عجیب و غریب

فرضی ٹی آرپی معاملہ : ڈی ڈی فری ڈش پرغیر قانونی طور پر نشر ہوتارہا رپبلک ٹی وی ، حکومت کو کروڑوں کا نقصان

نئی دہلی،21جنوری(ایجینسی ۔ ہندوستان اردو ٹائمز) مئی 2017 میں لانچ ہونے کے بعد سے ارنب گوسوامی کی ملکیت والے ریپبلک ٹی وی نے پرسار بھارتی کی ملکیت والے ’ڈائریکٹ ٹوہوم‘ (ڈی ٹی ایچ) سروس، ڈی ڈی فری ڈش پر غیر قانونی طور پر نشرکیاگیا۔ ریپبلک ٹی وی کواس سے ڈی ڈی کے.2 2 کروڑ صارفین تک رسائی ملی تھی۔ چینل نے اس کے لئے نیلامی کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ انگریزی نیوز چینل ریپبلک ٹی وی نیلامی کے عمل میں شامل ہوئے بغیر ڈی ڈی فرڈش سروس کے تمام صارفین کے لئے ایک بینڈوتھ میں ایک غیر خفیہ شکل میں دو سال کے لئے نشریاتی شکل میں نشرکیاگیا۔ نیلامی کے عمل سے گزرنے کے بعدچینل کو سالانہ 8 سے 12 کروڑ روپئے کوریج فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔اس معاملے میں ریپبلک ٹی وی نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور سرکاری خزانے کو بھی نقصان پہنچایا۔ مسابقتی چینلز کی جانب سے اس کو وزارت اطلاعات و نشریات (ایم آئی بی) کے نوٹس میں لایا گیا۔ نیز اس کی شکایت پرسار بھارتی کو بھیجی گئی تھی، تاہم یہ عمل ستمبر 2019 تک جاری رہا، جب نجی ڈی ٹی ایچ سروس، ڈیش ٹی وی نے چینل کو خفیہ کرنا شروع کیا۔ ریپبلک ٹی وی نے نشریات کے لئے ڈش ٹی وی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ ڈش ٹی وی کے ساتھ کچھ دیگر ڈی ٹی ایچ پلیئرس سے بھی ری پبلیک ٹی وی نے معاہدے کئے۔

چونکہ ڈی ڈی فری ڈش بھی جی ایس اے ٹی 15 کا استعمال کرتا ہے، اس لئے ڈش ٹی وی بینڈوتھ ڈی ڈی فری ڈش کے ساتھ شریک ہے۔ جس کی وجہ سے ڈش ٹی وی کے صارفین کوفری ٹوایئر چینل فری میں دیکھنے کوملتے ہیں۔ ایک میڈیا خریدار نے بتایا کہ اس سے سرکاری خزانے کو تقریبا 25 کروڑ کا نقصان ہوا ہے، جبکہ چینل کو اضافی ناظرین ملے۔

اس تعلق سے شکایت پر پرسار بھارتی نے ریپبلک ٹی وی اور ڈش ٹی وی کو مقابلہ کم کرنے اور ڈی ڈی فری ڈش کی نیلامی کے عمل کے مقصد کو ختم کرنے کا الزام لگایا، بعد میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ڈش ٹی وی کو ایک خط بھیجا گیا تھا۔ اس میں ریپبلک ٹی وی کی جانب سے ڈی ڈی فری ڈش کے غیر قانونی استعمال کولے کرتفتیش کی گئی۔ اس کے جواب میں ڈش ٹی وی نے کہا تھا کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق تمام چینلز اور خدمات کو خفیہ بنایا گیا ہے۔تاہم رسائی کی فیس ادا کئے بغیر دو سال تک ریپبلک ٹی وی کے ذریعے خوب پیسہ کمانے کے معاملے میں حکومت کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی، اب ممبئی پولیس کے ذریعہ ٹی آر پی گھوٹالے کی تحقیقات کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر زیربحث آگیا ہے۔ ممبئی پولیس نے اس معاملے میں ضمنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس میں براڈکاسٹ آڈیون ریسرچ کونسل کے سی ای او پرتھو داس گپتا اور ارنب گوسوامی اور دیگر کے درمیان واٹس ایپ بات چیت کوبنیادبنایاگیاہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close