عجیب و غریب

مظفرنگر : قرنطینہ کئے گئے مہاجر مزدوروں کی 10 سائیکلیں داروغہ نے 6 ہزار میں بیچ ڈالیں!

مظفرنگر کے بھوپہ علاقہ سے گزر رہے کچھ مزدوروں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا، مزدروں نے اپنی 10 سائیکلیں پولیس کی حفاظت میں دے دی، داروغہ نے ان سائیکلوں کو محض 6 ہزار روپے میں بیچ ڈالا مہاجر مزدوروں 10 سائیکلیں 6 ہزار میں بیچ ڈالیں ۔

مظفرنگر ۔ 18 مئی 2020 (آس محمد آصف) مہاجر مزدورں کی تکالیف ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور یکے بعد دیگرے بری خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ اب اتر پردیش کے مظفرنگر ضلع سے خبر ہے کہ یہاں کے تھانہ بھوپہ علاقہ کے ایک داروغہ نے مہاجر مزدوروں کی سائیکلوں کو ہی بیچ ڈالا۔ المیہ یہ ہے کہ جن مزدوروں کی سائیکلیں فروخت کی گئی ہیں انہیں اس کا علم بھی نہیں ہے۔ دراصل ان سبھی مزدوروں کوارنٹائن سینٹر میں ہیں رکھا گیا تھا۔ یہ مہاجر مزدور اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں یا نہیں اس بات کی بھی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔

مقامی زرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ کچھ مزدوروں کو قرنطینہ کیا گیا تھا اور انہیوں نے اپنی سائیکل پولیس کی حفاظت میں دی تھی۔ بوپہ تھانہ کے ایک داروغہ نے ان 10 سائیکلوں کی حفاظت کے بجائے انہیں سستے داموں میں بیچ دیا۔ اس واقعہ کا انکشاف ایک مقامی اخبار کے نمائندہ نے کیا ہے۔ اس نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی ہے جس میں ایک ہوم گارڈ کو یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ داروغہ کے کہنے پر اس نے 10 سائیکلیں فروخت کر دی ہیں۔ ویڈیو کی گفتگو سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ 10 سائیکلیں مزدوروں کی تھیں اور انہیں صرف 6 ہزار روپے میں فروخت کیا گیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے ریاستی سکریٹری منیش جگن اگروال نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریاست بھر میں ہزاروں مزدور اپنے گھروں کو لوٹے ہیں لیکن ان کی سائیکل ان کے ساتھ آئی ہیں یا نہیں اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت دعوی کر رہی ہے کہ اس نے سینکڑوں مزدوروں کو گھر پہنچایا ہے، اسے یہ بھی بتایا چاہئے کہ ان کی سائیکلیں کہاں ہیں؟ منیش کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے ساتھ ان کی سائیکلوں کی بھی حفاظت کی جانی چاہئے۔

منیش اگروال نے مزید کہا، مظرنگر کے جیسے واقعات کئی اور مقامات پر بھی رونما ہوئے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو سائیکلوں سے نفرت ہے۔ مظفر نگر کے بھوپہ میں مزدوروں کی سائیکلیں بیچنے کے انکشاف سے واضح ہے کہ انہوں نے غریبوں کی سائیکلوں کے ساتھ گھوٹالہ کیا ہے۔

ادھر، مظفرنگر کے ایس پی دیہات نیپال سنگھ نے کہا کہ معاملہ ان کے نوٹس میں آیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سی او رام نواس شرما نے ویڈیو بنا کر معاملہ کا پردہ فاش سامنے لانے والے مقامی اخباری نمائندہ کے خلاف ہی مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے!

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک ہوم گارڈ ایک نامعلوم نوجوان سے بات کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ داروغہ جی نے مزدوروں کی 10 سائیکلیں بیچنے کے لئے دی تھیں، جو 6 ہزار روپے میں بک گئی ہیں۔ ویڈیو بنانے والے نوجوان نے اس پر کہا، اتنی سستی! اس پر نزدیک ہی کھڑا یوپی پولیس کا ایک سپاہی کہتا ہے کہ 5 ہزار ہی مل رہے تھے کافی مول بھاؤ کے بعد 6 ہزار میں سودا طے ہوا۔

یہ ویڈیو بھوپہ علاقہ کے سوامی کلیان دیو کے احاطہ کی بتائی جا رہی ہے۔ مزدور بھوپہ علاقہ سے گزر رہے تھے جنہیں یہیں پر قائم کوارنٹائن سینٹر میں رکھا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزدوروں کو کھانا بھی فراہم کیا جا رہا تھا۔ ادھر، بھوپہ تھانہ انچارج سنجیو کمار سائیکل بیچنے کے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔

اس سے قبل مظفرنگر ضلع میں ہی مزدوروں کے کھانے میں گھوٹالہ کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ مظفر نگر سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری ضیاء چودھری کارروائی نہ کرنے پر ضلع انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ پہلے ہی سے سانحہ سے دو چار مزدوروں کے ساتھ اس طرح کی حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ کچھ خواتین نے اپنے زیور فروخت کر کے سائیکل خریدی ہے، تاکہ وہ اپنے گھر جا سکیں۔ یہ ان کی امیدوں کی سائیکل ہے۔

انہوں نے کہا ’’ہم نے مقامی انتظامیہ سے کارروائی کا مطابہ کیا ہے۔ وہ معاملہ میں لیپا پوتی کر رہی ہے۔ شاید وہ سمجھتی ہیں کہ مزدور تو آ کر ان کی شکایت کریں گے نہیں۔ ہم متاثرہ مزدوروں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close