عجیب و غریب

کانپور: بہن ہی نکلی بھائی کی قاتل، عاشق کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھنے پر ریت دیا تھا گلا

کانپور، یکم جون (آئی این ایس انڈیا) انورگنج علاقے کے کلی بازار میں عید کے موقع پر مشتبہ حالات میں ہوئی شخص کی موت کا پولیس نے انکشاف کر دیا ہے۔پولیس کے انکشاف کے بعد جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔دراصل، بہن نے ہی اپنے عاشق کے ساتھ مل کر محمد ظفر کو قتل کیا تھا۔اس قتل کے بعد قاتلوں اور اس کے اہل خانہ نے جھوٹی کہانی بھی بنائی۔فی الحال پولیس نے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

بتا دیں کہ عید کے دن ظفر (21) کی لاش خون میں لت پت باتھ روم میں پڑی ملی تھی۔رشتہ داروں نے پولیس کو اس کی اطلاع دی اور بتایا کہ ظفر نے خودکشی کر لی۔خاندان کے لوگوں نے پولیس کو بتایا کہ ذہنی تنائو کے سبب اس نے خود کشی کر لی۔پولیس نے اہل خانہ کی بات پر یقین کر بھی لیا اور لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا، تاہم بعد میں شک ہونے پر پولیس اگلے دن جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور فورنسک جانچ کرائی۔اہل خانہ نے باتھ روم میں خود کشی کی بات کہی تھی، لیکن جانچ میں پتہ چلا کہ باتھروم میں خون کی ایک بوند بھی نہیں تھی۔

اتنا ہی نہیں، بنیادی جانچ میں گھر میں دوسری جگہوں سے خون کے داغ دھونے کی بات بھی سامنے آئی۔پولیس کا شک اور گہرا ہوتا چلا گیا،لہذا، ظفر کے گھر والوں سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی۔پولیس سختی سے پیش آئی تو قتل کی مکمل گرہ حل گئی۔دراصل، عید والے دن ظفر نے اپنی بہن اور اس کے عاشق کو ایک ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا،اس بات کو لے کر ظفر کا دونوں کے ساتھ جھگڑا بھی ہوا تھا،جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ بہن نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر دھاری دار ہتھیار سے ظفر کا گلا ریت دیا اور ان کی موت ہو گئی۔

معاملے کی معلومات ہونے پر مقتول ظفر کے والدین اور خاندان کے دیگر ارکان نے واقعہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔واقعہ میں استعمال ہتھیار کو چھپا دیا اور پولیس کو فون کرکے اسے خودکشی بتا دیا۔پولیس نے قتل کے دونوں ملزمان سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ملزمان پر قتل اور ثبوت مٹانے کا کیس بھی درج کیا ہے۔ایس پی سٹی راج کمار اگروال نے بتایا کہ پہلے ملزمان نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی،اب تمام لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور جیل بھیج دیاگیا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close