عجیب و غریب

علی گڑھ میں مسلم لڑکی نے ’ہندو دوست ‘ سے مندر میں رچائی شادی

علی گڑھ، 6ستمبر:(ذرائع)اطلاع کے مطابق یوپی کے ضلع علی گڑھ میں فتنۂ ارتدادکی بھیانک تصویر سامنے آئی ہے ۔ جہاں آر ایس ایس کے چلائی گئی تحریک ’ گھر واپسی‘کا لرزہ خیزمنظر سامنے آیا ۔ یوں تو لوَ جہاد کے نام فسطائی طاقتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی ہنگامہ آرائی کرتی نظر آتی ہے ، لیکن ’گھر واپسی ‘پر میڈیا اپنے منھ میں دہی جمائے ہوا ہے ۔ ایسا ہی ایک معاملہ علی گڑھ میں دیکھنے کو ملا ۔تفصیلات کے مطابق یہاں ایک مسلم لڑکی (جو کاس گنج کی رہائشی بتائی جاتی ہے ) نے مندر میں ہندو رسومات کے مطابق اپنے ہندو دوست سے شادی کرلی۔

خیال رہے کہ ضلع علی گڑھ کے تھانہ پالی مقیم پور کے تحت گاؤں بیجولی کے رہنے والے امیت مہیشوری نے ضلع کاس گنج کی رہنے والی لڑکی نشا خان سے شادی کی ہے۔ نشاخان نے فتنۂ ارتداد کی پرواہ کئے بغیرنیزماقبل ہونے والی مسلم لڑکیوں کے ساتھ ہندو شوہر وں کی طرف سے ہونے والی بدسلوکیوں کی خوفناک خبروں کو نظر ا نداز کرکے اپنے عاشق امیت سے 7 چکر لگا کر شادی کرلی۔

اس سلسلے میں بجرنگ دل کے ضلعی عہدیدار شوبھم سنگھل نے کہا کہ جو شادی ہوئی وہ لڑکے اور لڑکی کی رضامندی سے ہوئی، اس میں تمام ہندووادی افراد موجود تھے۔ ان کی شادی شیو مندر بجولی میں ہوئی، یہ شادی ان کی زندگی میں ایک نئی کرن ہے۔ابھی تک ا س شادی کے سلسلے میں نشاخان کی والدین کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ صرف یوپی کے مختلف اضلاع ہی نہیں ؛بلکہ پورے ملک میں مختلف ہندوقوم پرست تنظیموں کی طرف سے مسلم لڑکیوں کو جھوٹے پیار کے چنگل میں پھنسا کراور سبز باغ دکھا کر شادی کے ذریعہ گھر واپسی کی مہم چلا جا رہی ہے ، لیکن بے حس ماں باپ تمام نتائج سے بے پرواہ ہیں۔ جبکہ مسلم تنظیمیں بھی اس سلسلے میں کسی طرح کی مثبت پیش رفت اور مؤثر مہم چلانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ علی گڑھ کا یہ حادثہ مسلم قوم ، مسلمان ماں باپ اور عالی مرتبت مفکرین کے لئے پھر ایک زیانہ ہے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close