فقہ و فتاوی

کیا زکوٰۃ کا حساب انٹرسٹ کی رقم کو منہا کرکے کیا جائے گا؟ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال :
اکاؤنٹ میں انٹرسٹ کی رقم بھی شامل رہتی ہے ۔ کیا زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت انٹرسٹ کی رقم کو منہا کرکے حساب کیا جائے گا ؟ اگر کوئی شخص اکاؤنٹ کی کل رقم بہ شمول انٹرسٹ کے حساب سے زکوٰۃ نکال دے تو وہ گناہ گار ہوگا؟

جواب:
بینک انٹرسٹ کو عموماً علماء نے ’ربوٰ‘ (سود) قرار دیا ہے ، جسے اسلامی شریعت میں حرام کہا گیا ہے ۔ اس لیے اس کا حساب رکھنا چاہیے اور انٹرسٹ کی رقم کو اپنے ذاتی کاموں میں نہ استعمال کرنا چاہیے ۔ لیکن اگر کوئی شخص انٹرسٹ کی رقم کو منہا کیے بغیر اکاؤنٹ کی رقم سے حساب کرکے زکوٰۃ نکال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ظاہر ہے ، انٹرسٹ کی رقم کو منہا کرکے وہ حساب کرتا تو زکوٰۃ کی جو رقم نکلتی ، منہا کیے بغیر حساب کرنے سے زکوٰۃ کی رقم اس سے زیادہ بنے گی ۔

لیکن یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ایسا کرنے سے نہ انٹرسٹ کی رقم اس کے لیے پاک ہوجائے گی اور نہ اس زائد نکالی گئی رقم کو انٹرسٹ کی رقم میں ایڈجسٹ کرنا اس کے لیے روا ہوگا ۔

(زندگی کے عام فقہی مسائل ، محمد رضی الاسلام ندوی ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی ، جلد سوم)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close