فقہ و فتاوی

صدقہ فطر کے مسائل : (١)مجیب الرحمٰن جامتاڑا جھارکھنڈ

عید کا دن بہت مبارک اور خدا کی مہمانی کا دن ہے، آج کے دن ہم سب خدا کے مہمان ہیں، اسی وجہ سے آج کا روزہ حرام ہوگیا، کیوں کہ جب خدا نے ہمیں مہمان بنا کر کھانے پینے کا حکم دیا ہے تو ہم کو اس سے منہ موڑنا نہیں چاہئیے، آج کے دن روزہ رکھنا گویا خدا کی مہمانی کو رد کرنا ہے، یہ ہم مسلمانوں کا بہت بڑا تیوہار ہے، ہمارے تیوہار میں کھیل تماشا اور ناچ گانا وغیرہ نہیں ہوتا، کسی کو تکلیف دینا ستانا نہیں ہوتا، بلکہ جس کو خدا نے دیا ہے وہ دوسروں کی ضرورت کو پوری کرتا ہے،مالدار جب اپنے پھول سے بچے کو اجلے اجلے کپڑوں میں خوشی خوشی اچھلتا کودتا دیکھتا ہے تو غریب کے مرجھائے ہوئے اور اس کے بچوں کی حسرت بھری نظریں اس سے دیکھی نہیں جاتیں، مسلمان دولتمند اپنے گھر کے اس قسم کے خوشبودار اور لذیذ کھانوں کو اس وقت تک ہاتھ نہیں لگاتا جب تک کہ مفلس پڑوسی کے گھر میں دھواں اٹھتا ہوا نہ دیکھ لے، ۔ بھلا میری کیا عید اگر میرا پڑوسی آج کے دن بھی بھوکا رہا، الغرض ہمارے اس تیوہار میں بفضل اللہ تعالیٰ ہر ضرورت مند کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے۔۔ صدقہ فطر کا ایسا نظام بنایا ہے کہ ہر مسلمان اس کو بڑی خوش دلی کے ساتھ نبھاتا ہے، اور جو دولت مند مسلمان اس کو ادا نہ کرے اس کیلئے سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں، چونکہ صدقہِ فطر رمضان المبارک میں ادا کیا جاتاہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے کچھ بنیادی مسائل آپ کی خدمت میں پیش کروں تاکہ اس سلسلے میں ہم سے کوئی کوتاہی نہ ہو،

★ صدقہ فطر کے شرائط★

صدقہ فطر واجب ہے فرض نہیں اور صدقہ فطر کے واجب ہونے کیلئے صرف تین چیزیں شرط ہیں، (١) آزاد ہونا۔ (٢) مسلمان ہونا، (٣) کسی ایسے مال کے نصاب کا مالک ہونا جو اصلی ضرورتوں سے فارغ ہو، اور قرض سے بالکل یا بہ قدر ایک نصاب کے محفوظ ہو، اس مال پر سال کا گزرنا شرط نہیں نہ مال کا تجارتی ہونا شرط ہے، نہ صاحب مال کا بالغ ہونا اور عاقل ہونا شرط ہے، جہاں تک نابالغ بچوں اور مجنونوں پر صدقہ فطر واجب ہے ان کے اولیاء کو ان کی طرف سے ادا کرنا چاہیے، اور اگر ولی نہ ادا کرے اور وہ اس وقت خود مالدار ہوں تو بالغ ہوجانے کے بعد یا جنون زائل ہونے کے بعد خود ان کو عدم بلوغ یا جنون کے زمانہ کا صدقہ ادا کر دینا چاہیے،
صدقہ فطر کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت دیا تھا جس سال رمضان کے روزے فرض ہوۓ تھے،
صدقہ فطر کی مصلحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ دن خوشی کا ہے اور اس دن اسلام کی شان و شوکت کثرت جمعیت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے، اور صدقہ دینے سے یہ مصلحت خوب کامل ہوجاتا ہے علاوہ اس کے اس میں روزہ کی تکمیل ہے، صدقہ فطر دینے سے روزہ مقبول ہوتا ہے، اور اس صدقہِ میں حق تعالیٰ کا مزید احسان کہ اس کو رمضان سے مشرف کیا، اور اس میں ہم کو روزہ رکھنے کی توفیق عطا کی، / علم الفقہ ج٤ص٥٠/

ضرورت اصلیہ کیا ہے ,

کسی کے پاس بڑا بھاری گھر ہے اگر بیچا جائے تو ہزار پانچ سو کا بکے اور پہننے کے قیمتی قیمتی کپڑے ہیں مگر ان میں سونے چاندی کا گوٹا نہیں ہے، اور خدمت کیلئے گھر میں دو چار خدمت گار بھی ہیں گھر میں ہزار پانچ سو کا ضروری اسباب بھی ہے مگر زیور نہیں، اور وہ سب کام میں آیا کرتا ہے، یا کچھ سامان ضرورت سے زائد بھی موجود ہے اور کچھ سچا گوٹا اور زیور وغیرہ بھی ہے لیکن وہ اتنا نہیں جتنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو ایسے پر صدقہ فطر واجب نہیں، / بہشتی زیور حصہ سوم ص ٣٤بحوالہ نور الایضاح ج١ ص ٦١/

نیز کسی کے پاس ضروری سامان سے زائد اسباب بھی ہے لیکن وہ قرض دار ہے، تو پھر قرض کا اندازہ لگایا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ کچھ بچتا ہے کہ نہیں اگر اتنی قیمت کا سامان بچ جائے جتنے پر زکوٰۃ واجب ہے تو صدقہ واجب ہے اور اگر اس سے کم بچے تو واجب نہیں،۔ ہدایہ ج ١ ص٢٨٩/

