عجیب و غریب

شیو راج سنگھ حکومت کی خاتون وزیر کا متنازعہ بیان :نفرت پھیلارہے مدرسے بند کیے جائیں

اندور،20 ؍اکتوبر( آئی این ایس انڈیا ) مدھیہ پردیش میں ان دنوں بیانات پر کافی ہنگامہ برپا ہے۔ متنازعہ بیانات مسلسل جاری ہیں۔ اسی معاملے میںشیو راج سنگھ حکومت کی وزیر اوشا ٹھاکر کی طرف سے ایک متنازعہ بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ملک میں مدرسوں کی بندکرنے کی وکالت کی ہے۔ اوشا ٹھاکر نے کہا کہ کھانا ہر ایک لیے دستیاب ہونا چاہئے، مگرآئین کی الگ تعریف کرنا، بچے بچے ہوتے ہیں ، طلباء طلباء ہوتے ہیں مگر سب کی مجموعی تعلیم ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب پر مبنی تعلیم بنیاد پرستی کو فروغ دے رہی ہے۔مدھیہ پردیش کے وزیر کا کہنا ہے کہ مدرسے نفرت پھیلا رہے ہیں اور تمام بچوں کو اجتماعی تعلیم دی جانی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں ٹھاکر نے کہا کہ کیا ثقافت سکھاتی ہے۔ اگر آپ اس ملک کے شہری ہیں، تو پھر آپ دیکھیں گے کہ تمام دہشت گردمدارس ہی سے پروان چڑھتے ہیں۔ جموں و کشمیر کو دہشت گردوں کی فیکٹری بناکر رکھ دیا تھا۔ ایسے مدرسے جن کو معاشرے کے مرکزی دھارے سے نہیں جوڑا جاسکتا، ہمیں معاشرے کو ایک ساتھ مل کر سب کی ترقی کے لئے مناسب تعلیم سے جوڑ کر انہیں آگے لے جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ آسام میں مدرسہ بند کرکے یہ ظاہر کردیا گیا ہے کہ جو بھی قوم پرستی میں رکاوٹ بنے گا، اس طرح کی تمام چیزیں قومی مفاد میں بند کردی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے میں سرکاری مدد بند کی جائے۔ وقف بورڈ خود ایک قابل مجاز ادارہ ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close