عجیب و غریب

’سوشل ڈسٹینسنگ‘ ‘ کووڈ19 کیلئےبہتر ، دل کیلئے خطر ناک:طبی ماہرین

ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے استعمال کیے جانے والے فارمولے ’سوشل ڈسٹینسنگ‘ سے دل کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اپنے پسندیدہ لوگوں کے ساتھ رہنے سے نہ صرف آپ اچھا محسوس کرتے ہیں بلکہ اس سے صحت بھی اچھی ہوتی ہے خصوصاً دل کی جبکہ سوشل ڈسٹنیسنگ کے نتیجے میں دل کی بیماریوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جن میں دل سے دماغ کی جانب خون کی ترسیل میں کمی اور دل کا دورہ پڑنا شامل ہے ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا دل اپنے پسندیدہ لوگوں سے ملنا چاہتا ہے۔

13 سال کے عرصے میں کی جانے والی تحقیق میں 4 ہزار 316 افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 60 سال سے کم تھیں، تحقیق کی ابتداء میں ان سب ہی رضاکاروں کو دل کے عارضے کی کوئی شکایت نہیں تھی، تحقیق میں لوگوں سے ملنے جلنے کے نتیجے میں مجموعی صحت پر آنے والے اثرات کو زیر غور لایا گیا، تحقیق میں شادی شدہ افراد، اپنے خاندان یا قریبی دوستوں سے ملنے جلنے والے، کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے ممبر اور دفتر جانے والے افراد بطور رضاکار شامل ہوئے ۔انسان کی مجموعی صحت پر معاشرتی تعلقات کا کیا اثر پڑتا ہے ؟

جرمنی کے ایسن یونیورسٹی ہاسپٹل کے ڈاکٹر جینی گرون ورلڈ کے مطابق ’ریسرچ کے نتیجے میں ہم اس نکتے پر پہنچے ہیں کہ معاشرتی تعلقات کی انسانی زندگی میں بہت اہمیت ہے، معاشرتی تعلقات ہونے کے سبب نا صرف دل کی صحت بلکہ انسانی جسم میں بلڈ پریشر ، کولیسٹرول لیول متوازن سطح پر رہتا ہےاور وزن بھی نہیں بڑھتا ۔13 سال 4 مہینے گزرنے کے بعد تحقیق کے نتائج کے مطابق 339 افراد دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے اور 530 اموات سامنے آئیں جن کی وجہ اسٹروک یا دل کا دورہ پڑنا تھا ۔

ماہرین کے مطابق ان اموات میں دوسری وجوہات کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے، جس میں معاشرتی تعلقات میں کمی کے سبب 44 فیصد ، دوسری بیماریوں کے سبب 47 فیصد جبکہ معاشی طور پر مظبوط نہ ہونے کی صورت میں دل کا کمزور ہونا یا دل کا دورہ پڑنے کے 30 فیصد واقعات سامنے آتے ہیں ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close