مضامین و مقالات

علماء اور عام امت مسلمہ سے شاہ ولی اللہ رح کا خطاب : محمد قمرالزماں ندوی

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ

انسان کو انسانیت، صدق و صفا اور مختلف خداوں کے بجائے خدائے واحد کی راہ پر گامزن کرنے اور ان کے اندر عشق و معرفت کی جوت جگانے میں سلف صالحین کی صحبتیں اور ان کی تربیت کے طور و طریقے ان کے مواعظ و ارشادات، خطاب و ملفوظات نہایت موثر ثابت ہوتے ہیں ، جنھیں سننے پڑھنے اور ان پر عمل کرنے سے انسان کی زندگی میں حیرت انگیز انقلاب اور تبدیلی رونما ہوتی ہے ۔
ہندوستان میں بھی اسلام کی تبلیغ اور علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت علماء ربانی،مبلغین،مصلحین اور شیوخ طریقت کے ذریعہ ہوئی، اور دہلی کی تخت شاہی سے بنگال کی کھاڑی تک،صوبئہ سرحد اور ملتان سے ، کیرالہ تک لا تعداد اور ان گنت انسانوں پر صاحب نسبت بزرگوں کی نظر معرفت اور اقوال و عرفاں اور مواعظ و ملفوظات کا ایسا اثر ہوا کہ بجلی کی تیزی سے لوگ آغوش اسلام میں آتے چلے گئے ۔
آج جہاں ایک طرف قرآن و حدیث کے مطالعے سے بے توجھی ہے، قرآن و حدیث میں تدبر اور تفکر کرنے والوں کی کمی ہے، وہیں دوسری طرف بزرگوں کے ملفوظات و مواعظ اور ان کی مجلسی، ارشادات،مواعظ اور گفتگووں کو پڑھنے اور ان سے استفادہ کرنے کا رجحان بھی ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ جدید انٹرنیٹ کی سہولت اور حضرت مفتی گوگل نے مطالعہ کا رجحان ہی ختم کردیا ہے ، بعض لوگ تو پورا سال گزر جاتا ہے، اخبارات کے علاوہ قرآن مجید کی تلاوت اور دینی و شرعی کتابوں کے پڑھنے کا ان کو موقع ہی میسر نہیں ہوتا، وہ اپنی ساری توانائی اور جدو جہد کمرشیل تعلیم اور ایکنامکس تعلیم میں صرف کردیتے ہیں ۔ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت اور احادیث نبویہ کو پڑھنا اور ان دونوں پر عمل کرنا یہ تو شریعت میں مطلوب ہے ہی، ان کے علاوہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بزرگوں، اور اسلاف کی تحریروں اور ان کے مواعظ و ارشادات اور ملفوظات و خطابات کا بھی اہتمام سے مطالعہ کریں اور خاص طور پر سیرت و سوانح اور شخصیات و رجال اور ان کے کارناموں کا مطالعہ اپنی زندگی کا ایک حصہ بنائیں، اس سے عمل کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے اور فکر آخرت پیدا ہوتی ہے ۔
آج حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی شہرئہ آفاق تصنیف،تاریخ دعوت و عزیمت جلد /۵ کا مطالعہ کر رہا تھا، دوران مطالعہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کا ایک انتہائی پر مغز و پر اثر خطاب علماء اور عام امت مسلمہ کے نام پڑھا، دل پر اثر ہوا ایک کچوکے سا لگا، اپنی حالت زار ،لا پرواہی اور بے ہنگم و بے ترتیب اور عمل سے خالی زندگی پر شرمندگی اور ندامت ہوئی، سوچا آپ حضرات تک بھی شاہ صاحب رح کے اس جامع اور پرمغز خطاب کو پہنچا دوں، اس جذبہ سے کہ خود بھی عمل کروں اور دوسروں کے عمل کے لئے ذریعہ بن جاوں ۔
شاہ صاحب نے اپنے زمانے کے علماء اور عام لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج کے علماء اور عوام سے خطاب کر رہے ہیں ۔ آئیے اس خطاب کو توجہ سے اور عمل کے جذبہ سے پڑھتے ہیں ۔
اے وہ لوگو ! جنہوں نے اپنا نام ۔۔علماء ۔۔ رکھ چھوڑا ہے، تم یونانیوں کے علوم و فنون میں ڈوبے ہوئے ہو،اور صرف و نحو معانی میں غرق ہو اور سمجھتے ہو کہ یہی علم ہے ،یاد رکھو ! علم یا تو قرآن کی کسی آیت محکم کا نام ہے یا سنت ثابتہ قائمہ کا ۔
جن علوم کی حیثیت صرف ذرائع اور آلات کی ہے( مثلا صرف و نحو وغیرہ) تو ان کی حیثیت آلہ اور ذریعہ ہی رہنے دو نہ کہ خود ان ہی کو مستقل علم بنا بیٹھو علم کا پڑھنا تو اس لئے واجب ہے کہ اس کو سیکھ کر مسلمانوں کی بستی میں اسلامی شعائر کو رواج دو ۔ لیکن تم نے دینی شعار اور اس کے احکام تو پھیلائے نہیں اور لوگوں کو زائد از ضرورت باتوں کا مشورہ دے رہے ہو ۔
