عجیب و غریب

اٹھارہ سالہ لڑکی نے اپنی آن لائن پوسٹس سے 14 ملین ڈالر کما لیے

واشنگٹن (ہندوستان اردو ٹائمز) امریکی ریاست میری لینڈ کے قصبے اولنی سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ کیٹی فینی ‘زوم’ پر اپنی آن لان کیلکولس کلاس میں تھیں، جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کی ‘اسنیپ چیٹ’ پر اسکیٹس اور ان باکسنگ ویڈیوز نے ایک ہفتے میں 2 لاکھ 29 ہزار ڈالر کمائے۔ گزشتہ سات ماہ میں کیٹی کی کل آمدنی ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہے جو امریکہ کی ایک مہنگی یونیورسٹی پین اسٹیٹ میں ان کی کالج کی فیس دینے کے لئے کافی ہو گی۔

پچھلے سال، سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیوں نے کیٹی فینی جیسے شوقیہ مواد تیار کرنے والے لوگوں (Content creators) کو راغب کرنے کے مقصد سے درجنوں نئے فیچرز کا اعلان کیا۔

ٹک ٹاک کے ٹولز نے عام افراد کو بڑے پیمانے پر اپنی آڈینس یا صارف پیدا کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لئے 2 ارب ڈالر کے تخلیقی یا creative فنڈ کی مدد سے اس تیزی سے فروغ پاتے شعبے کی طرف توجہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کے علاوہ ٹویٹر نے بھی حال ہی میں ایک نیا فیچر "سپر فالو” متعارف کیا ہے۔ یہ فیچر صارفین کو مقبول ٹویٹر شخصیات کو خصوصی مواد کے لیے ادائیگی کرنے، اور اپنے نئے براہ راست آڈیو چیٹ رومز کے لیے معاوضہ ٹکٹنگ دینے کا اعلان کرنے کے قابل بناتی ہے۔ رواں ماہ ٹویٹر نے آن لائن ادائیگی کا ایک اور طریقہ "ٹپ جار” بھی شروع کیا ہے۔

پچھلے سال ڈومینک اینڈر نے سنیپ چاٹ کے ڈریعے نو لاکھ 70 ہزار ڈالر کمائے۔ وہ اس فریم میں کیلی فورنیا کا اپنا گھر دکھا رہے ہیں۔ 24 مئی 2021

ایک سال پرانی مشہور آڈیو چیٹ ایپ ‘کلب ہاؤس’ میں سرمایہ کاری کرنے والی وینچر کیپیٹل فرم سگنل فائر کے جوش کانسٹائن کا کہنا ہے کہ "طاقت پلیٹ فارم سے تخلیق کاروں کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ سبھی پلیٹ فارمز میں تیزی آ گئی اور انہیں احساس ہوا کہ اگر وہ انہوں نے ایسی خصوصیات پر مبنی فیچرز متعارف نہ کروائے تو انہیں اپنی قوت کھو جانے کا شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔”

پچھلے مہینے جب لاس اینجلس میں مقیم فوٹو گرافر نسرین ڈانن کو معلوم ہوا کہ وہ ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن کما سکتی ہے تو انہوں نے اپنے 27،000 فالوورز کو ٹویٹ کیا، "میں نے 2009 سے اب تک 40،000 بار مفت میں ٹویٹ کیا ہے، لہذا اگر میں آپ کو تھوڑی سی بھی تفریح فراہم کرتی ہوں تو میں کم از کم ایک ڈالر کی توقع کر سکتی ہوں۔” اس نے بتایا کہ اس مہینے میں اس نے چند سو ڈالر کمائے۔

تخلیق کاروں کو مشغول رکھنے کے لئے، ٹیک پلیٹ فارمز نے صارفین کو ادائیگی کے لئے فنڈز مختص کیے ہیں۔ اسنیپ چیٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی "اسپاٹ لائٹ” پر پچھلے 6 مہینوں میں 130 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔

یوٹیوب، جس نے طویل عرصے سے ویڈیو پوسٹ کرنے والوں کو پیسہ کمانے کے طریقے فراہم کیے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے تین برسوں میں شوقیہ مواد تیار کرنے والے کانٹنٹ کریئیٹرز اور میڈیا تنظیموں کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کی ادائیگی کی ہے، اور حال ہی میں نئے فیچر ‘شارٹس’ کے تخلیق کاروں کے لئے مزید 100 ملین ڈالر کا فنڈ شروع کیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close