شوبز

سوشانت کے والد نے ریاچکرورتی پر لگائے حیران کن الزام ، سشانت کا لیپ ٹاپ ، موبائل ، ہارڈ ڈسک اپنے پاس کیوں لی گئی ریا ؟ بینک اکاؤنٹ سے خلاصہ

ممبئی 30 ؍جولائی ( ہندوستان اردو ٹائمز ) اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی معاملے میں جوں جوں جانچ آگے بڑھ رہی ہے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں ، سوشانت سنگھ راجپوت کے گھر والے اور ان کے وکیل نے ریا چکرورتی پر جو الزام لگائے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ ریا چکرورتی ہی اس پورے معاملے کی ویلن ہیں ، اور ریا پر ہی شک کی سوئی گھوم رہی ہے ۔

Sushant Singh Rajput's father files FIR against Rhea Chakraborty ...

ذرائع کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت پچھلے تین مہینے سے ریا چکرورتی سے کافی ڈر رہے تھے ، ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ریا چکرورتی پر  شک اس وجہ سے بھی ہورہا ہے کہ ریا نے سشانت سنگھ کا لیپ ٹاپ ، موبائل ، ہارڈ ڈسک اپنے ساتھ لے گئی تھی ،

اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ریا چکرورتی سشانت سنگھ کا لیپ ٹاپ ، موبائل ، ہارڈ ڈسک اپنے ساتھ  کیوں لے گئی تھی؟

پولس نے یہ دعوی کیا ہے کہ انہیں کچھ جانکاریاں ملی ہیں ، لیکن سب سے پہلے لیپ ٹاپ ، موبائل ، ہارڈ ڈسک حاصل کرنا ضروری ہے

بہار پولس نے ممبئی میں کوٹک مہیندرا بینک پہنچی جہاں سشانت سنگھ کے بینک اکاؤنٹ ہیں ، جانکاری ملی کہ سشانت کے بینک اکاؤنٹ سے پندرہ کروڑ روپے ریا کی کمپنی کے  الگ الگ اکاؤنٹ میں گئے ہیں

Sushant Singh Rajput's father files FIR against Rhea Chakraborty ...

یہ بھی جانکاری ملی ہے کہ جنوری 2019 میں سشانت سنگھ کے کوٹک ہیندرا بینک اکاؤنٹ سات کڑوڑ روپے تھے جو موت کے وقت صرف ڈھائی کڑوڑ روپے بچ گئے تھے ، آخر کس نے یہ پیسے خرچ کیئے ، شک ہے کہ ریا نے خرچ کیئے ہوں گے

سوشانت سنگھ راجپوت کے والد نے الزام لگایا ہے کہ بینک اکاؤنٹ کے اسٹیٹ مینٹ سے پتا چلا ہے کہ سترہ کروڑ روپے میں سے پندرہ کروڑ روپے ایک سال میں نکال لیئے گیئے ، اس اکاؤنٹ سے پیسے ایسے اکاؤنٹ میں گئے جس اکاؤنٹ سے میرے بیٹے کا کوئی لینا دینا نہیں ہے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے بیٹے کے سارے اکاؤنٹ کی جانچ کی جائے تاکہ معلوم ہو کہ میرے بیٹے کے اکاؤنٹ سے اور کریڈٹ کارڈسے کتنا پیسہ ریا نے اپنے دوستوں کی مدد سے اور اپنی چالبازی سے ٹھگا ہے

 

خبر رساں ایجنسی کے بھاشا انپٹ کے ساتھ

 

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close