عجیب و غریب

دو بھائیوں نے دو پہاڑیوں کی چوٹیوں کے درمیان رسی پر 1600 فٹ چلنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا

امریکی شہر سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں نے دو پہاڑیوں کے درمیان رسی پر چل کر اسے عبور کرنے کا ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انتہائی بلندی پر باندھی گئی تار پر طویل فاصلہ طے کرنے کا یہ نیا ریکارڈ ہے۔یہ پہاڑیاں ریاست کیلی فورنیا کی ایک بڑی سیر گاہ ‘یوسیماٹی نیشنل پارک’ میں واقع ہیں۔

ان پہاڑیوں کے درمیان 1600 فٹ سے زیادہ فاصلہ ہے جس کے نیچے گہری کھائیاں ہیں۔ پہاڑی چوٹیوں کی بلندی سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ زیادہ ہے۔ اتنی بلندی پر جانے کے بعد رسے پر طویل فاصلہ طے کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے اور ذرا سی غلطی کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

اخبار سان فرانسسکو کرانیکل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ مہم سر کرنے کے کام کا آغاز جون کے اوائل میں ہوا۔ موئیسز اور ڈینیئل نے یہ کارنامہ سرانجام دینے کے لیے ٹفٹ اور گولیز نامی چوٹیوں کا انتخاب کیا جن کا درمیانی فاصلہ 1600 فٹ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اپنے دوستوں کی مدد سے دونوں چوٹیوں کے درمیان تقریباً 2800 فٹ لمبی رسی باندھی۔

یوسیمائی نیشنل پارک کے پہاڑی سلسلوں کا ایک منظر

موئیسز اور ان کے بھائی ڈینیئل دونوں رسے پر چلنے کے ماہر ہیں۔ وہ گزشتہ ایک سال سے یہ ریکارڈ قائم کرنے کے متعلق سوچ رہے تھے۔

موئیسز کی عمر 26 سال ہے۔ انہوں نے سان فرانسسکو کرونیکل کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب بھی ہم یوسیمائی نیشنل پارک جاتے اور ان پہاڑی چوٹیوں اور ان کے درمیان گہری کھائیوں کو دیکھتے تھے تو ہمیں خیال آتا تھا کہ اسے رسے کی مدد سے عبور کرنا چائیے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ہم نے نائلون کی بنی ہوئی رسے نما ایک پٹی کا انتخاب کیا، جس کی چوڑائی ایک انچ اورموٹائی چند ملی میٹر تھی۔ اسے دونوں پہاڑیوں کی چوٹیوں پر مضبوطی سے باندھ دیا گیا۔ اور اس طرح چلنے کے لیے ایک رسہ تیار ہو گیا۔

کسی بھی حادثے سے بچنے کے لیے نائلوں کی پٹی میں تین انچ قطر کا اسٹیل کا ایک چھلا ڈالا گیا اور پٹی پر چلنے والے کو اس کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا گیا، تاکہ اگر کسی ناگہانی صورت حال میں وہ گر پڑے تو رسے میں ہی معلق ہو جائے اور پھر سنبھلنے کے بعد دوبارہ پٹی پر کھڑا ہو جائے

یوسیمائی نیشنل پارک کی ایک چٹان پر ایک جوڑے کی شادی کی تقریب ہو رہی ہے۔ اس پارک میں یہ مناظر گاہے بگاہے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

موئیسز نے بتایا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ دونوں پہاڑیوں کے درمیان ایک گہری کھائی اور اس میں جڑی بوٹیاں اور گھنے درخت تھے۔ پہلے نائلون کی پٹی کو نیچے کھائی اور درختوں سے گزار کر ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پہنچانا تھا اور پھر کوئی ایسی مضبوط چیز ڈھونڈنی تھی جس سے باندھ کر اسے اس طرح کھینچا جائے کہ وہ تن جائے اور پاؤں جما کر چلنے کے لیے تیار ہو جائے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ سارا کام ہمارے 18 دوستوں کی ٹیم نے چھ دنوں میں مکمل کیا۔ اور نائلون کی پٹی کو ایک چوٹی پر گرینائٹ کی چٹان کے گرد لپیٹ کر باندھا گیا جب کہ دوسری چوٹی پر ایک مضبوط درخت کے تنے سے یہ کام لیا گیا۔

موئیسز کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت مشکل اور خطرناک کام تھا جسے خوش اسلوبی سے کر لیا گیا۔ اور ہاں اس سے بھی اہم کام اس مہم کے لیے پارک کی انتظامیہ سے پیشگی منظوری حاصل کرنا تھا۔ جس کی انہوں نے بخوشی اجازت دے دی۔

موئیسز نے بتایا کہ 10 جون کو نائلون کی رسی اس مہم کے لیے تیار تھی۔ سب سے پہلے چھوٹے بھائی ڈینیئل نے، جس کی عمر 23 سال ہے، رسے پر قدم رکھا۔ اس روز ہوا تیز تھی۔ تین یا چار بار تو اس کا توازن بگڑا اور وہ گر کر رسی میں جھول گیا۔ تاہم وہ دوسرے سرے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ موئیسز کا پاؤں بھی دو بار پھیلا اور وہ بھی گرا۔ تاہم یہ ریہرسل تھی۔

آخری کوشش میں موئیسز 37 منٹ میں بغیر گرے 1600 فٹ کا فاصلہ طے کرنے کے بعد دوسری چوٹی پر پہنچ گیا۔ موئیسز کہتے ہیں کہ جب میں دوسری چوٹی پر پہنچا تو میری ٹیم کے تمام ارکان وہاں میرے منتظر تھے۔ ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ میرے لیے وہ لمحات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ مجھے اتنی خوشی رسے پر پہاڑیوں کی چوٹیاں عبور کرنے پر نہیں ہوئی جتنی اپنی ٹیم کے والہانہ استقبال اور آنکھوں کی چمک دیکھ کر ہوئی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close