فقہ و فتاوی

فتاویٰ رمضان : فتاویٰ نمبر 66 سے 75 تک ، رمضان المبارک کے اہم فتوے

فتاویٰ رمضان 1443ھ (5)

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال (66)
خواتین ترا ویح باجماعت ادا کررہی ہیں _ آخر میں وتر بھی جماعت کے ساتھ پڑ ھ رہی ہیں _
ایک بہن کا کہنا ہے کہ تہجد کے بعد وتر پڑھنے میں زیادہ اجر ہے _ براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ وتر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا بہتر ہے
یا تہجد کے ساتھ تنہا؟
جواب :
وتر تراویح کے بعد پڑھی جا سکتی ہے اور تہجد کے بعد بھی _ علماء نے تراویح کے بعد باجماعت پڑھنے کو بہتر قرار دیا ہے _ کوئی چاہے تو تہجد کے بعد پڑھ سکتا ہے _

سوال (67)
کہا جاتا ہے کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ، دوسرا مغفرت کا اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے _ اس سلسلے میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے _ اس کی کیا حقیقت ہے _
جواب :
یہ حدیث ضعیف ہے _ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا ہر لمحہ رحمت بھی ہے ، مغفرت بھی اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بھی _

سوال (68)
کیا نوافل چار چار رکعتیں ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ اور کیا تہجد کی نماز جماعت سے پڑھ سکتے ہیں؟
جواب :
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت پڑھی جائے _(بخاری :1137)
نفل کو باجماعت بھی پڑھ سکتے ہیں _

سوال(69)
کوئی ہمارے پاس زکوٰۃ مانگنے آیا اور ہم اپنی زکوٰۃ ادا کرچکے ہوں تو کیا کریں؟
جواب :
آپ اسے اگلے برس کی زکوٰۃ میں سے کچھ دے سکتے ہیں ، یا صدقہ دے سکتے ہیں _

سوال (70)
کیا جس شخص کو زکوٰۃ میں سے کچھ رقم دی جارہی ہو ، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ ہے؟
جواب :
جو شخص دے رہا ہے اسے دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنی ضروری ہے _ جس شخص کو دیا جارہا ہے اسے بتانا ضروری نہیں ، بلکہ اسے نہ بتانا بہتر ہے _ اسے کسی بھی نام سے دیا جا سکتا ہے _

سوال (71)
ایک صاحب نے اپنی بہن کو ایک زمین ہدیہ کی _ وہ زمین مشترکہ ہے _ ابھی وہ خاتون اس کو بیچ نہیں سکتیں ، البتہ بعد میں بیچنے کا ارادہ رکھتی ہیں _ کیا اس زمین کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟
جواب :
کوئی زمین ہدیہ کی گئی ہو تو اس میں زکوٰۃ نہیں _ مالِ تجارت کے لیے ضروری ہے کہ چیز خریدتے وقت آگے بیچنے کی نیت ہو _ اگر اسے کسی نے ہدیہ کیا ہو یا وہ وراثت میں ملی ہو تو اگرچہ اس کو مالک بیچنے کی نیت کر لے ، وہ مالِ تجارت نہیں ہوگا اور اس کی زکوٰۃ بھی لازم نہیں ہوگی _ ہاں، جب اسے بیچ دیا جائے اور اس کا پیسہ ایک سال تک محفوظ رہے تب اس پر زکوٰۃ عائد ہوگی _

سوال (72)
اس رمضان اگر کوئی شخص مثلاً دہلی سے سعودیہ جائے اور وہاں انتیس تاریخ کو چاند ہوجائے تو اس کا 28 روزہ ہی ہوگا ۔ کیا ایسی صورت میں اسکو ایک روزہ کی قضا کرنی ہوگی ۔
جواب :
جی ہاں ، اسے ایک روزہ کی قضا کرنی ہوگی _ لیکن اگر سعودیہ والوں کے 30 روزے ہوجائیں اور اس کے 29 تو قضا کرنے کی ضرورت نہیں _

سوال (73)
کیا صدقۂ فطر رمضان کی ابتدا میں نکال سکتے ہیں؟
جواب :
صحابۂ کرام کا معمول تھا کہ عید الفطر سے ایک دو دن پہلے صدقۂ فطر نکالا کرتے تھے _ تاکہ جس کو دیا جائے وہ پہلے سے خرچ کرکے عید کے دن خالی ہاتھ نہ ہوجائے ، لیکن اسے پہلے بھی نکالا جاسکتا ہے ، رمضان کی ابتدا میں بھی _

سوال (74)
کچھ زیور رہن رکھے ہوئے ہیں _ کیا ان کی بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہے؟
جواب :
رہن رکھے ہوئے زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے _

سوال (75)
میرے پاس رہائش کے لیے گھر کے علاوہ دو مکان اور ہیں _ ایک سے کرایہ آتا ہے ، دوسرا خالی پڑا ہے _ کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرنی ہے _
جواب : مکانات پر زکوٰۃ نہیں _ ان سے جو کرایہ آتا ہے اگر وہ سال بھر تک محفوظ رہے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی _

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button