آدم کے بچو ! دیکھو ،تمہارے اخلاق سو چکے ہیں ،تم پر بے جا حرص و آرزو کا ہوا سوار ہو گیا ہے، تم پر شیطان نے قابو پا لیا ہے، عورتیں مردوں کے سر چڑھ گئ ہیں اور مرد عورتوں کے حق برباد کر رہے ہیں، حرام کو تم نے اپنے لئے خوش گوار بنا لیا ہے اور حلال تمہارے لئے بدمزہ ہو چکا ہے ۔ دیکھو ! اپنے مصارف وضع قطع میں تکلف سے کام نہ لیا کرو،اسی قدر خرچ کرو جس کی تم میں سکت ہو،غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھو ،تم میں کچھ لوگ جو دنیا کماتے ہیں اور اپنے دھندوں میں اتنے پھنس گئے ہیں کہ نماز کا انہیں وقت ہی نہیں ملتا، تم میں بعض لوگ ہیں جنہوں نے تقریبات کی دعوتوں میں حد سے زیادہ تکلف برتنا شروع کردیا ہے ،تم نے ایسے بگڑے ہوئے رسوم اختیار کر لئے ہیں جن سے دین کی اصلی صورت بگڑ گئ ہے ۔ دیکھو! رہنے سہنے اور ہر معاملے میں اعتدال کا جادہ اختیار کرو ۔ اللہ کی یاد کے لئے جو فرصت دستیاب ہو اسے غنیمت شمار کرو ۔ کم از کم تین وقتوں صبح، شام،اور پچھلی رات کے ذکر کا خاص طور سے خیال رکھو ،حق تعالی کی یاد ،اس کی تسبیح و تہلیل اور قرآن کی تلاوت کے ذریعہ سے کرو ،حدیث، قرآن اور ذکر کے حلقوں میں حاضر ہوا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے آدم کے بچو! تم نے ایسے بگڑے ہوئے رسوم اختیار کرلئے ہیں، جن سے دین کی اصلی صورت بگڑ گئی ہے، تم عاشورہ کے دن، جھوٹی باتوں پر اکھٹے ہوتے ہو، اسی طرح شب برائت میں کھیل کود کرتے ہوہو، اور مردے کے لیے کھانے پکا پکا کر کھلانے کو اچھا خیال کرتے ہو، اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل پیش کرو،۔
تم نے اپنی نمازیں برباد کر رکھی ہیں، تم میں کچھ لوگ ہیں، جو دنیا کمانے میں اور اپنے دھندوں میں اتنے پھنس گئے ہیں کہ نماز کاانہیں وقت ہی نہیں ملتا، کچھ لوگ ہیں جو قصہ کہانی سنے میں وقت گنواتے ہیں، تم نے زکوٰۃ بھی چھوڑ دیا ہے، حالانکہ کوئی ایسا دولت مند نہیں ہے، جس کے اقربا و اعزہ میں حاجت مند لوگ نہیں ہوتے، اگر ان لوگوں کی وہ مدد کیا کریں اور ان کو کھلایا پلایا کریں اور زکوٰۃ کی نیت کرلیا کریں تو یہ بھی ان کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔ تم میں بعضوں نے روزے چھوڑ رکھے ہیں، خصوصا جو فوجی ملازم ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہیں ، ۔ ۔
اصلاح رسوم اور اصلاح معاشرہ کے حوالے سے شاہ صاحب نے جو خطاب فرمایا اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے۔
ہماری بری عادت یہ ہے کہ بہت لمبا مہر باندھتے ہیں، آنحضرتﷺ اپنے گھر والوں کے مہر (جو سب سے بہتر خلائق تھے) ، ساڑھے بارہ اوقیہ مقرر فرمائے تھے، جس کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں، ہماری ایک دوسری بری عادت اسراف فضول خرچی کی ہے کہ خوشی کے موقع پر اور رسموں میں بہت خرچ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادیوں میں صرف ولیمہ اور عقیقہ ثابت ہے، ان دونوں کی پابندی کرنی چاہیے، اور اس کے علاوہ سے بچنا چاہیے۔ ہماری بری عادتوں میں غم کے موقع پر ستم چہلم فاتحہ اور سالانہ کے نام پر بھی اسراف ہے، حالانکہ ان میں سے کسی کا عرب اولین میں رواج نہیں تھا، بہتر یہی ہے کہ میت کے ورثاء کی تین دن تعزیت اور ایک شب و روز کے کھانے کے علاوہ کوئی اور رسم نہ کریں ۔۔۔ ( ملخص تاریخ دعوت و عزیمت جلد ۵/)
ان اقتباسات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شاہ صاحب نے مسلمانوں کے ماضی، اور حال کا کس قدر تفصیلی جائزہ لیا ہے اور کس قدر جامعیت کیساتھ ان پر تنقید کی ہے۔۔۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو ان قیمتی اور بیش بہا خطاب اور نصیحت پر بھر پور عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین
( ناشر مولانا علاء الدین ایجوکیشنل، سوسائٹی، دگھی، گڈا، جھارکھنڈ)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close