عجیب و غریب

نمازسے واپسی پرسلیمان کے قتل کاالزام، جانچ رپورٹ میں پولیس کوبری کیاگیا

بجنور4جولائی(آئی این ایس انڈیا) اترپردیش کے بجنور میں گذشتہ سال 20 دسمبر کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے کے دوران گولی سے ہلاک ہونے والے نوجوان کی موت کے الزام میں پولیس اہلکاروں کو ایس آئی ٹی کی جانچ میں بری کردیاگیاہے۔سلیمان کے بھائی شعیب نے راجیش سولنکی ، تھانہ انچارج آشیش تومر ، کانسٹیبل موہت اور تین نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا تھا۔

رات کے وقت پولیس پرسلیمان پرگولی چلانے کا الزام عائدکیاگیا تھا جب وہ نمازپڑھ کرواپس آرہاتھا۔ضلعی پولیس کے مطابق ، 20 دسمبر ، 2019 کو ضلع میں سی اے اے کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔پولیس کے مطابق ہجوم نے افسر آشیش تومر کی پستول لوٹ لی ، جسے بعد میں بازیاب کرا لیاگیا۔ اس وقت کے پولیس انچارج راجیش سولنکی ، دروگا آشیش تومر اور کانسٹیبل موہت سمیت متعدد دیگر پولیس اہلکار بھیڑ کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔پولیس نے بتایا کہ اس مظاہرے کے دوران سلیمان اور انس گولیوں کی چوٹ سے ہلاک ہوگئے اور اوم راج سینی گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔

تمام واقعات کی تحقیقات کے لیے ضلعی پولیس نے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کے بعد شعیب کی تحریربھی ان تحقیقات کے عمل میں شامل کی تھی۔ ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی مجسٹریٹ انکوائری شروع کردی تھی۔پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیوتیاگی نے بتایاہے کہ ایس آئی ٹی کی تفتیش میں پولیس اہلکاروں پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیادبتایاگیا اورپتہ چلاہے کہ سلیمان نے پولیس پرحملہ کیا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close