دہلی

عبدالقیوم انصاری : ایک تاریخ ساز شخصیت اوران کی لازوال خدمات

یکم جولائی کی تاریخ ہر سال عظیم قومی رہنما عبدالقیوم انصاری کی یوم پیدائش کے تعلق سے ان کی یاد کا دن ہے اور سال رواں میں آج ان کی یوم پیدائش ہے۔ ان کی سیاسی سرگرمی بہار تک ہی محدود نہیں رہی۔ وہ قومی سیاست میں بھی متواتر سرگرم رہے۔ ان کے گذر جانے سے ملک کو بڑا صدمہ پہنچا تھا اور ایک عظیم قومی خسارہ ہوا کہ اس سانحہ سے جو خلاء پیدا ہوا وہ اب تک پر نہیں ہو سکا۔ اسے ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی تاریخ ساز شخصیت اور ان کے لازوال کارناموں سے متعلق ایک جائزہ لیا گیا۔
تقسیم سے پہلے کے متحدہ بھارت اور آزادی کے بعد منقسم بھارت میں قریب نصف صدی پر محیط عبدالقیوم انصاری کی سیاسی سرگرمی کی وابستگی بھارتی قومیت سے برابر قائم رہی اور اس اعتبار سے سبق آموز رہی اور ہے۔ انہوں نے تقسیم ہند کی شدید مخالفت کی اور قومی سیاست میں وہ حب الوطنی، قومی پروری اور صحیح و صالح رہنمائی کے جو نقوش چھوڑ گئے وہ ہمیشہ باقی رہیں گے اورہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔ اور انہوں نے آنے والی نسلوں کیلئے رہنمائی اور آگہی سے ملک و قوم کی ہمہ جہت ترقی اور اسے برقرار رکھنے اور معیاری سیاست کی سمت میں کارآمد اور نتیجہ خیز سرمایہ ثابت ہوگا۔
عبدالقیوم انصاری قومی اتحاد و یکجہتی، ایک قومی نظریہ یعنی متحدہ بھارتی قومیت، سیکولرازم کی بقاء، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے استحکام کیلئے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی پیدائش یکم جولائی 1905 کو بمقام ڈہری اون سون میں ہوئی جو بہارکے قدیمی شاہ آباد ضلع کے بجائے موجودہ روہتاس ضلع میں واقع ہے اور انڈین نیشنل کانگریس پارٹی سے ان کی سیاستی وابستگی رہی۔ وہ کمسنی میں ہی تحریک آزادی سے جڑ گئے۔ انہوں نے حامیوں کے ساتھ ڈہری اون سون کا سرکاری اسکول ترک کیا اور ان طلباء کیلئے وہ ایک قومی اسکول کے قیام میں لگ گئے جنہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے اعلان پر سرکاری اسکول کا مقاطعہ کیاگیاتھا۔ برطانوی حکومت کی مخالفت میں عدم تعاون اور خلافت کی تحریکوں میں حصہ لینے کے باعث انہیں سولہ سال کی کم عمر میں ہی گرفتارکرکے سہسرام جیل بھیج دیا گیا۔ ستمبر1920 میں تحریک عدم تعاون سے متعلق کلکتہ میں ہوئے کانگریس کے خاص اجلاس میں وہ سب سے کم عمر کے کانگریس ڈیلیگیٹ کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ انہوں نے 1928 میں کلکتہ میں صرف انگریزوں پر مشتمل سائمن کمیشن کی آمد کے دوران اس کے خلاف ہوئے طلباء کے زوردار احتجاج میں حصہ لیا۔
عبدالقیوم انصاری نے مسلم لیگ کی مسموم فرقہ وارانہ پالیسیوں اور ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے متعلق اس کے مطالبہ کی زبردست مخالفت کی۔ انہوں نے مسلم لیگ کے اس دعوے کی بھی شدید مخالفت کی کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کی واحد نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے 1937-38 میںمسلم لیگ کی فرقہ وارانہ پالیسی کے دفعہ کرنے کے مقصد سے مومن تحریک شروع کی اور پسماندہ مومن جماعت کی سماجی، سیاسی و اقتصادی فلاح و ترقی او سربلندی کیلئے بھی جو اس وقت بھارت کی کل مسلم آبادی نصف تھی مومن تحریک فعال رہی۔
