی ضرورت طبعیہ کے مسجد سے باہر نہ جائے ورنہ اعتکاف فاسد ہو جائے گا ،حاجات طبعیہ میں سے سب سے اشد ضرورت پیشاب پاخانے کی ضرورت ہے ،لہذا اگر مسجد سے متصل کوئی بیت الخلاء نہ ہو تو اس ضرورت کو پوری کرنے کے لئے مسجد سے باہر جاسکتے ہیں ،لیکن اس کے لئے قریب کی جگہ کا انتخاب بہتر ہے ،اور اگربیت الخلاء ہو تو اسی میں اپنی ضرورت پوری کرے باہر نہ جائے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close