فقہ و فتاوی

فرض نماز کے بعد مقتدی کا الگ سے دعا مانگنا

سوال:
عام طور سے فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا مانگنے کا رواج ہے ۔ کیا اس موقع پر مقتدی الگ سے دعا مانگ سکتا ہے؟

جواب:
فرض نمازوں کے بعد اذکار پڑھنا اور دعا کرنا اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہے ۔ ایک موقع پر آپؐ سے سوال کیا گیا : کون سی دعا بارگاہِ الٰہی میں زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپؐ نے جواب دیا:
جَوْفَ اللَّیْلِ الآخِرِ وَ دُبُرَ الصَّلٰواتِ اَلْمَکْتُوْبَاتِ(ترمذی: 3499)
”رات کے آخری پہر اور فرض نمازوں کے بعد مانگی جانے والی دعا۔“

حدیث میں ’دبر‘ کا لفظ آیا ہے ۔ اس کا اطلاق نماز کے آخری حصے پر بھی ہوتا ہے اور سلام پھیرنے کے بعد کے وقت پر بھی ۔

فرض نمازوں کے بعد اجتماعی طور سے دعا مانگنے کا جو طریقہ رائج ہوگیا ہے وہ اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت نہیں ہے ۔ بہر حال بعض علماء اس شرط کے ساتھ کہ اسے فرض نماز کا جز نہ سمجھا جائے ، اس کی گنجائش بتاتے ہیں ۔

نماز سے فارغ ہونے کے بعد مقتدی اجتماعی دعا میں شامل نہ ہو اور کسی ضرورت سے اٹھ جائے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اسی طرح وہ الگ سے بھی اذکار میں مشغول ہوسکتا ہے اور دعا کر سکتا ہے ۔

[ ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی، اپریل 2020 ]

٭٭٭

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close