عجیب و غریب

عیدالاضحی سے قبل لکھنؤ کاماحول خراب کرنے کی سازش، بکرے کی قربانی پرقابل اعتراض ہورڈنگ

مولانافرنگی محلی نے انتظامیہ کوخبردارکیا،مذہبی رواداری کومتاثرکر نے کی کوشش کوناکام بنانے کی اپیل

لکھنو4جولائی(آئی این ایس انڈیا) عید الاضحٰی مسلمانوں کے بڑے تہواروں میں سے ایک ہے۔ ایسی صورتحال میں دہلی کے بعد لکھنؤکی فرقہ وارانہ فضابگاڑنے کی کوشش کی گئی ۔

لکھنوکے علاقے قیصرباغ کے مرکزی چوراہے پر ایک ہورڈنگ پر بکرے کی تصویر نے تنازعہ پیدا کردیاہے۔ اس ہورڈنگ میں ایک بکرے کی تصویر بنائی گئی ہے۔ جس پر لکھا ہے کہ میں ’’جیو‘‘ ہوں ،’’مانس‘‘ نہیں ،ہمارے تئیں اپنا رویہ تبدیل کریں۔اس سے پہلے دہلی میںبھی اسی طرح کی ہورڈنگ لگائی گئی ہے جس سے سمجھاجاتاہے کہ فرقہ پرستوں کے حوصلے کس قدربلندہیں ۔اس پرسوشل میڈیامیں بھی بحث ہوئی۔ایک یوزرنے اس پرطنزیہ جواب دیتے ہوئے لکھاکہ میں جیوہوں،مانس نہیں،مجھے ہولی میں کھائو،بقرعیدمیں نہیں۔

مولاناخالدرشید فرنگی محلی نے پولیس کمشنر کو ایک خط لکھ کرلکھنوہورڈنگ پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ عید جلد آنے والی ہے۔ اس موقع پر مسلم لوگ بکرے کی قربانی دیتے ہیں۔ اس معاملے میں ، یہ ہورڈنگ مذہبی جذبات کو مجروح کرناہے۔انہوں نے پولیس کمشنر سے اپیل کی کہ اس طرح کی ہورڈنگ سے ماحول خراب ہوسکتا ہے ، لہٰذااسے فوری طور پرختم کیاجائے۔ جس کے بعدلکھنؤکی پولیس نے جمعہ کی شام ہورڈنگ ہٹا دی۔

تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ ہورڈنگ کس نے لگائی؟اس سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے مولاناخالد رشید فرنگی محلی نے کہاہے کہ لکھنؤکے قیصرباغ چوراہے پر ایک بڑے ہورڈنگ میں بکرے کی تصویر لگا کر قابل اعتراض بات لکھی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ، امام عیدگاہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی اور اطہر حسین ہدایت کوآرڈینیشن نے پولیس کمشنر کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ان ہورڈنگز کو ہٹانے کا حکم دیاجائے۔ کیونکہ بقرعید آنے ہی والی ہے اوراس موقع پرمسلمان بکرے کی قربانی کرتے ہیں اورایسامحسوس کیا جاتا ہے کہ یہ حرکت مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے کی گئی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close