جداگانہ حق رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے 1946 کے بہار صوبائی اسمبلی انتخاب میں عبدالقیوم انصاری اور ان کے پانچ رفقا کار مومن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے اسمبلی کی چالیس مسلم نشستوں میں چھ پر مسلم لیگ کے خلاف کامیاب ہوئے۔ اس اسمبلی انتخاب میں کانگریس پارٹی صرف ایک مسلم نشست مومن کانفرنس کی حمایت سے حاصل کرسکی تھی۔ نتیجتاً عبدالقیوم انصاری کی بہار کابینہ میں شمولیت واحد مومن اور غیر کانگریسی وزیر کی حیثیت سے ہوئی۔ مولانا ابولکلام آزاد کی منشا اور تجویز کے برخلاف سردار ولبھ بھائی پٹیل کی مداخلت اور حمایت سے صوبہ بہار کی وزارت میں کابینہ کے وزیر کی حیثیت سے محب وطن و قوم عبدالقیوم انصاری کی شمولیت ناگزیر ہوگئی۔
وزیرمقرر کئے جانے کے کچھ عرصہ بعد مومن تنظیم سے صلاح و مشورہ کرکے عبدالقیوم انصاری نے سیاسی تنظیم انڈین نیشنل کانگریس کے عہد نامہ پر دستخط کئے اور مومون کانفرنس کی حیثیت ایک علاحدہ سیاسی تنظیم کی نہیں رہی بلکہ مومن کانفرنس پہلے کی طرح ایک سماجی اور اقتصادی تنظیم بن گئی۔ملک کے تبدیل شدہ حالات کے مد نظر یہ فیصلہ کرنا صحیح رہا۔ آزاد بھارت میں بھی مومن جماعت جو مجموعی آبادی کے نصف حصہ پر مشتمل ہے ملک کی سیاست میں سرگرم رہ سکے گی۔
عبدالقیوم انصاری کی رہنمائی میں آل انڈیا مومن کانفرنس نے مہاتما گاندھی کی رہنمائی میں کانگریس کی حمایت کی۔ انہیں یقین تھا کہ کانگریس ایک متحدہ بھارت کی اذادی کیلئے اور سماجی مساوات، سیکولرازم اور جمہوریت کے قیام اور ان کی نشو و نما کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے بنکر جماعت اور دیگر دستکارجماعتوں کی اقتصادی فلاح اور ملک کی صنعت پارچہ بافی(ٹیکسٹائل انڈسٹری) میں ہتھ کرگھا (ہینڈلوم) سیکٹر کے فروغ کیلئے بھی کوششیں کیں۔
غیر منقسم بھارت کے سیاسی حالات کا مطالعہ کرنے کیلئے سر اسٹیفرڈ کرپس 1939 میں جواہر لال نہرو سے الہ آباد میں آنند بھون میں ملے اور دریافت کیا کہ وہ کون مسلم رہنما ہیں جو مسلم عوام کی ترجمانی اور مسلم لیگ کے خلاف کانگریس کی قومی تحریک کی حمایت کرتے ہیں؟۔ جواہر لال نہرو نے کرپس سے جن مسلم رہنمائوں کے ناموں کا ذکر کیا ان میں ایک نام مومن تحریک کے رہنما عبدالقیوم انصاری کا تھا۔ انہوں نے الہ آباد میں آل انڈیا مومن کانفرنس کی جانب سے مومن جماعت کے سیاسی نظریات اور مطالبات کے تعلق سے ایک یادداشت کرپس کی خدمت میں پیش کی تھی۔
عبدالقیوم انصاری کا ایک بہت اہم تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ ان کی رہنمائی میں آل انڈیا مومن کانفرنس نے جو غیر منقسم بھارت میں مومن جماعت کے کروڑوں افراد کی نمائندہ تنظیم رہی اعلان کیا کہ مومن جماعت کانگریس کی حمایت کرتی ہے۔ مومنوں کی حمایت سے کانگریس کی قومی حیثیت قائم اور برقرار رہی۔
عبدالقیوم انصاری کا اہم ترین سیاسی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں آل انڈیا مومن کانفرنس کی تنظیم اور مومن تحریک کے ذریعہ مسلم لیگ کی مسموم فرقہ وارانہ پالیسی کے خلاف بھارتی مسلمانوں کی کل آبادی کے نصف پر مشتمل مومن جماعت کو بیدار اور صف آراء کیا اورقومی تحریک کو مضبوط کیا۔
عبدالقیوم انصاری پہلے بھارتی مسلم رہنما تھے جنہوں نے اکتوبر 1947 میں کشمیر پر پاکستانی حملے کی مذمت کی اور پوری طاقت سے مسلم عوام کو بیدار کیاکہ وہ سچے بھارتی شہریوں کی حیثیت سے حملے کی مخالفت کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے علاقوں کو آزاد کرانے کیلئے 1957 میں انڈین مسلم یوتھ کشمیر فرنٹ قائم کیا۔ اس سے پیشتر انہوں نے ستمبر 1948 کے دوران حیدر آباد کے رضاکاروں کی بھارت مخالف بغاوت کے تعلق سے بھارتی مسلمانوں سے حکومت ہند کی حمایت کرنے کی تاکید کی۔ وہ بھارت کے پہلے رہنما تھے جنہوں نے قیام بنگلہ دیش اور انقراض مشرقی پاکستان کو مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کی نفی وتردید قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں علاقائیت کا جذبہ پنپ رہا ہے اور یہ امکان ہوگیا ہے کہ دو قومی نظریہ تاریخ کے خاکدان کی نظر ہوجائے گا۔ وہ پسماندہ جماعتوں کی تعلیمی اور خواندگی کی مہم سے جڑے رہے اور انہیں کی کوششوں سے 1953 میں حکومت ہند نے پہلے آل انڈیا بیکورڈ کلاسیز کمیشن کی تشکیل کی۔
