عجیب و غریب

بااثر چینی والدین ذہین شاگردوں کی شناخت چرا کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں

شنگزی شین کا تعلق زراعت سے وابستہ ایک غریب گھرانے سے ہے۔ بچپن سے ان کی خواہش تھی کہ وہ کالج کی تعلیم حاصل کریں گی، جس کے بعد انھیں چینی معاشرے کا کوئی اعلیٰ عہدہ مل سکے گا۔

شین نے دل لگا کر تعلیم حاصل کی اور اچھی تیاری کے بعد کالج میں داخلے کے امتحانات میں حصہ لیا۔ تاہم، اچھے نمبر آنے کے باوجود انھیں کسی کالج میں داخلہ نہ ملا۔

اس بات کو 16 سال گزر گئے۔ وہ آج بھی فیکٹری کی کارکن ہیں، جس سے پہلے وہ ویٹریس اور کنڈرگارٹن ٹیچر کا کام کر چکی ہیں۔

آخر کار ایک دن انھیں پتا لگ گیا کہ ان کو کالج میں داخلہ کیوں نہیں ملا تھا۔ اس انکشاف نے انھیں چونکا دیا۔

انھیں معلوم ہوا کہ ایک اور بچی جس کے نمبر بہت کم تھے، لیکن اس کا تعلق ایک بااثر خاندان سے تھا، اس نے ان کی شناخت چرا کر ان کے نام پر شنگڈونگ صوبے کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔ ان کے نام سے حاصل کردہ تعلیم کے بل بوتے پر بہروپ کو لوکل گورنمنٹ میں ایک اچھی نوکری ملی۔ وہ ابھی تک شین کا نام استعمال کرتی ہیں۔

اس سلسلے میں، ایک ہفتہ قبل، حکومت کی تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے، شِنہوا نے ایک خبر چلائی، جس کے بعد خاص و عام کو اصل حقیقت کی خبر ہوئی۔ اس کے بعد احکامات صادر ہوئے کہ دھوکہ دہی کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

شین کی کہانی منظر عام پر آنے کے بعد اسی طرح کی کئی کہانیاں سامنے آ چکی ہیں۔

بیجنگ میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہو جیا نے بتایا ہے کہ ”یہ دھوکہ دہی کے چند ایک نہیں، بیشمار معاملات ہیں۔ ان میں سے متعدد معاملوں کا ابھی کھوج لگایا جانا باقی ہے”۔

چین کے روزنامہ ‘سدرن میٹروپولس’ کی ایک حالیہ تفتیشی رپورٹ کے مطابق، صرف صوبہ شنگڈونگ کے 14 کالجوں میں اس طرح کی شناخت کی چوری کے 242 واقعات کا انکشاف ہوا ہے، جنھوں نے 2018ء سے 2019ء کے دوران اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے لیے دیگر افراد کی شناخت چوری کی۔

چین کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ اختیار کرنا ملک میں عام سی بات ہے، اور ہمیشہ نقصان نچلے درجے کے چینی شہری کا ہوتا ہے، جب کہ امیر اور بااثر افراد ہونہار بچوں کی ذہانت چھین لیتے ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close