ممبئی

شندے سرکار کے فلورٹیسٹ پر روک کی درخواست پر فوری سماعت نہیں

نئی دہلی، یکم جولائی (ہندوستان اردو ٹائمز) شیوسینا کے باغی دھڑے کے لیڈر ایکناتھ شندے کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی مہاراشٹر میں سیاسی بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ سیاسی اور قانونی دائو کا سلسلہ جاری ہے۔سنیل پربھو کی قیادت میں ادھو ٹھاکرے کیمپ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس میں ایکناتھ شندے سمیت 16 ایم ایل ایز کو اسمبلی سے معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا جب تک کہ ان کی نااہلی کی کاروائی کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔سنیل پربھو نے ان سب کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روکنے کی ہدایت دینے کی بھی درخواست کی۔

تاہم عدالت نے اس معاملے کی فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔شیوسینا کے چیف وہپ سنیل پربھو نے آج سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں سی ایم شندے اور ان کی حمایت کرنے والے 15 ایم ایل ایز کو کل ایوان میں داخل ہونے سے روکنے کی درخواست کی گئی۔پارٹی کا کہنا ہے کہ جب تک ان ایم ایل اے کو ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے موصول ہونے والے نااہلی نوٹس پر فیصلہ نہیں ہوتا، تب تک انہیں اسمبلی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ شندے کو بھی اس وقت تک فلورٹیسٹ سے روک دیا جائے۔ چونکہ مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس 2 اور 3 جولائی کو ہوگا اور سپریم کورٹ نے تازہ درخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا ہے، اس لیے شندے کو فی الحال ایک بڑی راحت ملی ہے۔شیوسینا کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے آج سپریم کورٹ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا اور جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔

سپریم کورٹ نے جلد سماعت سے انکار کر دیا اور کہا کہ 11 جولائی کو درخواست پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے دیے گئے نااہلی کے نوٹس کو شندے کی قیادت میں باغی گروپ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 11 جولائی کو مقرر کر دی۔ایم ایل اے کی نااہلی پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، اس لیے ان کی مقننہ برقرار ہے۔ اس سے پہلے شیوسینا نے گورنر بی سی کوشیاری کے اسمبلی کا اعتماد ادھو ٹھاکرے حکومت کو حاصل کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔گورنر کوشیاری نے اس وقت کے سی ایم ادھو ٹھاکرے کو 30 جون کو اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس پر سپریم کورٹ نے 29 جون کو طویل بحث کے بعد گورنر کے حکم کو برقرار رکھا تھا اور اس کے فوراً بعد ٹھاکرے نے وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 29 جون کو ٹھاکرے کے سی ایم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد، اعتماد کے ووٹ کی ضرورت نہیں تھی اور 30 جون کی شام کو شیو سینا کے باغی لیڈر شندے کو گورنر نے عہدے کا حلف دلایا۔

 

مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کے استعفیٰ کے بعد ایکناتھ شندے نے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے، جس کے بعد اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، لیکن شیوسینا نے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔شیوسینا کی جانب سے چیف وہپ سنیل پربھو نے سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے کہ جب تک سپریم کورٹ ایم ایل اے کی نااہلی پر فیصلہ نہیں دیتی، تب تک اسمبلی میں نئی حکومت کے فلور ٹیسٹ پر روک لگا دی جائے۔اپنی اپیل میں شیوسینا لیڈر نے سپریم کورٹ میں جاری سماعت کا ذکر کیا ہے۔ جس میں ایم ایل اے کی نااہلی کے حوالے سے 12 جولائی تک جمود برقرار رکھنے کو کہا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد نئی حکومت نے حلف اٹھا لیا ہے۔شیوسینا نے سپریم کورٹ سے جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ گورنر کی جانب سے کل یعنی 2 جولائی کو قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔ جس میں شندے دھڑے کو اپنی اکثریت ثابت کرنا ہوگی۔ لیکن اب شیوسینا نے ایک بار پھر اس اکثریتی امتحان پر روک لگانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button