فقہ و فتاوی

کیا زکوٰۃ سونا اور چاندی پر الگ الگ واجب ہوگی یا ملا کر؟ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال:
زکوٰۃ کے لیے سونے اور چاندی کا الگ الگ نصاب متعین ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس اتنی مقدار میں سونا ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے اور اتنی مقدار میں چاندی ہو کہ نصاب تک پہنچ جائے تبھی زکوٰۃ واجب ہوگی _ اگر دونوں الگ الگ اپنے نصاب سے کم ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے _ جب کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر دونوں کو ملا کر ان کی مالیت کسی ایک کے نصاب کے برابر پہنچ جائے تو زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی ۔ ان میں سے کون سی بات صحیح ہے؟

جواب:
اگر کسی شخص کے پاس سونے اور چاندی کے زیورات اتنی مقدار میں ہوں کہ دونوں الگ الگ نصاب کو نہ پہنچتے ہوں تو ان پر وجوب زکوٰۃ کے معاملے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔

احناف اور مالکیہ کے نزدیک دونوں کو ملا کر اگر کسی ایک کا نصاب پورا ہوجائے تو زکوٰۃ واجب ہوجائے گی ۔ یہی امام ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ کی بھی رائے ہے ۔

امام شافعیؒ کے نزدیک دونوں کو ملایا نہیں جائے گا ۔ زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب دونوں یا ان میں سے کسی ایک کا نصاب پورا ہوجائے ۔

امام احمدؒ سے دونوں رائیں مروی ہیں ۔

فقہاء کے اپنے اپنے دلائل ہیں _ تفصیل کتبِ فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

(زندگی کے عام فقہی مسائل، محمد رضی الاسلام ندوی، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی ، جلد سوم)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close