عجیب و غریب

عجیب و غریب : 16 سالہ لڑکی کے ساتھ عصمت دری، ظالموں نے ناک بھی کاٹ دی!

اتر پردیش میں ایک شرمسار کر دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ لکھیم پور ضلع میں 16 سالہ لڑکی کو نہ صرف ایک شخص نے ہوس کا شکار بنایا بلکہ بعد میں اس کی ناک بھی کاٹ دی۔ اس وقت لڑکی کا علاج اسپتال میں جاری ہے ۔

لکھنؤ ۔ 17 مارچ 2020 (ذرائع) اتر پردیش کی یوگی حکومت میں عصمت دری کے واقعات لگاتار بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ تازہ معاملہ لکھیم پور ضلع سے سامنے آیا ہے جہاں 16 سالہ ایک لڑکی کے ساتھ نہ صرف عصمت دری کا معاملہ پیش آیا، بلکہ یہ وحشتناک عمل انجام دینے سے پہلے اس کی ناک بھی کاٹ دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ لکھیم پور ضلع کے شاردا نگر علاقہ میں لڑکی کے گھر میں گھس کر یہ واقعہ انجام دیا گیا۔ پولس کو جب اس واقعہ کے تعلق سے خبر ملی تو ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور لڑکی کو فوراً علاج کے لیے مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس وقت لڑکی کا علاج جاری ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق گاؤں میں اس وقت ماحول کافی کشیدہ ہے کیونکہ ظالم اور مظلوم دونوں الگ الگ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالات کو دیکھتے ہوئے پولس نے گاؤں میں اضافی فورس تعینات کر دی ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والدین دہاڑی مزدور ہیں اور لڑکی نے پڑھائی درمیان میں ہی چھوڑ دی تھی۔ لڑکی اتوار کو اپنے گھر پر تنہا تھی جب 20 سالہ گوتم ریداس نامی شخص گھر میں گھس گیا اور چاقو سے ڈرا کر لڑکی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد میں اس نے گھر کا دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ جب لڑکی نے احتجاج کیا تو اس نے چاقو سے اس کی ناک کاٹ دی اور اس کے ساتھ عصمت دری جیسا گھناؤنا کام انجام دیا۔ بعد میں گوتم موقع سے فرار ہو گیا۔

لڑکی کسی طرح اپنے پڑوسیوں سے مدد حاصل کرنے میں کامیاب رہی جنھوں نے اس کے والدین کو بلایا۔ پھر اسے پولس اسٹیشن لے جایا گیا اور ایف آئی آر درج کی گئی۔ کوتوالی پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او اجے مشرا کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے گوتم ریداس کے خلاف معاملہ درج کر لیا ہے اور جلد ہی اسے گرفتار کریں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’علاج کے بعد لڑکی کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے درج کیا جائے گا۔‘‘

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close