دیوبند

فرضی دستاویزات تیار کرنے کے الزام میں دیوبند چیئرمین، ای او سمیت چار کے خلاف عدالت کے حکم پر مقدمہ درج

دیوبند،13؍اکتوبر(رضوان سلمانی)میونسپل بورڈ دیوبند کی جانب سے فرضی دستاویزات تیار کرکے جائداد کو غصب کرنے کے الزام پر عدالت کے حکم پر میونسپل بورڈ کے چیئرمین اور ای او سمیت چار ملازمین کے خلاف پولیس نے معاملہ درج کیا ہے ۔تفصیل کے مطابق عدالت کے حکم پر پولیس نے میونسپل بورڈ کے چیئرمین اور ای او سمیت دو دوسرے میونسپل بورڈ کے ملازمین کے خلاف سرکاری دستاویزات کو ختم کرکے فرضی دستاویزات تیار کرکے فریب دہی کی نیت سے جائداد کو غصب کرنے کے الزام میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے فریب دہی کا معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔

اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ محلہ خانقاہ کے باشندہ مولانا مزمل حسین نے سال 2005ایک جائداد خریدی تھی ۔الزام یہ ہے کہ مذکورہ جائداد کو غصب کرنے کی نیت سے میونسپل بورڈ کے چیئرمین ،ایگزیکیٹیو آفسر اور میونسپل بورڈ ریکارڈ کیپر اور محکمہ سے متعلق بلوں کو محفوظ رکھنے والے ملازم نے آپس میں ساز باز کرکے فرضی دستاویزات تیار کئے ۔جب اس فریب دہی کا علم جائداد کے مالک مولانا مزمل حسین کو ہوا تو انہوں نے اس سلسلہ میں ایک مقدمہ ایس ڈی ایم دیوبند اور سی جے ایم سہارنپور کے کورٹ میں داخل کیا ۔مولانا مزمل حسین نے مقدمہ کے دوران میونسپل بورڈ کے اقدام کے خلاف ایس ڈی ایم کے کورٹ اور سی جے ایم کورٹ میں الگ الگ تصدیق شدہ دستاویزات کو چیلینج کیا ۔عدالت نے محمد اکبر،ایگزیکیٹیو آفسر ڈاکٹر وریندر کمار رائے،نیرج گوسوامی اورمیونسپل بورڈ چیئرمین ضیاؤ الدین انصاری کے خلاف داخل کئے جانے والے ثبوتوں کو درست مانتے ہوئے پولیس کو اس فریب دہی معاملہ کی جانچ کرنے کے احکامات دئیے ۔

الزام ہے کہ میونسپل بورڈ نے 1972قانون کے تحت مولانا مزمل حسین کو ان کی بے نامہ شدہ جائداد سے بے دخل کرنے کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے الگ دستاویزات پیش کئے ۔عدالت نے میونسپل بورڈ کی جانب سے پیش کئے گئے ثبو توں کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے پایا کہ الگ الگ عدالتوں میں پیش کی گئیں دستاویزات میں یکسانیت نہیں ہے ۔ اس کے بعد عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ میونسپل بورڈ کے چیئرمین ،ای او اور دیگر ملازمین نے اپنے عہدوں کا ناجائز اور قابل جرم سازش قرار دیا۔ بعد ازاں پولیس نے عدالت کے حکم پر سبھی ملزمان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 420،466،467 اور 120Bکے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close