عجیب و غریب

امتحانات میں کم نمبرکیوں دیئے؟ بچے نے اُستاد کی جان لے لی

ریاض (ذرائع) ہمارے مذہب اسلام میں استاد کا بہت بڑا درجہ اور احترام ہے۔ اگر کوئی استاد شاگرد کو ڈانٹ بھی دے تو ہمارے سماج میں والدین اور بچے اس کا بُرا نہیں مناتے ، بلکہ اسے استاد کی تربیت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، تاہم کچھ ایسے بدبخت شاگرد بھی ہوتے ہیں جو استاد کے اونچے رتبے کی عظمت سے ناواقف رہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شیطانی سوچ والے بچے نے اپنی نالائقی کا غصہ اُستاد پر نکالتے ہوئے اس کی جان لے لی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے ایک سکول میں 13 سالہ سعودی طالب علم نے اپنے 35 سالہ مصری اُستاد کو گولی مار کر ہلاک کر ڈالا۔ اس قاتلانہ حملے میں انگریزی کے استاد ہانی عبدالتواب شدید زخمی ہو کر ریاض کے ہسپتال میں زیر علاج رہا تاہم وہ اس کی جان بچ نہ پائی۔ پولیس کے مطابق 13 سالہ بچے کو گلہ تھا کہ اس کے استاد نے امتحانات میں کم نمبر دیئے تھے۔

اس بات پر اس نے اپنے استاد سے بحث کی اور پھر بدتمیزی پر بھی اُتر آیا۔ بعد میں وہ اپنے 16 سالہ بھائی کے ساتھ سکول کے باہر کھڑا ہو گیا۔ جونہی ہانی عبدالتواب سکول سے باہر آئے، اس بدبخت بچے نے پستول کی گولیاں چلا دیں۔ مصری اُستاد سر میں گولی لگنے کے باعث شدید زخمی ہو گئے۔ جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم آئی سی یو میں علاج کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔

سعودی عرب میں اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ مصری حکومت کی جانب سے اس واقعے میں اپنے شہری ہانی عبدالتواب کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے اور اس قتل کے مقدمے میں سعودیہ کے بہترین عدالتی نظام سے مناسب فیصلہ ہونے کی اُمید ظاہر کی ہے۔ مصری خاتون وزیر برائے امیگریشن و خارجہ امور نبیلہ مکرم عبدالشہید نے مقتول ٹیچر کے سوگوار اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
نبیلہ کا کہنا تھا کہ ریاض میں قائم مصری سفارت خانہ اس کیس کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مصری وزارت ہوا بازی کی جانب سے میت کو واپس لانے کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ نبیلہ نے مزید کہا کہ انہیں سعودی عرب کے عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے، بھرپور یقین ہے کہ قاتلوں کو سعودی عرب کے قوانین کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close