جو صاحب نصاب نہ ہو اس کیلئے حکم،

ایک حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ۔۔غنی بھی صدقہ فطر ادا کرے اور فقیر بھی صدقہ دے۔۔ ان دونوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ۔۔ اللہ تعالیٰ اس مالدار کو تو صدقہ فطر ادا کرنے سے تو پاکیزہ بنا دیتے ہیں اور فقیر جو مالک نصاب نہ ہو اس کو اس سے زیادہ عنایت فرماتا ہے، جتنا اس نے صدقہ فطر کے طور کے برابر ادا کیا،
یہ بشارت اگر چہ مالدار کیلئے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں کہیں زیادہ برکت عطا فرماتے ہیں جتنا اس نے دیا ہے،مگر اس بشارت کو فقیر کے ساتھ اس لئے مخصوص فرمایا کہ اس کی ہمت افزائی ہو اور وہ صدقہ فطر دینے میں پیچھے نہ رہے،۔۔ /مظاہرہ حق جدید قسط سوم ج٢ ص ٥٨/

صدقہ فطر کس وقت واجب ہوتا ہے؟

صدقہ فطر کا وجوب عید الفطر کی فجر طلوع ہونے پر ہوتا ہے لہذا جو شخص قبل طلوع فجر مرجاے یا فقیر ہو جائے اس پر صدقہ فطر واجب نہیں، اسی طرح جو شخص بعد طلوع فجر کے اسلام لائے اور مال پا جائے یا جو لڑکا لڑکی فجر طلوع ہونے سے پہلے پیدا ہو یا جو شخص فجر طلوع ہونے سے پہلے اسلام لائے یا مال پاجاے اس پر صدقہ فطر واجب نہیں، ( علم الفقہ حصہ چہارم ص٥٢)

عید کے دن جس وقت فجر کا وقت آتا ہے اسی وقت یہ صدقہ واجب ہوجاتا ہے اگر کوئی فجر کا وقت آنے سے پہلے مر گیا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں اس کے مال میں سے نہیں دیا جائے گا، ( عالمگیری ج١ ص ١٩٢)

رمضان سے پہلے صدقہِ فطر دینا،

سوال۔۔ صدقہِ فطر کی ادائیگی کا کیا وقت ہے؟ رمضان سے پہلے مثلاً شعبان یا رجب میں ادا کردے تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب۔۔۔ اختلافی مسئلہ ہے، رمضان سے پہلے کا قول بھی ہے اس پر عمل کرنا خلاف احتیاط ہے، ماہ رمضان میں بھی ادا کرنے میں اختلاف ہے مگر قوی یہ ہے کہ درست ہے اور صدقہ ادا ہو جائے گا، ( فتاویٰ رحیمیہ ج٥ص١٧٢)

صدقہ فطر رمضان شریف میں دینا درست ہے خواہ کسی بھی عشرہ میں دے دے، ( فتاویٰ دارالعلوم ج٦ص ٣٠٥)

صدقہ فطر کس کس کی طرف سے دینا واجب ہے؟

صدقہ فطر ادا کرنا اپنی طرف سے بھی واجب ہے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی اور بالغ کی طرف سے بھی بشرطیکہ وہ فقیر یعنی صاحب نصاب نہ ہوں اور اپنی خدمت گار لونڈی غلاموں کی طرف سے بھی اگر چہ وہ کافر ہوں، نابالغ اولاد اگر مالدار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے، اور اگر مالدار نہیں ہے تو اپنے مال سے،
بالغ اولاد اگر مالدار ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں ہاں احسانا اگر کردے تو جائز ہے، یعنی پھر ان اولاد کو دینے کی ضرورت نہیں رہے گی،اور اگر بالغ اولاد مالدار تو ہوں مگر مجنون ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے مگر انہیں کے مال سے، جو لونڈی غلام خدمت کے نہ ہوں بلکہ تجارت کے ہوں ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں،
باپ اگر مرگیا ہو تو دادا باپ کے حکم میں ہے یعنی پوتے اگر مالدار ہوں تو ان کے مال سے ورنہ اپنے مال سے ان کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے، ( علم الفقہ ج۔ ٣ص ٥٢)

صدقہ فطر میں اجازت کی ضرورت ہے یا نہیں؟

سوال۔۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کی زکوٰۃ اس کی اجازت کے بغیر ادا نہیں ہوتی تو کیا یہی حکم صدقہِ فطر کا بھی یا کچھ فرق ہے؟
جواب۔۔۔۔
ہاں۔ یہی حکم صدقہِ فطر کا بھی ہے، یعنی اجازت ضروری ہے لیکن چونکہ صدقہِ فطر کی مقدار کم اور معلوم ہے اس لئے بیوی اور اولاد کی طرف سے جو اس کے زیر کفالت میں ہیں ادا کردیتا ہے، اور عادتاً آس کی اجازت ہوتی ہے، اس لیۓ استحسانا جائز ہے، بخلاف زکوٰۃ کے کہ اس کی مقدار نا معلوم ہے اور زیادہ ہوتی ہے بغیر کہے ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے اجازت اور وکالت ضروری ہے، ( فتاویٰ رحیمیہ ٥ص٢٨٣)

نوٹ۔۔۔۔ باقی کل کی تحریر میں ملاحظہ کریں،

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close