عجیب و غریب

مصطفی باد عید گاہ کیمپ سے دلہن شبینہ کی رخصتی!

شیو وہار کی فساد متاثرہ کی ہوچکی تھی سگائی ، فساد میں سب کچھ لوٹ لیا گیا تھا ، وقف بورڈنے نبھائی ساری ذمہ داری

نئی دہلی ۔ 14 مارچ 2020 (پریس ریلیز) دہلی فساد میں شیووہار کی رہنے والی شبینہ کو آج مصطفی آباد عید گاہ راحت کیمپ سے دلہن بناکر رخصت کیا گیا۔شبینہ بنت یامین کو مرادآباد کا رہنے والا شاہنواز انصاری اپنی دلہن بناکر لے گیا۔جس وقت راحت کیمپ میں دلہن کے نکاح کی رسمیں پوری کی جارہی تھیں اس وقت پورے کیمپ میں خوشی کا ماحول تھا اور سب نے دلہن بنی شبینہ کو اپنی دعاؤں کے ساتھ خوشی خوشی رخصت کیا۔راحت کیمپ میں رہنے والوں نے ایک عرصہ کے بعد خوشی کا کوئی منظر دیکھا تھا اور لوگوں نے کیمپ میں رہنے والوں کے لبوں پر ایک عرصہ کے بعد تبسم کی لکیریں محسوس کیں،دونوں کیلئے یہ منظر واقعی قابل دید تھا کیونکہ راحت کیمپ میں لوگ روز ہی اپنی آنکھوں سے دہلی کے فساد میں تباہ حال اور لٹے پٹے متاثرین کے چہروں پر کرب والم کی تصویریں دیکھتے اور ہر ممکن طریقے سے ان کی دلجوئی کی کوشش کرتے۔راحت کیمپ میں اگر کچھ سنائی دیتا تو وہ مظلوموں کی درد بھری کہانی اور آہ و فغاں کی سسکیاں۔مگر وقت تلخ یادوں اورکڑوے تجربات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے اور زندگی کا پہیہ ایک مرتبہ پھر گردش کرنے لگتا ہے۔آج کیمپ میں شبینہ کو دلہن بناکر رخصت کرتے وقت لوگوں کے چہروں پرکچھ ایسی ہی خوشی دیکھی گئی۔متاثرین کو دیکھ کر لگا کہ ان میں امیدیں اور آرزوئیں ایک ساتھ پھر انگڑائیاں لے رہی ہیں اور وہ مستقبل کا استقبال کرنے کے لئے خود کو تیار کر رہے ہیں۔دہلی وقف بورڈ فساد کے بعد روز اول سے ہی متاثرین کی راحت رسانی میں مصروف ہے اور ہر ممکن طریقہ سے متاثرین کی دلجوئی و راحت رسانی وقف بورڈ کے افسرکرنے میں مشغول ہیں جنھیں بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کی سخت ہدایات ہیں کہ کسی متاثر کی داد رسی میں کوئی لاپرواہی نہ ہونے پائے۔دلہن بنی شبینہ بنت یامین انساری کو چیئرمین امانت اللہ خان نے کل ہی اپنی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ روپیہ کے عطیہ سے نوازااور کیمپ میں بھی تقریبا 50ہزار روپیہ جمع کرکے متاثرہ کے جہیز کا ضروری سامان تیار کیا گیااورخوشی خوشی ساری رسموں کی ادائگی کے بعد شبینہ کو اس کے دولہے شاہنواز انصاری کے ساتھ رخصت کردیاگیا۔کیمپ میں راحت رسانی کا کام دیکھ رہے وقف بورڈ کے افسر محمد عمران نے بتایا کہ شبینہ بنت محمد یامین انصاری کل 5بہنیں اور تین بھائی ہیں۔تین بڑی بہنوں اور ایک بھائی کی شادی ہوچکی ہے جبکہ خود شبینہ کی سگائی شاہنواز کے ساتھ ہوچکی تھی اور دو ماہ بعد رخصتی ہونی تھی۔عمران نے آغے بتایاکہ ابھی متاثرہ کا خاندان شادی کی تیاری کر ہی رہاتھا اور جہیز کا سامان جمع کرنے میں مصروف تھا کہ شمال مشرقی دہلی میں فسادات ہوگئے جسمیں شیو وہار کی رہنے والی شبینہ کا گھر بھی لوٹ لیا گیاجس کے بعد متاثرہ اپنے خاندان کے ساتھ مصطفی باد راحت کیمپ میں آکر رہنے لگی۔عمران کے مطابق حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے محمد یامین انساری نے اپنی بیٹی کو دو ماہ پہلے ہی رخصت کرنے کا فیصلہ کیا اور کیمپ کے ذمہ داروں کو اپنی منشاء بتائی جس کے بعد وقف بورڈ نے ساری ضروری تیاریاں کیں اور متاثرہ کے دہیز کے لئے ضروری سامان خریدا گیااس طرح خوشی خوشی شبینہ کی کیمپ سے دلہن بناکر رخصت کردیا گیا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close