عجیب و غریب

خبردار! ٹی ای ٹی کامیابی کا جعلی رزلٹ تھمانے والا گروہ سرگرم : اب تک سینکڑوں افراد سے کروڑوں روپئے کی ٹھگی کی گئی

اورنگ آباد (عبدالوہاب شیخ) حال ہی میں ریاست مہاراشٹر میں ٹیچرس ایلجبلٹی ٹیسٹ منعقد کیاگیا تھا ۔مہاراشٹر اسٹیٹ کاؤنسل آف ایکزامنیشن کی جانب سے منعقدہ اس امتحان میں جماعت اول تا پنجم میں معلم عہدے کےلئے منعقدہ امتحانات کے نتائج ظاہر کیے گئے جس میں 1 لاکھ 88 ہزار 688 امیدواروں نے امتحان دیا تھا ۔اس میں سے صرف ۵ فیصد امیدواروں کو (10 ہزار امیدواروں )کو قابل قرار دیا گیا ۔جماعت ششم تا ہشتم کے اساتذہ عہدے کےلئے 1 لاکھ 54 ہزار 596 امیدواروں نے امتحان دیا جس میں سے 6 ہزار 105امیدوار استاد بننے کے قابل قرار دیے گئے۔ اتنے بڑے پیمانے پر امتحان میں شرکت کرنے ک باوجود انتہائی کم امیدواروں کی کامیابی سے کئی امیدوار جو پہلے ہی بہ حیثیت استاد فرائض انجام دے رہے تھے ان پر اب برخاستی کی تلوار لٹک رہی ہے کیونکہ ریاست مہاراشٹر میں پرائمری اسکول کے اساتذہ کو ملازمت کےلئے ٹیچرس الیجبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی ) لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے سبب ریاست کے ٹیچرس جن کے پاس ٹی ای ٹی پاس کی سند نہیں ہو گی انہیں نوکری سے برخاست کیا جانا لگ بھگ طئے ہے۔اسی دوران ان حالات کا فائدہ اٹھانے میں کچھ گروہوں نے دلالی کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے اور ان مجبور امیدواروں سے لاکھوں روپئے اینٹھ کر انہیں جعلی سند تھمائی جا رہی ہے۔دلالوں کا یہ نیٹورک پورے مہاراشٹر میں فعال ہے جو اپنے ساتھ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے اعلی افسران کے ساتھ ہونے کے دعوے کر رہا ہے۔حا ل ہی میں لیے گئے ٹی ای ٹی امتحان کے بعد نتائج میں ریزرویشن،متبادل مضمون اور معذور افراد کےلئے اعتراضات داخل کرنے کی مہلت دی گئی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دلالوں کے اس گروہ نے اب تک سینکڑوں افراد سے فی کس 2 لاکھ تا 3 لاکھ روپئے اینٹھ لیے۔با وثوق ذرائع کے مطابق اورنگ پورہ میں واقع دو زیراکس دکانو ںمیں نقلی سرٹفکیٹ بنانے کر ٹی ای ٹی امیدواروں کے ساتھ دھوکہ دہی کی جا رہی ہے جس میں ضلع پریشد کے تعلیمی شعبہ کے چند افراد بھی شامل ہیں۔ ٹی ای ٹی میں پاس کروانے کا دعوی کرنے والا یہ گروہ ایسے اساتذہ جن کی نوکری خطرے میں ہے یا جن امیدواروں کو کسی بھی قیمت میں امتحان میں کامیاب ہونا ہے انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔اس معاملہ میں اس گروہ نے معاشی پسماندہ امیدوارو ں کو بھی نہیں بخشا۔ امتحان میں ناکام امیدواروں سے پرچوں کی دوبارہ جانچ کے بہانے کامیاب کرنے کا تیقن دلا کر لاکھوں روپئے لوٹے ہیں نیز جو امیدوار پورے پیسے ایک ساتھ نہیں دے سکتے ہیں ان کے اصل دستاویزات جیسے ایس ایس سی اور ایچ ایس سی سرٹفکیٹ،گریجویشن مارکس میمو،ٹی سی،بی ایڈ کےنتائج اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے تاکہ امیدوار سے بقایہ پیسہ حاصل کر سکے۔باوثو ق ذرائع کے مطابق ریاست بھر میں سرگرم اس گروہ میں اساتذہ،اساتذہ تنظیم کے ممبران،افسران اور سوشل ورکرس بھی شامل ہیں۔

باکس

‘‘ کائونسل کو ٹی ای ٹی کے جعلی سرٹفکٹ بنا کر امیدوارو ںسے لاکھوں روپئے وصول کرنے کی اطلاع ملی ہے ۔اس طرح کے جعلی سرٹفکیٹ بنانے والے گروہ سے امیدواروں کو خبردار رہنے کہا ہے ساتھ ہی انہو ںنے کہا کہ کسی بھی فرد یا ایجنسی کی جانب سے ٹی ای ٹی کے نتیجوں کے عوض یا اس میں تبدیلی کےلئے پیسوں کا مطالبہ ہوتا ہے تو اس فرد یا ایجنسی کے خلاف اپنے قریبی پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا جائے یا کاؤونسل کو اس کی اطلاع کرے۔’’ تکارام سوپے ریاستی ایجو کیشن کمشنر

باکس

پرائمری ایجوکیشن آفیسر ایس پی جیسوال نے کہا کہ ان کے پاس سات تا آٹھ غیر مصدقہ ٹی ای ٹی نتیجوں کی کاپی ملی ہے جس کی جانچ تعلیمی شعبہ سے کی جائے گی۔یہ رزلٹس اگر جعلی نکلتے ہیں تو متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔اسی طرح ٹی ای ٹی امتحان کے نتائج کی مصدقہ کاپی بھی شعبہ تعلیم کی جانب سے ضلع پریشد کو سونپی جائے گی۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close