مضامین و مقالات

غیر مسلموں سے تعلقات کی شرعی حدیں۔سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی عفی عنہ

غیروں سے دوستیاں قائم کرنے والے مومنوں کے لیے ایک رہ نما تحریر
سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی عفی عنہ
 اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور قیام وبقا کا واحد ذریعہ ’’تبلیغ‘‘ یعنی اسلامی پیغام کی ترسیل و اشاعت ہے ، تبلیغ ہی کے ذریعہ یہ آفاقی دین اطرافِ عالَم میں پھیلا اور پھلا ہے ۔ آج کے اِس پر فتن دور میں بھی اِس کے عقائد و اعمال اور تعلیمات و ہدایات کو ’’دعوت و تبلیغ ‘‘ کے ذریعے ہی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے ۔ دینی تعلیم و تربیت بھی تبلیغِ دین ہی کا ایک حصہ ہے ۔ ہر مسلمان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے زیرِ اثر حلقوں تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچاے ۔ مثلاً والدین پر اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کرنا اور بڑوں پر اپنے چھوٹوں کی درست رہ نمائی کرنا لازم و ضروری ہے۔ یعنی ہر شخص کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنے متعلقین و احباب کو دین کی اہم و ضروری معلومات فراہم کرے۔ یہ طریقۂ تبلیغ ہر دَور میں موثر رہا ہے اور اِس کے انوار و برکات سے گھر گھر میں اسلامی چراغ روشن ہوا ہے ۔   مسلمانوں کو ہر وقت اپنی اِس ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے ، تاکہ مسلم معاشرہ تباہ و برباد ہونے سے محفوظ رہے اور نونہالانِ اسلام کفر و الحاد کا شکار ہونے سے بچے رہیں۔مقامِ تعجب ہے کہ جس اسلام نے معاشرے سے فسق و فجور اور ہر طرح کی خرابیوں کے ازالے کے لیے مومنوں کو یہ اجازت نہ دی کہ وہ علی الاعلان فسق و فجور کرنے والے مسلمانوں سے قلبی تعلقات اور سچی دوستیاں قائم کریں اور اُنھیں اپنا خلیل بنائیں ، آج اُسی اسلام کے نام لیواؤں کا ایک بڑا طبقہ کفار و مشرکین کے ساتھ مُوالات قائم کرکے اُنھیں اپنا ہم راز بنا کر اُن کی مشرکانہ رسوم میں شرکت کررہا ہے اور اِسے دوستی کا نام دے کر حقِّ دوستی ادا کرنے کی باتیں کر رہا ہے ۔ایسے پر آشوب حالات میں اربابِ منبر و محراب اور صاحبانِ علم و دانش کو پوری طاقت و قوت کے ساتھ کفر و الحاد کے سیلاب کو روکنا ہوگا اور اپنے بھائیوں کو دوزخ کے دائمی عذاب سے بچانے کی تدبیریں کرنی ہوں گی  ۔     آج دعوت و تبلیغ سے ہماری غفلت نے ہمارے مستقبل کو تاریکی میں لا ڈالا ہے ۔ کالجوں ، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہمارے مسلم نو جوان ’’جو کہ ہمارا قیمتی سرمایہ اور ہمارا روشن و تابناک مستقبل ہیں‘‘غیروں کی الفت و محبت کی رَو میں بہہ کر شرعی حدود پامال کر رہے ہیں اور نہ صرف یہ کہ حرام کاریوں میں مبتلا ہو کر اللہ عز و جل کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں ، بلکہ کافرانہ ومشرکانہ مراسم اختیار کرکے اپنی اخروی تباہی کا سامان فراہم کر رہے ہیں ۔ العیاذ باللہ تعالیٰ۔