عبدالقیوم انصاری تقریباً 17 برسوں تک بہار کابینہ میں وزیررہے اور اہم قلمدان وزارت پر فائز رہے اور پوری اہلیت سے اپنی ذمہ داری نبھائی اور بے لوث خدمت و دیانت داری کی مثال قائم کی۔
عبدالقیوم انصاری عوام کے آدمی تھے اور 18 جنوری 1973 کو وہ عوام کی خدمت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔ جب بہار کے ضلع روہتاس کے امیاور گاوں میں ڈہری-آرہ نہر کے ٹوٹ جانے سے ہوئے نقصان کا جائزہ لے رہے تھے اور بے خانما ہوئے لوگوں کیلئے راحت کا انتظام کر رہے تھے۔
ہمایوں کبیر نے اپنی کتاب ’’مسلم پالیٹیکس 1909 سے 1947 تک‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ ’’ایک طرح سے مومن انصاری کانفرنس کا ارتقا بڑی اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ مومنوں کی تعداد ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں اکثریت کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ امر واقعی بہت اہم ہے کہ مومن جماعت جو مسلمانوں میں انتہائی پسماندہ جماعت ہے، کانگریس کے اغراض و مقاصد سے نہ صرف مکمل ہمدردی رکھتی ہے بلکہ اس کی ہمنوا اور حلیف بھی ہے۔‘‘
عبدالقیوم انصاری مومن جماعت کے ہی رہبر نہیں بلکہ ایک قومی رہنما رہے اور ان کی رحلت پر ان کے سیاستی اور تاریخی وقار کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم محترمہ اندراگاندھی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا تھا’’انصاری صاحب کی اچانک وفات کی خبر سن کر مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ مومن جماعت جو ایک محنتی اور باصلاحیت طبقہ ہے ایک عرصہ سے اقتصادی پسماندگی کا شکار تھی۔ انصاری صاحب نے بہت زیادہ حد تک ان کے مسائل کو حل کیا۔ لیکن وہ صرف مومن جماعت کے رہبر نہ تھے بلکہ جنگ آزادی کے بطل جلیل اور فرقہ وارانہ طاقتوں کے شدید مخالف ہونے کی حیثیت سے انہوں نے قومی وقار حاصل کیاتھا۔ وہ عوام کے آدمی تھے اور اپنے خلوص و بے لوث خدمت کیلئے کافی مشہور و معروف تھے۔ ان کی وفات سے بہار، بھارت اور ہر طبقہ کے عوام نے ایک گرانقدر رہنما کھودیا ہے اور ہم تمام لوگوں نے ایک رفیق گرانمایہ کو ہمیشہ کیلئے الوداع کہا ہے۔‘‘
آخر میں ملک اور قوم کیلئے عظیم المرتبت تاریخ ساز شخصیت عبدالقیوم انصاری کے لازوال تاریخی کارناموں کے پیش نظر عزت مآب وزیراعظم نریندر مودی سے پرزور گذارش ہے کہ وہ انہیں بعد ازمرگ ’بھارت رتن‘ کے قومی اعزاز سے نوازنے کی خاطر مناسب فیصلہ صادر کرنے پر غور فرمائیں کہ اس ضمن میں بالعموم بھارت کے عوام اور بالخصوص ملک کے پسماندہ طبقات کے کثیرالتعداد عوام الناس کی مدتوں سے نظرانداز کی گئی امید اور امنگ کی تکمیل ہوسکے۔
حکومت بہار سے مطالبہ ہے کہ عبدالقیوم انصاری کے نام سے بہار میں یاد گار کا قیام کیا جائے، ان کے نام سے اسکول،کالج کھولا جائے اور نصاب کی کتابوں میںان کے کارناموں کو جو انہوں نے ریاست بہار اور ملک بھارت کی ترقی اور آپسی یکجہتی کیلئے انجام دیئے ہیں۔

٭٭٭٭٭
بے۔نظیر انصار ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی
اُسیا رسورٹ(کوینس ہوم) کوہِ فضا، احمدآباد پیلس روڈ، بھوپال۔۴۶۲۰۰۱(ایم۔پی)
ای۔میل:- taha2357ind@gmail.com
Source:- social-media/vikipedia/whatsapp-etc

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button