عجیب و غریب

دنیا کے 7 ممنوعہ علاقے

دنیا میں تو ویسے بے شمار ایسی جگہیں ہیں جہاں متعلقہ ممالک کی جانب سے عام عوام یا کسی کو بھی اُس میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ درجہ ذیل میں چند کا ذکر کیا جارہا ہے۔

گوگل ڈیٹا (Google data) سینٹر، نارتھ کیرولینا (امریکہ)

دنیا بھر میں  تین  ارب سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین ہیں، اور گوگل پر فی سیکنڈ  55  ہزار  مرتبہ اور روزانہ 3 ارب مرتبہ سرچ  کیا جاتا ہے۔   گوگل کے ڈیٹا بیس میں جہاں ہر روز کروڑوں صفحات کا  اضافہ ہوتا ہے وہیں   اس ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹر قائم کیے گئے ہیں، گوگل کا مرکزی ڈیٹا سینٹ امریکی ریاست نارتھ کیرولینا  کے شہر لینوئر میں ہے جہاں ہزاروں  قدآور کمپیوٹرز  ہمہ وقت مصروف عمل رہتےہیں.  اس جگہ بھی عام لوگوں کا جانا ممکن نہیں۔

آئسے مندر، جاپان (Ise Grand Shrine)

جاپان کے علاقے  کانسائی  میں جزیرے ہونشو کا ایک صوبہ میہ پریفیکچر Mie Prefecture ہے۔ میہ کے ایک شہر آئسے Ise میں جاپان کا مقدس ترین مندر  موجود ہے۔  4 قبل مسیح سے تعمیر اس مندر میں مخصوص پروہتوں اور شاہی خاندانوں کے علاوہ کوئی نہیں جاسکتا، کہا جاتا ہے کہ اس مندر میں شنٹومت کے تاریخی نوادرات محفوظ ہیں۔

شنگھائی کمپلیکس، چین

ویسے تو شنگھائی کمپلیکس کے زیر زمین بنائے گئے اس بنکر کے بارے میں متعدد معلومات خفیہ رکھی گئی ہیں، لیکن دس ملین مربع فٹ کے اس ‘‘بنکر’’ میں تقریباً 2 لاکھ لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ یہ ‘‘بنکر’’ دھماکوں، جوہری تابکاری اور زہریلی گیسوں سے لوگوں کی حفاظت کر سکتا ہے۔

 وومیرا، آسٹریلیا

جنوبی آسٹریلیا  کے شہر ایڈلیڈ Adelaide کے نزدیک وومیرا نامی اس علاقے میں عام لوگوں کا جانا منع ہے۔  یہاں رائل آسٹریلین ایئرفورس کے ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ ہوتی ہے۔ یہاں میزائل، راکٹ اور ایئرکرافٹ کی جانچ  ہوتی ہے۔ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے بھی بے حد مالامال ہے۔

آپ کہیں گے کہ دنیا کے ہر ملک میں  ایسا ہوتا  ہے جہاں میزائل اور راکٹ کی ٹیسٹنگ ہوتے ہے وہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع  رکھا جاتا ہے،   لیکن وومیرا کی خاص اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ پورا ممنوعہ علاقہ تقریباً ایک لاکھ ستائیس ہزار مربع  کلومیٹر پر مشتمل ہے یعنی پورے انگلینڈ کے رقبے کے برابر۔

ویٹی کن کے خفیہ محفوظات، ویٹی کن سٹی (Vatican Secret Archives)