انھیں معلوم ہی نہیں کہ ہمارے پیارے دین نے غیر مسلموں سے تعلقات کی جو حدیں مقرر فرمائی ہیں وہ کیا ہیں اور اِس سلسلے میں ہماراقرآن ہمیں کیا ہدایات فراہم کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ قرآن کو بھی مانتے ہیں اور صاحبِ قرآن پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اپنے ایسے غافل بھائیوں کی آگاہی کے لیے چند باتیں گوش گزار کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ شریعت کی حدیں جان سکیں اور بتوفیقِ الٰہی اُنھیں حدوں میں مومن رہ کر زندگی گزار سکیں  ۔   ہمارا پیارا رب اپنی مقدس کتاب قرآنِ کریم میں ہمیں ہدایت دے رہا ہے :یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَألُوْنَکُمْ خَبَالاً۔ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ قَد بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ ۔ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الآیَاتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔[سورۂ آلِ عمران ، آیت نمبر : ۱۱۸]ترجمہ:اے ایمان والو! اپنا راز دار غیروں کو نہ بناؤ !وہ تمھیں خرابی پہنچانے کی کَسر نہ اٹھا رکھیں گے جو چیزیں تمھیں نقصان پہنچائیں وہ اُنھیں پسند کرتے ہیں ۔ بغض اُن کے منہ سے ظاہر ہو چکا ہے اور جو نفرت و عداوت انھوں نے اپنے سینوں میں چھپا رکھی ہے وہ اُس سے بھی بڑی ہے ۔ہم نے اپنی آیتیں تمھارے لیے صاف طور پر بیان کر دیں ، اگر تم سمجھ دار ہو [تو سمجھو]۔اِس آیتِ کریمہ میں پروردگارِ عالَم نے اپنے مومن بندوں کے لیے یہ ہدایت جاری فرمائی ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اپنا مخلص دوست اور راز دار نہ بنائیں ؛ کیوں کہ اُن کے دلوں میں مومنوں کے لیے نفرت و عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انھیں پریشان کرنے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، وہ یہ چاہتے ہیں کہ اہلِ اسلام تباہ و برباد ہو جائیں ، بلکہ وہ اپنے منہ سے نفرت و بیزاری کا اظہار و اعلان بھی کرتے رہتے ہیں اور جب مسلمانوں پر مصائب و آلام کا نزول ہوتا ہے تو انھیں بڑی مسرت لاحق ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت نے واضح طور پر اُن کی عداوت و دشمنی کو بیان فرما دیا ہے ۔ کوئی یہ شبہ ہرگز نہ کرے کہ یہ اوصاف تو حضور  ﷺ کے زمانے کے کفار و مشرکین کے ہیں ۔ آج کے کفار ایسے نہیں ؛ کیوں کہ یہ خداے عز و جل کا فرمان ہے جو کہ قیامت تک آنے والے تمام کافر ومشرکین کے احوال و عادات کو جانتا ہے۔ لا تتخذوا بطانۃ کا حکم صرف صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم وجمعین کے لیے نہ تھا ، بلکہ یہ حکم قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے ۔   یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ صرف زمانے کا فرق ہے ورنہ جو اوصاف و عادات حضور  ﷺ کے زمانے کے کفار ومشرکین کے تھے وہی اوصاف و عادات اور نفرت و عداوت کے جذبات آج کے کفار بالخصوص ہندوستان کے کفار میں پایے جا رہے ہیں ۔لہذا عصر حاضر کے حربی کفار و کشرکین سے قلبی دوستیاں قائم کرنا ، انھیں مخلص دوست بنا کر اپنا ہم راز بنا نا اور اُن پر اعتمادِ کلی کرنا بنصِّ قرآن حرام و ناجائز ہے ۔کیوں کہ جس طرح رات اور دن جمع نہیں ہو سکتے ، آگ اور پانی کا اجتماع نہیں ہو سکتااور سیاہی و سفیدی کا ملاپ نہیں ہو سکتا اِسی طرح کفر و ایمان کی تاثیر جمع نہیں ہو سکتی ۔چناں چہ کفر و شرک ایسی تاریکی ہے جس سے صرف عیوب و نقائص اورمتعدد برائیاںجنم لیتی ہیں ۔ مثلاً کفر ، کافر کو بدکرداری، بے حیائی ، بے غیرتی ، بت پرستی،ہٹ دھرمی، دغا بازی ، خود غرضی اور سیاہ قلبی جیسی بیماریوں میں مبتلا کرکے ہلاک کر دیتی ہے ، جب کہ ایمان مومن کو صاحبِ کردار، با حیاء، غیرت مند ، خدا پرست،منکسر المزاج ، با وفا ، متقی، بے نفس اورروشن ضمیر بناتا ہے ۔ جس طرح یہ اوصاف با ہم متضادہیں، اِن کا اجتماع نہیں ہو سکتا اِسی طرح مومن و کافر کے مابین مخلصانہ دوستی بھی قائم نہیں ہو سکتی ۔   اُن سے قلبی تعلق قائم کرنے والوں اور سچی محبت رکھنے والوں سے اللہ رب العزت نے فرمایا: ھٰٓاَ نْتُمْ اُوْلَآئِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا یُحِبُّوْنَکُمْ وَ تُؤمِنُوْنَ بِالْکِتَابِ کُلِّہٖ وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْآ اٰمَنَّاوَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ  الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْغِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔[سورۂ آلِ عمران ، آیت نمبر : ۱۱۹]ترجمہ:سنو ! تمھارا حال یہ ہے کہ تم اُن سے محبت کرتے ہو اور [ان کا حال یہ ہے] وہ تم سے محبت نہیں کرتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور [وہ] جب تم سے ملتے ہیں ،کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاے ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں تو مارے غصے کے اپنی انگلیاں چباتے ہیں ۔ اے حبیب ! آپ فرما دیجیے ! کہ تم لوگ[ اپنے غصے کی آگ میں جل کر ] مر جاؤ ! بے شک اللہ تمھارے دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے ۔ اللہ رب العزت نے اِس آیتِ کریمہ میں مومن اور کافر دونوں کی فطرتوں کو بیان فرمایا ہے، کہ صفتِ ایمان مومنوں کو اِس قدر سیدھا اور بھولا بھالا بنا دیتی ہے کہ وہ کفار و مشرکین اور یہودود و نصاریٰ کی پر فریب چالوں کو سمجھ نہیں پاتے اور اُن کی دکھاوے کی محبت سے دھوکا کھا کر انھیں اپنا مخلص دوست سمجھ کر اُن سے سچی دوستی کرلیتے ہیں، جب کہ اُن کافروں کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں سے ملاقات کے وقت اپنی مخلصانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں، اُن پر مَر مٹنے کے جذبات پیش کرتے ہیں اور تنہائیوں میں مومنوں سے اِس قدر بغض رکھتے اور حسد کرتے ہیں کہ شدتِ غضب سے اپنی انگلیاں تک چباڈالتے ہیں ۔ اِس لیے اللہ عز وجل نے فرمایا کہ: اُن کے مکر و فریب میں آکر اپنے دلوں میں نہ اُن کی محبت کا چراغ روشن کرو، نہ انھیں اپنا ہم راز بناؤ کہ اپنے دینی ، قومی اور خاندانی راز اُن سے بیان کرنا شروع کر دو اور نہ ہی اُن پر مکمل بھروسہ کرو ۔کیوں کہ اگر تم نے انھیں اپنا ہم راز بنا کر اُن پر تکیہ کیا تو ایک نہ ایک دن وہ تم کو ضرور ضرر پہنچائیں گے اور تمھارے لیے اُن کے مکر و فریب سے بچ نکلنا نہایت مشکل ہو جاے گا اور سمجھ اُس وقت آے گی جب بہت دیر ہو چکی ہوگی ؛ کیوں کہ اُن کا حال یہ ہے کہ وہ نہ تمھیں خوش دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی تمھاری ترقی برداشت کر سکتے ہیں۔  ٰٓ ایک دو نہیں بلکہ متعدد مقامات پر اُس نے اپنے بھولے بھالے مومن بندوں کو اُن سے رشتۂ مُوَالات قائم کرنے اور اُن کی مداہنت سے منع فرمایا ہے ،بلکہ شدید ترین وعیدیں بھی وارد فرمائی ہیں۔ سورۂ آلِ عمران میںارشاد فرماتا ہے :لَا یَتَّخِذِ الْمُؤمُِنوْنَ الْکَافِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤمِنِیْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلآَٔاَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً۔ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ وَ اِلٰی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔[سورۂ آلِ عمران ، آیت نمبر : ۲۸] ترجمہ: مومن کافروں کو اپنا مخلص دوست نہ بنائیں ! اور جس نے انھیں اپنا مخلص دوست بنایا تو[وہ اچھی طرح سمجھ لے کہ اُس کے رب] اللہ سے اُس کا کوئی تعلق نہ رہا ۔ مگر اُس حالت میں کہ تم اُن سے اپنا بچاؤ کرنا چاہتے ہو اور اللہ تمھیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ کی جانب سب کو لوٹ کر جانا ہے ۔   غور فرمائیں ! اللہ عز وجل نے کافروں کو اپنا ولی اور دوست بنانے والوں کو کیسی سخت وعیدیں سنائی ہیں ، یہاں تک فرما دیا کہ جنھوں نے اُنھیں اپنا دوست و ہم راز بنایا اُن کا مجھ سے کوئی تعلق نہ رہا ۔ایسی سخت تنبیہ کے بعد بھی اگر کسی مومن کا دل خشیتِ الٰہی سے معمور نہ ہو اور وہ لرزہ بر اندام نہ ہو تو اُسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے ۔ایک انسان کے لیے اِس سے بڑی محرومی بھلا کیا ہو سکتی ہے کہ اُس کا رشتہ اُس کے رب سے منقطع ہو جاے ۔ ایسا کون احمق ہوگا جو اپنے مالک سے رشتہ استوار نہ کرنا چاہتا ہو ۔ دنیا کے مجازی آقاؤں کا حال یہ ہے کہ اُن کے نوکر و غلام اُن کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں ، اُس کے لیے ہر طرح کے جتن کرتے ہیں ، طرح طرح کے وسائل تلاش کرتے ہیں کہ کسی طرح آقا کی نظرِ کرم ہو جاے اور آقا کہہ دے کہ یہ میرا غلام ہے ۔ تو مسلمانوں کو کیا ہوا کہ وہ احکم الحاکمین اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے اور اُس سے رشتۂ محبت استوار رکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور اُس کے سختی سے منع کرنے اور طرح طرح سے سمجھانے کے باوجود کفار و مشرکین سے رشتۂ موالات تَرک کرنے اور ان کی اتباع و پیروی سے منحرف ہونے کے لیے آمادہ نہیں ہیں ۔اللہ رب العزت ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَرْکَنُوٓا اِلٰی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ ثُّمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ۔ [ سورۂ ھود ، آیت نمبر: ۱۱۳] ترجمہ:اور اُن کی جانب مائل مت ہو جنھوں نے[کفر و شرک کے ذریعے اپنی جانون پر] ظلم کیا ، ورنہ تمھیں بھی [دوزخ کی] آگ پہنچے گی اور اُس وقت تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی مدد گار نہیں ہوگا ، پھر [من جانب اللہ ] تمھاری مدد بھی نہ کی جاے گی ۔   اِس آیتِ کریمہ میں رب تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین سے موالات و مداہنت کی واضح ممانعت فرمائی اور صاف طور پر اعلان کر دیا کہ خود کو مسلمان کہنے والے جو لوگ بھی اِس جرمِ عظیم کے مرتکب ہوں گے انھیں دوزخ کی بھڑکتی آگ میں گرفتارِ عذاب کیا جاے گا اُس وقت نہ کوئی دوست اُنھیں بچا سکے گا اور کسی قسم کے حیلے بہانے انھیں کچھ فائدہ دے سکیں گے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close