ہندوستان اردو ٹائمز

ناگالینڈ میں پھرسے فروخت کیاجاسکے گا کتوں کا گوشت ، ہائی کورٹ نے حکومتی پابندی پرلگائی روک

نئی دہلی،28نومبر(آئی این ایس انڈیا) گوہاٹی ہائی کورٹ کے کوہیما بنچ نے ناگالینڈ میں کتوں کے گوشت کی فروخت پر سرکار کی جانب سے عائد پابندی کے فیصلے پر روک لگادی ہے۔ ریاستی حکومت نے رواں سال 2 جولائی کو کتے کے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کردی تھی، حالانکہ اب عدالت کے فیصلے کے بعد گوشت کی تجارتی درآمد، تجارت اور فروخت فی الحال دوبارہ شروع ہوجائے گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق 14 ستمبر کو ہائی کورٹ نے ناگالینڈ حکومت کو عدالت میں حلف نامہ داخل کرنے کا موقع دیا لیکن حکومت نے عدالت میں حلف نامہ داخل نہیں کیا۔واضح رہے کہ ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں معذور کتے ایک بیگ میں بندھے ہوئے نظرآئے تھے۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد حکومت ناگالینڈ نے تجارتی درآمد، تجارت اور کتے کے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بتادیں کہ ریاست میں کچھ کمیونٹیز کتوں کا گوشت بہت پسند کرتی ہیں۔ سن 2016 میں جانوروں کے حقوق کارکنان نے کتے کے گوشت کے کاروبار سے متعلق ناگالینڈ حکومت کو قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔ناگالینڈ کے علاوہ اس سال مارچ میں شمال مشرقی کی ایک اور ریاست میزورم نے بھی کتے کے گوشت کی درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ بتادیں کہ ناگالینڈ کو آئین کے آرٹیکل 371 (اے) کے تحت خصوصی استثنیٰ حاصل ہے، جو ریاست کی عوام کے مابین روایتی طرز عمل کو پارلیمنٹ کے کسی بھی عمل سے بچانے کے لئے خصوصی حیثیت دیتا ہے۔