دنیا کی یہ سب سے خفیہ لائبریری، ‘‘ویٹیکن سیکریٹ آرکائیو’’   کوئی عام کتب خانہ نہیں ہیں۔ یہ آٹھویں صدی سے اب تک آنے والے تمام پاپائے روم کی ذاتی دستاویزات  رکھتا ہے۔ لیکن  1881ء سے آج تک یہ ویٹی کن سے وابستہ شخصیات کے علاوہ سب کے لیے بند ہے۔  یہاں انتہائی خفیہ دستاویزات مقفل ہیں کہ جن تک رسائی حاصل کرنا انتہائی پیچیدہ اور بہت طویل عمل ہے۔ صرف مستند دانشوروں کو داخلے کا کارڈ دیا جاتا ہے۔ درخواست گزار دانشوروں کو اپنے بارے میں تمام ذاتی معلومات بتانا پڑتی ہیں اور یہ بھی کہ وہ یہ تحقیق کیوں کر رہے ہیں۔ پھر جس ادارے کی جانب سے تحقیق کر رہے ہیں اس کی جانب سے تعارفی خط بھی دینا ضروری ہے۔ اگر کسی خوش نصیب کو مل بھی جائے تو وہ کیا کیا دیکھے گا؟ یہاں کا کتب خانہ اتنا بڑا ہے کہ الماریوں کی کل لمبائی تقریباً 85 کلومیٹر ہے، جن میں 35 ہزار جلدیں موجود ہیں۔ اس لائبریری میں صلیبی جنگوں سے لی کر اب تک کلیسیائی پوپ اور حکمرانوں کے درمیان خطوط، قدیم قلمی مخطوطات سے لے کر معروف سائنسدانوں اور محقیقن   کی  کتابوں  اور ایسی تمام تحریریں جنہیں کلیسیا نے  متروک کردیا تھا،  ان نایاب دستاویزات میں سے محض چند ہیں۔

 سوالبارڈ عالمی بیج گھر، ناروے (Svalbard Global Seed Vault)

یہ  بنکر دنیا کی تباہی کے نتیجے میں نباتات کو محفوظ کرنے کیلئے بنایا گیا۔ جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ “عالمی بیج گھر” ہے،  فروری 2008ء میں کھولے گئے اس مقام میں دنیا بھر میں اُگنے والی 250 ملین فصلوں کے بیج موجود ہیں، جنہیں خاص اور انتہائی محفوظ پیک کے اندر رکھا گیا ہے تاکہ یہ نمی سے محفوظ رہیں اور اگر دنیا میں بسنے والے نباتات و حیوانات کی اکثیرت ختم ہوجائے تو فصلوں کی افزائش دوبارہ کی جاسکے۔

لیکن اتنے اہم کام کے لیے اس مقام کا انتخاب ہی کیوں؟ کیونکہ یہاں زلزلے نہیں آتے، یہاں محفوظ رکھنے میں مددگار مستقل برف موجود ہے اور یہ مقام سطح سمندر سے 130 میٹر بلند ہے، یعنی اگر عالمی حدت کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند بھی ہو تو یہ مقام محفوظ رہے گا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیج یہاں سینکڑوں سالوں تک  محفوظ رہیں گے۔

بولڈ لین کارپارک، برطانیہ (Bold Lane car park, Britain)

یوں تو ایک  کار پارکنگ گیراج تک رسائی  سب سے آسان  ہوتا ہے لیکن  برطانیہ کے ڈربی شائر Derbyshire میں  کثیر منزلہ عمارت پر مشتمل بولڈ لین کار پارک کو دنیا کا سب سے محفوظ پارکنگ ایریا کہا جاتا ہے۔ اس پارکنگ میں صرف مخصوص  لوگ ہی کار پارک  تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس پارکنگ میں داخل ہونے پر ایک بارکوڈ  ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زمین میں واقع ایک سینسر تب تک متحرک  ہوجاتا ہے۔ جب تک  وہ گاڑی عمارت سے  واپس چلی نہیں جاتی۔ اس گیراج میں 190 کیمرے ہیں، تمام راستے پر آٹومیٹک لاک ہیں جو ہنگامی صورت میں خود بخود لاک ہوجاتے ہیں۔

کمرہ نمبر 39، شمالی کوریا

کمرہ نمبر 39 دراصل شمالی کوریا کا ایک بینک ہے،  لیکن یہ دنیا کے عام بنکوں کی طرح نہیں ہے اس  بنک میں عام لوگوں کا داخلہ منع ہے،   کہا جاتا ہے کہ یہ بنک   دراصل شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ آن  اور ان کی سینٹرل کمیٹی  بیورو  کی خفیہ ایجنسی کا گڑھ ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close