عجیب و غریب

حقیقی دنیا کا سب سے حیران کن واقعہ

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ ) یہ حقیقی واقعہ امریکی ریاست ٹیکساس کی رہا ئشی ایک لڑکی چیسٹٹی کے ساتھ پیش آیا۔ جو لاوارث تھی اور ایک یتیم خانے میں رہتی تھی۔جیسن نامی ایک شخص نے چیسٹٹی کو اپنی اولاد کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کرلیا۔ جیسن نے چیسٹٹی کو یتیم خانے میں ہی رکھتے ہوئے اس کے تمام اخراجات اٹھانا شروع کردیے۔ جیسن ہر ماہ اپنی لے پالک بیٹی کی تعلیم ، کپڑوں اور دوسری اہم ضروریات پر اٹھنے والے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرتا رہا۔ چیسٹٹی کو بھی سگے باپ جیسے اس مہربان شخص اور ہمدردانسان سے بے پناہ محبت ہوگئی ۔

اب جیسن چیسٹٹی کے لئے باپ بھی تھا اور ماں بھی ۔ چیسٹٹی کو لگا کہ اس کی زندگی کی ساری محرومیاں اس ایک شخص کے آنے سے ختم ہوگئی ہیں۔ جیسن یا تو وقفے وقفے سے اپنی لے پالک بیٹی سے ملنے آتا رہتا یا پھرفون پر اس سےرابطہ کرتا رہتا، لیکن ایک دن چیسٹٹی کو ایک ایسی بھیانک خبر سننے کو ملی جس نے اس کی زندگی کو ایک بار پھر اندھیروں میں دھکیل دیا۔چیسٹٹی کو معلوم ہوا کہ جیسن کی ایک خوفناک ٹریفک حادثے میں موت واقع ہو گئی ہے۔ یہ خبر چیسٹٹی پر قیامت بن کر گری۔ اس کےلئے یہ تصور ہی بھیانک تھا کہ اسے اپنی پہاڑ جیسی زندگی اب جیسن جیسے مضبوط سہارے کے بغیر گزارنا ہوگی۔

اس واقعے کے بعد جیسن کا ذاتی فون نمبر بند ہوگیا۔لیکن چیسٹٹی کے پاس اپنے والد کا ایک اور بھی نمبرتھا ۔جو اس نے اپنی لے پالک بیٹی کو اپنی زندگی میںکبھی لکھوایا تھا۔چیسٹٹی نے اس نمبر پر کال کی کوشش کی تو حیران کن طورپر یہ نمبر ایکٹو تھا لیکن دوسری جانب سے کسی نے بھی اس کی کال موصول نہیں کی۔چیسٹٹی نے بارہا اس نمبر پر کال کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی کال کو نہیں اٹھایا گیا۔چیسٹٹی نے ایک عجیب و غریب طریقے سے خود کو بہلانے کےلئے فیصلہ کیا کہ اس نے سوچا کہ وہ یہ خیال میں دل و دماغ میںآنے ہی نہیں دے گی کہ اس کا باپ جیسن مرچکا ہے۔ بلکہ وہ اس دوسرے نمبر پر اپنے والد کو میسجز کیا کرے گی۔ وہ میسجز میں اپنے والد کو اپنے روز مرہ معمولات، تعلیمی سرگرمیوںاور زندگی کے ہر واقعےکے بارےمیں بتایا کرے گی۔

یوں یکطرفہ میسجز کا یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ چیسٹٹی ہر روز اپنے والد کو ایک ایک بات بذریعہ ایس ایم ایس لکھ بھیجتی۔ یہ سلسلہ چار سال تک جاری رہا۔ وہ نمبر حیران کن طور پراس سارے عرصے میں ایکٹو رہا اور چیسٹٹی اس پر موبائل پیغامات بھی بھیجتی رہی۔یہاں تک کہ چیسٹٹی نے یونیورسٹی سے گریجوایشن کی ڈگری پاس کر لی ۔یہ سال 2018کی ایک شام تھی،۔چیسٹٹی نے اپنے والد کے نمبر پر میسج کیا تو ایک ایسا حیران کن واقعہ پیش آیا جو کسی کے بھی پیروں تلے سے زمین کھینچ لینے کےلئے کافی ہوتا ہے۔چیسٹٹی کے بھیجے گئے میسج کا جواب آگیا۔چیسٹٹی بھی اس میسج بھیجنے والے اس نمبر کو دیکھ کر چونک گئی۔ لیکن اصل حیرت کی بات تو جوابی مسیج پڑھنے کے بعد سامنے آئی۔جوابی میسج میں لکھا تھامیں تمھارا والد نہیں ہوں۔میرا نام بریڈ ہے۔ پچھلے چار سال سے تمھارے میسجز مجھے مل رہے ہیں۔ سچ پوچھو تو میں صبح شام تمھارے میسج کا انتظار کرتا رہتا ہوں ۔

چار سال پہلے میری بیٹی کی ایک کار ایکسیڈنٹ میں موت واقع ہوگئی تھی۔ میںاتنا دلبرداشتہ ہوا کہ خود کشی کرنے لگا تھا۔ لیکن پھر مجھے تمھارا میسج آیا، جس میں تم نے مجھے ڈیڈ کہہ کر پکارا، اور یوں مجھے تمھارے میسجز کی صورت میں جینے کا ایک بہانہ مل گیا۔میںنے تمھیں پہلے اس لئے سب کچھ نہیں بتایا کہ کہیں تم میسج کرنا بند نہ کرو۔ تم بھی میری بیٹی جیسی ہی ہو”چیسٹٹی کو اندازہ ہوگیا کہ اس نے اپنے والد کا یہ نمبرنوٹ کرنے میں کچھ غلطی کرڈالی تھی۔ جس کی وجہ سے یہ سب میسجزبریڈ نامی اس شخص کو جاتے رہے۔ لیکن اس اتفاق نے نہ صرف چیسٹٹی بلکہ اس واقعے کے متعلق جاننے والے ہر شخص کو حیران کرڈالا کہ بریڈ بھی 2014ہی میں کا ر حادثے کی وجہ سے بیٹی جیسے رشتے سے محروم ہوا۔ اور اس نے بھی غلطی سے موصول ہونے والے ان موبائل پیغامات کو ہی اپنا غم بھلانے کا ذریعہ بنا لیا۔یوں اس عجیب و غریب اتفاق سے دو ایسے لوگ مل گئے جن کا دکھ ایک ہی تھا۔یہ واقعہ بے حد مشہور ہوگیا ۔ بتایا گیاہے کہ بریڈ نے چیسٹٹی کو اپنی بیٹی بنا لیا ہے اور دونوں اب بھی اسی طرح آپس میں بات کرتے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close