عجیب و غریب

بڑی لاپرواہی: اسپتال نے بخار، سانس والے ریلوے ملازم کو دوا دے کر بھیجا گھر ! رپورٹ آئی کرونا مثبت

نئی دہلی،08 ؍اپریل ( آئی این ایس انڈیا ) ملک میں مسلسل قاتلانہ کرونا وائرس انفیکشن کے معاملے سامنے آ رہے ہیں۔ اس وائرس کے خلاف مسلسل بیداری مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن اس کے خلاف جنگ میں ایک بڑی لاپرواہی سامنے آئی ہے۔ راجدھانی دہلی میں ناردن ریلوے مرکزی اسپتال نے ریلوے ملازم کو دوا دے کر گھر بھیج دیا۔ یہ ملازم سانس اور بخار کی شکایت کو لے کر اسپتال میں گیا تھا۔ اب اس شخص کی رپورٹ کرونا مثبت آئی ہے۔ ریلوے کا کہنا ہے کہ جب وہ شخص اسپتال آیا تھا، تب اس میں کرونا جیسی کوئی علامات نہیں تھی۔دراصل دہلی کے ناردن ریلوے مرکزی اسپتال میں ایک 59 سال کا ٹرین ملازم 31 مارچ کو بخار اور سانس کی شکایت لے کر پہنچا۔ یہ ملازم دہلی کے نظام الدین ریلوے اسٹیشن پر کمپیوٹر آپریٹر ہے۔جسے نارمل وارڈ کے ڈاکٹر نے ککووڈ -19 وارڈ میں بھیجا، لیکن وہاں سے بھی اسے دوا دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ اگلے دن وہ پھر اسپتال آیا، جہاں نارمل وارڈ نے اسے دیکھ کر پھر گھر بھیج دیا۔دو اپریل کو اس ملازم کی طبیعت کافی بگڑ گئی تو اسے نارمل وارڈ میں داخل کر لیا گیا۔ اس کے بعد تین اپریل کو اس کوقرول باغ کے ڈوڈہ ڈایگنوسٹک سینٹر بھیجا گیا۔ڈوڈہ والوں نے ریلوے اسپتال کو فون کر کے انہیں ان کی غفلت کے بارے میں شکایت کی اور کہا کہ یہ یقینی طور پر کووڈ -19 کا مریض لگ رہا ہے۔ آپ نے کس طرح اسے اکیلے چھوڑ رکھا ہے۔اس کے بعد بھی اس مریض کو ریلوے اسپتال کے نارمل وارڈ نمبر 9 میں ہی بھرتی کیا گیا اور 4 اپریل کی صبح اسے آئیسولیشن وارڈ میں بھیجا گیا۔ اسی دن مریض کا سیمپل لال لیب اور آر ایم ایل بھیجا گیا۔ 6 اپریل کو اس کی رپورٹ کووڈ -19 مثبت آئی۔ اس کے بعد کچھ ڈاکٹروں کو فوری طور پر سیلف کووارنٹائن کے لئے بھیج دیا گیا۔ 7 اپریل کو 68 ہاسپٹل اسٹاف کو وارنٹائن میں بھیجا گیا ہے جس میں سے 28 کو ریلوے کے جنجر ہوٹل میں اور 40 نرسنگ اور پیراگراف میڈیکل اسٹاف کو ککرنیل سنگھ اسٹیڈیم کے اسپورٹس ہاسٹل میں رکھا گیا ہے۔ جنجر ہوٹل میں 8 ڈاکٹر بھی ہیں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close