عجیب و غریب

عجیب وغریب ملک، پردےمیں رہتےہیں مرد، اندھیراہونےپرکرتے ہیں یہ کام ، خواتین کو شادی سے پہلے ہی کسی بھی مرد سے ۔۔۔

دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں رہنے والی برادریوں کے اپنے الگ الگ عقائد (Weird Traditions of Tribes) ہوتے ہیں جو صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں گاؤں شہر بن گئے اور لوگوں نے اپنے پرانے رسم و رواج (Old Rituals Arround the World) کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئے ہیں اور دوسری طرف بہت سی ایسی برادریاں آج بھی موجود ہیں جو اپنے پرانے رسم و رواج (Tribes Following Old Customs) پر چل رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک کمیونٹی افریقہ کے سہارا (Tribes in Sahara Desert, Africa) میں رہتی ہے جہاں خواتین کو شادی سے پہلے ہی کسی بھی مرد سے جسمانی تعلقات قائم (Woman Free to have physical relation before marriage) کرنے کی آزادی ہے۔
شمالی افریقہ (North Africa) کے مالی، نائجر، لیبیا، الجیریا جیسے ممالک میں تقریباً 20 لاکھ افراد کی آبادی والا ایک قبیلہ ہے جس کا نام Tuareg Tribe Africa ہے۔ یہ ایک مسلم قبیلہ ہے لیکن دیگر مسلم قبائل کی طرح اس قبیلے کی خواتین کو بھی اتنی آزادی ہے کہ عورتیں بغیر برقعے کے رہتی ہیں اور شادی سے پہلے کسی بھی مرد (Tuareg Men live in Burqa) کے ساتھ سیکس کر سکتی ہیں۔

africa tuareg tribe tradition

یہاں کے مرد پردے میں  کیوں رہتے ہیں؟
تواریگ قبیلے کی ایک اور انوکھی بات یہ ہے کہ خواتین مکمل طور پر آزاد ہیں لیکن مردوں کو پردے میں رہنا پڑتا ہے۔ انہیں اپنے چہرے برقع کی طرح  ڈھکے رہنا پڑتا ہے۔ گارجین ویب سائٹ کے فوٹوگرافر ہنریٹا بٹلر  Henrietta Butler  نے 2001 میں پہلی بار تواریگ قبیلے کی تصویر کھینچی تھی۔ تب انہوں نے مردوں سے پوچھا تھا کہ ایسا کیوں ہے کہ مرد پردے میں رہتے ہیں اور عورتیں بے پردہ رہتی ہیں؟ پھر مردوں نے کہا کہ ان کے قبیلے کی عورتیں خوبصورت ہیں اس لیے وہ ہمیشہ ان کا خوبصورت چہرہ دیکھتے چاہتے ہیں۔

africa tuareg tribe tradition 1

شادی سے پہلے خواتین بنا سکتی ہیں کئی پارٹنر سے تعلقات، دے سکتی ہیں طلاق
تواریگ خواتین کے ایک سے زیادہ پارٹنر  (Tuareg women multiple partners) ہو سکتے ہیں اور وہ شادی سے پہلے بھی جسمانی تعلقات بنا سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ مرد اندھیرے کے بعد ہی ان کے  خیموں میں داخل ہو سکتے ہیں اور سورج نکلنے سے پہلے ہی باہر آنا ضروری ہے۔ قبیلے کی عورتیں اپنی مرضی سے شادی کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کا انتخاب خود کرتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم قبائل کی خواتین اپنے شوہروں کو خود بھی طلاق دے سکتی ہیں۔ طلاق کے بعد خاتون کے گھر والے بڑی پارٹی کرتے ہیں۔ یہاں بالغ ہونے کے بعد مردوں کو پردے میں عورتوں کے سامنے رہنا پڑتا ہے اور ان کے سامنے کھانا کھانے پر پابندی ہے۔

(نیوز۱۸اردو کے شکریہ کے ساتھ)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ کاخیرمقدم ہے، اپنے مضامین ومقالات،ادب و کالم اور خبریں ہمیں نیچے دیئے گئے میل پر ارسال فرماکر ممنون ہوں info@hindustanurdutimes.com

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close

adana escort adıyaman escort afyon escort ağrı escort aksaray escort amasya escort ankara escort antalya escort ardahan escort artvin escort aydın escort balıkesir escort bartın escort batman escort bayburt escort bilecik escort bingöl escort bitlis escort bolu escort burdur escort bursa escort çanakkale escort çankırı escort çorum escort denizli escort diyarbakır escort düzce escort edirne escort elazığ escort erzincan escort erzurum escort eskişehir escort gaziantep escort gebze escort giresun escort gümüşhane escort hakkari escort hatay escort ığdır escort ısparta escort istanbul escort izmir escort izmit escort kahramanmaraş escort karabük escort karaman escort kars escort kastamonu escort kayseri escort kilis escort kırıkkale escort kırklareli escort kırşehir escort kocaeli escort konya escort kütahya escort malatya escort manisa escort mardin escort mersin escort muğla escort muş escort nevşehir escort niğde escort ordu escort osmaniye escort rize escort sakarya escort samsun escort şanlıurfa escort siirt escort sinop escort şırnak escort sivas escort tekirdağ escort tokat escort trabzon escort tunceli escort uşak escort van escort yalova escort yozgat escort zonguldak escort