قومی

عدلیہ کے موقف سے مایوسی کا شکار ، میرا سر شرم سے جھک جاتاہے : کپل سبل

نئی دہلی،3جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) سماج وادی پارٹی کے رہنما اور سینئر وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے ملک میں عدلیہ کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اتوار کو کہا کہ عدلیہ کے کچھ ارکان نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ حال ہی میں جو کچھ ہوا اس سے میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔کپل سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں جس طرح اظہار رائے کی آزادی کی تشریح کی ہے، بدقسمتی سے اسے وہ مقام نہیں مل سکا ہے، جس کی آئینی ضمانت دی گئی ہے۔

انہوں نے بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت پر آئینی اداروں کا گلا گھونٹ کر ایمرجنسی نافذ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،حکومت نہ صرف کانگریس مکت بھارت چاہتی ہے بلکہ اپوزیشن ’مکت بھارت‘ بھی چاہتی ہے۔آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی گرفتاری پر انہوں نے کہا کہ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عدلیہ کے کچھ ارکان نے ہمیں مایوس کیا۔ زبیر کی گرفتاری اور دہلی کی ایک عدالت کی جانب سے ضمانت نہ دینے پر انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے اس طرح کے ٹویٹ کے لیے انہیں گرفتار کرنا سمجھ سے باہر ہے۔

اس ٹویٹ کا فرقہ وارانہ اثر بھی نہیں ہوا۔کپل سبل ان دنوں برطانیہ میں ہیں۔ وہاں سے انہوں نے یہ باتیں ایک نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کہیں۔ سابق وزیر قانون نے کہا کہ وہ پچھلے 50 سال سے عدلیہ کا حصہ ہیں، حال ہی میں جو کچھ ہوا ہے اس پر میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے جب عدلیہ قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی پر آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ادارہ کھلی آنکھوں سے خلاف ورزی کی اجازت کیوں دیتا ہے؟سبل پچھلی یو پی اے حکومت میں وزیر قانون تھے۔

انہوں نے ایودھیا تنازعہ سمیت کئی مشہور مقدمات میں سپریم کورٹ میں وکالت کی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے کانگریس چھوڑ کر حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں وہ سماج وادی پارٹی کی حمایت سے دوبارہ ایوان بالا میں پہنچے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button