مضامین و مقالات

غیر محرم کو دیکھنا-محمد نعیم گریڈ جھارکھنڈ

زنا کی ابتدا غیر محرم کو دیکھنے سے ہوتی ہے اسی لیے شریعت نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے اگر شرعی ضرورت کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا پڑے تو باپردہ حالت میں نکلنے کا حکم ہے مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ اپنی نگاہیں پست رکھی تاکہ ایک دوسرے پر نظر ہی نہ پڑے اور زنا کا خیال ہی دل میں پیدا نہ ہو جہاں پردے میں کوتاہی اور غفلت ہو گئی اور غیر محرم مرد اور عورت ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو طبیعتوں میں شہوت پیدا ہوجائے گی نفس اور شیطان گھوڑے کی ڈاک کا کام کریں گے اور زنا کا مرتکب کروا کے رہیں گے اجنبی غیر محرم سے مل ملاپ میں بہت رکاوٹیں ہوتی ہے لیکن قریبی رشتہ دار غیر محرم سے میل میل ملاپ میں بہت آسانیاں ہوتی ہیں


اسی لئے حدیث پاک میں فرمایا گیا , الحمو الموت( دیور تو موت ہے), شریعت نے دیور اور بہنوئی سے بھی پردے کا حکم دیا ہے عام طور پر خالہ زاد, ماموں زاد, پھوپھی زاد اور چچازاد ہی چار بڑے رشتے ہوتے ہیں بلاشک بہت نازک ہی نہیں ہوتے ہیں بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہوتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ قصائی ہوتے ہیں عام لوگ کہتے ہیں کہ سالی آدھے گھر والی ہوتی ہے جبکہ سالی ہی تو سوالی ہوتی ہے عورت کی کمزوری ہے کہ جب بھی کسی کی شخصیت حسن گفتگو اور اخلاق وغیرہ سے متاثر ہوتی ہے تو اس کے لئے نرم ہو جاتی ہے بلکہ اسے میل ملاپ کے لئے گرم ہوجاتی ہے  ,,,بقول شاعر
..عورت جدوں کسے تے مہربان ہووئے
پیالہ بول دا لا آگے ڈاہ دیوے,,

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close