قومی

عیسائی خاتون مسلمان شوہر کے ساتھ رہے گی،عدالت کا بین مذہبی شادی میں مداخلت سے انکار

کوچی19اپریل(ہندوستان اردو ٹائمز) کیرالہ ہائی کورٹ نے جیوتسنا میری جوزف کے والد کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو نمٹاتے ہوئے بین مذہبی شادی میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیاہے۔

عدالت نے منگل کوایک عیسائی خاتون کے ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (DYFI) کے مسلم لیڈر سے شادی کرنے کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیاہے۔ خاتون کے اس فیصلے نے ریاست میں ایک سیاسی تنازعہ کو جنم دیا جب اس کے رشتہ داروں نے اسے ’لو جہاد‘ کاکیس قرار دیالیکن خاتون نے عدالت کو واضح طور پر بتایا کہ اسے غیر قانونی طور پر قید نہیں کیا گیا اور وہ اس وقت اپنے خاندان سے بات نہیں کرنا چاہتی ہے۔

جسٹس وی جی ارون اور سی ایس سودھا کی بنچ نے خاتون جیوتسنا میری جوزف سے بات چیت کرنے کے بعد کہاہے کہ اس نے واضح طور پر کہا کہ اس نے (ڈی وائی ایف آئی لیڈر) شیجن نے اپنی مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیاگیاہے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہاہے کہ اس نے (خاتون) یہ بھی کہا کہ وہ اس وقت اپنے والدین یا خاندان سے بات نہیں کرنا چاہتی ۔اس نے کہا ہے کہ وہ اس کے بعد ان سے ملنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کے لیے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت درخواست دائر کی گئی ہے، جو زیر غور ہے ۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button