دیوبند

ضلع پنچایت انتخاب میں آزاد امیدوار سنگیتا دیوی نے بی جے پی حمایت یافتہ امیدوار کو 367ووٹوں سے شکست دی

اس انتخاب میں سماج وادی پارٹی کی گروپ بندی کھل کر سامنے آئی

دیوبند، 6؍ اگست (رضوان سلمانی) ضلع پنچایت کے سہارنپور کے وارڈ نمبر 43کے ضمنی انتخاب میں آزاد امیدوار سنگیتا دیوی نے 3416ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے اپنے مدِّمقابل بی جے پی کے حمایت یافتہ کارتک پنڈیر کو 367ووٹوں سے ہرایا ، جب کہ کارتک کو 3094ووٹ حاصل ہوئے ۔ وہیں سماج وادی پارٹی حمایت یافتہ آشا لتا 2801ووٹ حاصل کرکے تیسرے مقام پر رہی ۔ انتخاب کے نتائج نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ سماج وادی پارٹی اپنے بل بوتے پر پنچایت انتخاب میں کوئی کرشمہ نہیں دکھا پائی ۔

اس انتخاب میں سماج وادی پارٹی کی گروپ بندی نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ کل سہارنپور میں واقع گوری شنکر اندر پال سنگھ انٹر کالج میں ہوئی ضلع پنچایت کے وارڈ نمبر 43کے ممبر کے عہدے کے لئے گنتی ہوئی ۔ اس وارڈ کے لئے نوامیدوار انتخابی میدان میں تھے ، سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان گنتی شروع ہوئی ۔ اس انتخاب میں سنہٹی کھڑکھڑی کی رہنے والی سنگیتا دیوی نے کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے اپنے مدِّمقابل بی جے پی حمایت یافتہ کارتک پنڈیر سے 367ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ۔ تیسرے مقام پر آشا لتا رہیں ، انہوںنے 2801ووٹ حاصل کئے ، آشا لتا اس وارڈ سے پہلے بھی ضلع پنچایت رکن منتخب ہوچکی ہیں۔ گنتی کے دوران حفاظتی انتظامات سخت رہے، بڑی تعداد میں پولیس فورس موقع پر موجود رہی ۔ اس الیکشن میں اسمبلی رکن آشو ملک اور سابق اسمبلی رکن عمران مسعودی عزت دائوں پر لگی تھی ، دونوں گروپوں کے امیدواروں کو شکست ملی ۔

ضلع پنچایت رکن کے ضمنی انتخاب میں سماج وادی پارٹی کی گروپ بندی کھل کر سامنے آئی ، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق اسمبلی رکن عمران مسعود ، سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر ڈاکٹر راغب انجم اور ایم ایل سی شاہنواز خا ن نے آشا لتا کا پرچہ داخل کرایا تھا جس کے بعد سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم پٹیل نے اونیش کمار تیاگی کو اپنا امیدوار بنایا تھا ، اونیش تیاگی کا پرچہ سماج وادی پارٹی کے سہارنپور دیہات اسمبلی حلقہ کے اسمبلی رکن آشو ملک گروپ نے داخل کرایا تھا ، اس کے ساتھ راشٹریہ لوک دل کے ضلع صدر رائو قیصر علی بھی تھے ،

پرچہ نامزدگی کے بعد دونوں امیدواروں کو لے کر سماج وادی پارٹی کی گروپ بندی سامنے آئی ، دونوں گروپوں نے اپنے اپنے امیدوار کے لئے زبردست انتخابی تشہیر کی ۔ عمران مسعود نے تشہیر کے دوران پارٹی کے قومی صدر سے لے کر اسمبلی رکن آشو ملک ، سابق اسمبلی رکن مسعود اختر پر زبردست حملہ کئے ، عمران مسعود اور آشو ملک کی بیان بازی کی ویڈیو وائرل ہوتے رہے ، انتخاب میں دونوں ہی لیڈران کی عزت دائوں پر تھی، مگر دونوں گروپوں کے امیدواروں کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر سماج وادی پارٹی کے لیڈران متحد ہوکر کسی ایک امیدوار کو انتخاب لڑاتے تھے تو ا نہیں کامیابی حاصل ہوسکتی تھی ۔ سماج وادی پارٹی حامی دونوں امیدواروں کو کل ملاکر 4371 سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں ۔

اس الیکشن میں آئی ایم آئی ایم کے امیدوار بلال کو 1573ووٹ ملے ہیں اور انہوںنے اس انتخاب میں دوسرے امیدواروں کو سوچنے پر مجبور کردیا ۔ اس ضمنی انتخاب میں کامیاب ہونے والی امیدوار سنگیتا دیوی کو 3461، دوسرے نمبر پر رہنے والے کارتک پنڈیر کو 3094، تیسرے نمبر پر رہنے والی آشا لتا کو 2901، چوتھے نمبر پر رہنے والے سمت کمار کو 2618، پانچویں نمبر پر محمد بلال کو 1573، چھٹے نمبر پر رہنے والے اونیش تیاگی کو 1570، ساتویں نمبر پر سرویش کمار کو 1309، آٹھویں نمبر پر رہنے والے گھنشیام کو 1227، نویں نمبر رہنے والے سدھیر کمار کو 645 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button