عجیب و غریب

یوگی حکومت کا پیسہ اقبال مرچی کی کمپنی میں!

سرکاری ملازمین کے پی ایف کا پیسہ بھی خرچ کیاگیا

یوگی حکومت کا پیسہ اقبال مرچی کی کمپنی میں!
سرکاری ملازمین کے پی ایف کا پیسہ بھی خرچ کیاگیا
لکھنو۔ ۲؍نومبر: متنازعہ کمپنی ’دیوان ہاؤسنگ فائنانس کارپوریشن لمیٹڈ‘ (ڈی ایچ ایف ایل) کے ساتھ اتر پردیش حکومت کے مبینہ معاہدہ کو لے کر لکھنؤ میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے یو پی پی سی ایل نے ایک متنازعہ فیصلہ کے تحت مبینہ طور پر اپنے ملازمین کے 2600 کروڑ روپے کے فنڈ کا ڈی ایچ ایف ایل میں سرمایہ لگایا ہے۔ قابل غور ہے کہ ڈی ایچ ایف ایل کے پروموٹروں سے حال ہی میں انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے داؤد ابراہیم کے ایک سابق معاون اقبال مرچی کی ایک کمپنی کے ساتھ رشتوں کو لے کر پوچھ تاچھ کی ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈی ایچ ایف ایل سے اقبال مرچی کا کوئی رشتہ ہو سکتا ہے۔انجینئروں اور ملازمین کے ایسو سی ایشن نے پی ایف کے پیسے کو ایک متنازعہ کمپنی میں لگانے کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا ہے۔ یو پی پی سی ایل کے چیئرمین کو لکھے ایک خط میں ایمپلائی آرگنائزیشن نے ملازمین کے جی پی ایف اور سی پی ایف سے متعلق پیسے کی سرمایہ کاری کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔یو پی اسٹیٹ الیکٹرسٹی بورڈ انجینئرس ایسو سی ایشن (یو پی ایس ای بی ای اے) کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو اب یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ایک متنازعہ کمپنی میں جمع کی گئی ہزاروں ملازمین کی محنت کی کمائی واپس لائی جائے۔ یو پی ایس ای بی ای اے کے جنرل سکریٹری راجیو کمار سنگھ نے کہا کہ ’’اب بھی 1600 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ڈی ایچ ایف ایل میں پھنسی ہوئی ہے۔ حکومت یہ پیسہ واپس لائے۔ ہم حکومت سے ایک یقین دہانی بھی چاہتے ہیں کہ جی پی ایف یا سی پی ایف ٹرسٹ میں موجود پیسوں کو مستقبل میں اس طرح کی کمپنیوں میں نہیں لگایا جائے گا۔‘‘یو پی ایس ای بی ای اے کے خط میں کہا گیا ہے کہ (یو پی اسٹیٹ پاور سیکٹر ایمپلائی ٹرسٹ کے) بورڈ آف ٹرسٹی نے سرپلس پی ایف کو ڈی ایچ ایف ایل میں مارچ 2017 سے دسمبر 2018 تک جمع کر دیا۔ اس درمیان بمبئی ہائی کورٹ نے کئی مشتبہ کمپنیوں اور سودوں سے اس کے جڑے ہونے کی اطلاع کے مدنظر ڈی ایچ ایف ایل کی ادائیگی پر روک لگا دی۔خط میں آگے کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ کے سکریٹری نے فی الحال اعتراف کیا ہے کہ 16000 کروڑ روپے اب بھی ڈی ایچ ایف ایل میں پھنسا ہوا ہے۔ انجینئر ایسو سی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ پی ایف کو کسی نجی کمپنی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا جانا ان ضابطوں کی خلاف ورزی ہے جو ملازمین کی سبکدوشی کے بعد کے لیے اس فنڈ کو محفوظ کرتے ہیں۔اسی درمیان آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن کے چیئرمین شیلندر دوبے نے کہا کہ یوگی حکومت کو یہ پتہ کرنے کے لیے فوری طور پر ایک جانچ شروع کرنی چاہیے کہ کس کی ہدایت پر بورڈ نے پی ایف کو ایک مشتبہ کمپنی میں لگانے کا فیصلہ لیا۔ دوبے نے کہا کہ ’’پنجاب اینڈ مہاراشٹر کو آپریٹو (پی ایم سی) بینک نے ڈی ایچ ایف ایل کے ساتھ جو غلطی کی، وہی بھیانک غلطی بورڈ نے کی ہے۔ میری نظر میں یہ ایک اور گھوٹالہ لگتا ہے، جس کی جانچ گہرائی سے کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘‘جی پی ایف اور سی پی ایف فنڈ کو ڈی ایچ ایف ایل کو منتقل کرنے کے متنازعہ فیصلہ کے متعلق اتر پردیش کی سربراہ سکریٹری (توانائی) اور یو پی پی سی ایل کے چیئرمین، آلوک کمار نے سوالوں کے جواب دینے کے بدلے تحریری شکل میں سوال بھیجنے کی گزارش کی ہے۔ خبر لکھے جانے تک آلوک کمار سوالوں کے جواب نہیں دے پائے تھے۔واضح رہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) داؤد ابراہیم کے اراضی سودوں کا انکشاف کرنے کے بعد سن بلنک رئیل اسٹیٹ کے ساتھ ڈی ایچ ایف ایل کے مبینہ رشتوں کی جانچ کر رہی ہے۔ سن بلنک رئیل اسٹیٹ کے ذریعہ ہی پیسوں کو مرچی کے کہنے پر دوبئی پہنچایا گیا تھا۔ ڈی ایچ ایف ایل کے چیئرمین کپل ودھاون اور اس کے بھائی دھیرج ودھاون سے حال ہی میں ای ڈی نے رئیلٹی فرم کو مورٹگیز لینڈر کے ذریعہ دئیے گئے 2186 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کے بارے میں پوچھ تاچھ کی تھی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close