عجیب و غریب

یوپی: آخری رسومات کے وقت مردے (عبدالمبعود) کی سانس اور دھڑکن چلنے لگی

لکھنؤ ، 13، مئی (ہندوستان اردو ٹائمز) ریاست اترپردیش میں مردہ قرار دیا گیا شخص آخری رسومات سے قبل زندہ ہوگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست اترپردیش کے علاقے سلطان پور کے اسپتال میں عبدالمبعود نامی شخص کو سانس میں تکلیف کے بعد اسپتال لایا گیا، جس کی ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کرنے کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کی۔اہل خانہ انتہائی غمزدہ حالت میں لاش واپس گھر لائے تو جسد خاکی کے اوپر پڑی چادر میں حرکت ہونے لگی۔

اس حرکت کو سب سے پہلے مذکورہ شخص کی بیٹی نے نوٹ کیا اور پھر اُس نے ایک ایک کر کے سب کو آگاہ کیا، اہل خانہ نے محلے کے ڈاکٹر کو بلا کر صورت حال سے آگاہ کیا تو اُس نے نبص اور آکسیجن لیول چیک کیا۔اس صورت حال میں اہل خانہ نے ایمبولینس بلائی اور اُسے لکھنؤ کے دوسرے اسپتال لے کر پہنچے۔ جہاں ڈاکٹرز نے اُسے 7 گھنٹے تک آئی سی یو میں رکھا اور پھر مریض کی موت ہوگئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ اترپردیش کے علاقے سلطان پور کے ضلع کوتوالی نگر میں واقع دریا پور میں پیش آیا۔ عبد المعبود کے بھائی کی اہلیہ شاہدہ بانو کا کہنا ہے کہ انہیں (جیٹھ) آکسیجن کی ضرورت تھی، اس لیے سرکاری اسپتال لے گئے تھے۔ جہاں ڈاکٹرز نے انہیں تین سے چار انجکشن لگائے، اس کے بعد بھی مریض الجھن تھی۔ جب ہم نے آکسیجن کا مطالبہ کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ آکسیجن سلینڈر خالی نہیں ہے۔

شاہدہ نے مزید بتایا کہ جب مریض کو سکون نہ ملا تو پھر انہیں سرکاری اسپتال سے پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ان کی دل کی دھڑکن بیٹھ گئی تھیں اور آکسیجن کی سطح بھی نیچے تھی۔ ڈاکٹر نے مریض کو نجی اسپتال میں داخل کرنے سے انکار کردیا۔

ڈاکٹر نے کہا جہاں آکسیجن موجود ہو وہاں مریض کو لے جائیں، مجبورا پھر ہم اُنہیں سرکاری اسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹرز نے سینے پر پمپ کیا اور جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو پھر ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالمعبود کی صاحبزادی ثنا نے بتایا کہ ’جب ہم نے آدھی رات کو کفن دفن کی تیاری شروع کی اور رات گئے لاش کے لیے چلر لائے تو اوپر پڑی چادر حرکت کرنے لگی‘۔

’میں نے والدہ کو اس ساری صورت حال سے آگاہ کیا تو پہلے چلر بن کیا مگر چادر ہل رہی تھی جس کے بعد منہ سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو والد کی سانس چل رہی تھی‘۔

بھائی معشوق نے بتایا کہ ’ہم نے جب چادر ہٹائی تو سانس کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی چل رہی تھی، اس لیے ڈاکٹر کو بلا کر دوبارہ معائنہ کروایا اور پھر اسپتال لے کر گئے، جہاں 7 گھنٹے رکھنے کے بعد صبح کے وقت ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کی‘۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close